Fi-Zilal-al-Quran - Al-Muminoon : 90
بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ
بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِالْحَقِّ : سچی بات وَاِنَّهُمْ : اور بیشک وہ لَكٰذِبُوْنَ : البتہ جھوٹے ہیں
(جو امر حق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں ، اور کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں
بل اتینھم یشرکون (آیت نمبر 90 تا 92 ۔ ۔ یہ فیصلہ مختلف اسالیب میں آتا ہے ۔ ان کے ساتھ اس مباحثے کو ختم کردیا جاتا ہے اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ بل اتینھم بالحق اونھم لکذبون (23 : 90) ” جو امر حق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں اور کوئی شک نہیں ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔ اس کے بعد ان کے جھوٹ کی تفصیل دی جاتی ہے ما تخذ الہ (23 : 90) ” اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسراخدا اس کے ساتھ نہیں “۔ اور اس کے بعد پھر ان کے دعوے کے رو میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ان کے عقیدئہ شرک میں کس قدر کمزوری ہے۔ اذ لذھب کل الہ بما خلق (23 : 90) ” تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا ہے “۔ وہ اپنی مخلوقات میں ایک مستقل خدا ہوتا اور وہ اپنی مخلوقات میں اپنے مخصوص قانون قدرت کے مطابق تصرفات کرتا ۔ اس طرح مختلف کائناتوں میں مختلف قوانین نظر آئے اور وہ یہ دوسرے خدا کے قوانین نظر آئے اور وہ دوسرے خدا کے قوانین اور سے علیحدہ نظر آتے۔ پھر تضاد کی صورت میں۔ ولعلا بعضھم علی بعض (23 : 90) ” پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے “ تضاد کی صورت میں بعض خدا بعض پر غالب ہوتے ۔ یوں آخر کا ایک ہی خدا متصرف اور مقتدر اعلیٰ رہتا اور دنیا میں آخر کا ایک ہی نظام چلتا کیونکہ ایک ملک میں دو مقتدر اعلی تو نہیں ہوسکتے۔ چونکہ کائنات میں اس قسم کا تضاد نہیں ہے ، اس کی وحدت ساخت ، اور اس کی حرکت کی یانگت اور اس کے ناموس اور قانون قدرت کی وحدت اس با کی دلیل ہے کہ اس کا مقتدر اعلیٰ ایک ہے کیونکہ اس کا ئنات کے اندر اور اس کے اجزاء کے اندر کوی تصادم نظر نہیں آتا۔ یہ کامل ہم آہنگی کے ساتھ چل رہی ہے اس لیے اس کا رب اور متصرف بھی ایک ہے ۔ سبحن اللہ عما یصفون (23 : 90) ” وہ بالا تر ہے ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں “۔ وہ عالم الغٰب ہے اور عالم شہادت ہے ۔ اس کے سوا کسی اور کی کوئی مخلوق نہیں ہے اس لیے اللہ پاک ہے اس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کرتے ہیں۔ اب یہاں سے روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ اے محمد ؐ اس بات سے اللہ کی پناہ طلب کریں کہ ایسے لوگوں کے ساتھ آپ ؐ شامل ہوجائیں اگرچہ الل نے یہ فیصلہ کردیا کہ ان لوگوں کو جو سزا ملنے والی ہے وہ اللہ آپ کو دکھائے گا ۔ بہر حال آپ شیطان کے وسوسوں سے پناہ مانگیں اور یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں ان پر صبر کریں ۔
Top