Fi-Zilal-al-Quran - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے ؟ “
افحسبتم۔۔۔۔۔۔۔۔ لاترجعون ” معلوم ہونا چاہیے۔ حکمت تخلیق کا لازمی تقاضا ہے کہ بعث بعد الموت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا قیام مقدر کردیا ہے۔ اس کے مقاصد تدبیر کائنات کا حصہ ہیں۔ قیامت تخلیق کا منطقی نتیجہ ہے۔ بعث کے ساتھ تخلیق کائنات اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے اور مقصد تخلیق پورا ہوجاتا ہے۔ اس حقیقت سے وہی لوگ غفلت کرسکتے ہیں جن کے دلوں پر پردے آگئے ہوں اور جن کی فطرت مسخ ہوچکی ہو ‘ جو حکمت الہیہ پر کبھی غورو فکر کرنے کی تکلیف ہی نہیں کرتے حالانکہ یہ حکمت اس کائنات کے اندر بکھری پڑی ہے۔ سورة کا خاتمہ عقیدہ توحید کے اعلان پر ہوتا ہے اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے شرک کیا وہ عظیم خسارے میں پڑگئے جبکہ اہل توحید فلاح پائیں گے۔ نبی ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ اللہ سے مغفرت طلب کریں اور اللہ کی رحمت کے طلبگارہوں۔
Top