Dure-Mansoor - Al-Haaqqa : 36
وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ غِسْلِیْنٍۙ
وَّلَا طَعَامٌ : اور نہ کوئی کھانا اِلَّا مِنْ غِسْلِيْنٍ : مگر پیپ کا۔ زخموں کے دھون کا
اور نہ غسلین کے علاوہ کوئی کھانا ہے
1۔ ابن ابی حاتم وابو القاسم الزجاجی النحوی فی امالیہ مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ غسلین کیا ہے۔ لیکن میں اس کو زقوم کا درخت گمان کرتا ہوں۔ 2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت غسلین سے مراد ہے خون اور پانی جو دوزخ والوں کے گوشت سے بہے گا۔ 3۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی بن ابی طلیحہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت غسلین سے مراد ہے دوزخ والوں کی پیپ غسلین سخت بدبو دار ہے 4۔ الحاکم وصححہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اگر غسلین میں سے ایک ڈول دنیا میں بہادیا جائے گا تو سارے دنیا والوں کو بدبو دار کردے۔ 5۔ ابن المنذر نے ابن جریج کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ غسلین ایک کھانے کا نام ہے آگ کے کھانوں میں سے۔ 6۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ غسلین آگ میں ایک درخت ہے۔ 7۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں صعصعہ بن صوحان (رح) سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی حضرت علی ؓ کے پاس آیا اور کہا یہ حرف کیسے ہیں آیت لا یاکلہ الا الخاطؤن اس کو نہیں کھاتے مگر قدم اٹھانے والے یعنی کھائیے اللہ تعالیٰ قدم کھولے ہوئے ہے تو علی ؓ ہنس پڑے اور فرمایا اے دیہاتی یہ الفاظ اس طرح ہیں۔ لا یاکلہ الا الخاطؤن خطا کاروں سے سوا اس کو کوئی نہیں کھائے گا۔ دیہاتی نے کہا اے امیر المومنین ! اللہ کی قسم ! آپ نے سچ فرمایا اور اللہ تعالیٰ نہیں ہیں کہ وہ اپنے بندے کو اس کے حوالے کردے۔ پھر علی ؓ ابو الاسود کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا یہ عجمی لوگ مکمل طور پر دین میں داخل ہوچکے ہیں پس تو لوگوں کے لیے ایسی چیز وضع کردیجیے کہ جن کے ذریعہ وہ اپنی زبانوں کی اصلاح اور درستگی پر دلیل پکڑ سکیں تو انہوں نے ان کے لیے پیش، زبر اور زیر کی حرکات مقرر کردیں۔
Top