Tadabbur-e-Quran - Al-Kahf : 90
بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ
بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِالْحَقِّ : سچی بات وَاِنَّهُمْ : اور بیشک وہ لَكٰذِبُوْنَ : البتہ جھوٹے ہیں
بلکہ ہم ان کے پاس حق لائے ہیں اور یہ بالکل جھوٹے ہیں
آیت 92-90 مذکورہ بالا سوال و جواب پر استدراک اب اس سارے سوال و جواب پر استدراک ہے کہ یہ جو کچھ مانتے ہیں یہ خود انکے اپنے اعترافات کے بالکل خلاف ہے اس وجہ سے ہم نے اس قرآن میں جو کچھ پیش کیا ہے یہ حق ہے اور یہ بالکل جھوٹے ہیں اس لئے کہ یہ خود اپنے منہ سے اپنے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔ خدا نے کسی کو اپنا بیٹا بنایا ہے، نہ کسی کو اپنی بیٹی اور نہ کوئی اس کا ساجھی اور شریک ہے۔ اگر اس کائنات کی تخلیق میں الہ بھی شریک ہوتے تو ہر الہ اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا اور یہ سارا نظام کب کا درہم برہم ہوچکا ہوتا۔ اس طرح کی خرافات جو بیہ باین کرتے ہیں یہ خدا کی اعلیٰ صفات کے بالکل منافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام غائب و حاضر کا خود علم رکھنے والا ہے تو اس کو ضرورت کیا ہے کہ وہ کسی کو اپنا شریک بنائے۔ وہ ان چیزوں سے برتر ہے جن کو یہ خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ یونانیوں اور ہندوئوں کی میتھالوجی میں ان کے دیوتائوں کی جو خوں ریز جنگیں مذکور ہیں یہاں ان پر بھی نظر رہے اور قدیم یونانیں کو یہ عقیدہ بھی نگاہ میں رہے کہ مرد کو سورج نے پیدا کیا ہے اور عورت کو زمین نے غور کیجیے کہ اگر سورج اپنے پیدا کئے ہوئے مردوں کو لے کر الگ ہوجائے تو زمین کی عورتوں کا کیا حشر ہوگا ! قرآن نے یہاں اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ کارخانہ کائنات قائم ہی اس وجہ سے ہے کہ اس میں ایک ہی خالق ومالک کا ارادہ کار فرما ہے۔ اگر اس میں دوسرے الہ بھی شریک ہوتے تو اس کا قیام و بقا ناممکن تھا۔
Top