Fi-Zilal-al-Quran - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ : فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اِمَّا تُرِيَنِّيْ : اگر تو مجھے دکھا دے مَا يُوْعَدُوْنَ : جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
اے نبی دعا کرو کہ ” اے پروردگار ‘ جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جارہی ہے وہ اگر میری موجود گی میں تو لائے
قل ربی ان یحضرون (آیت نمبر 92 تا 98) جب ان لوگوں کو وہ عذاب دیا جائے گا جس کی دھمکی ان کو دی جارہی ہے تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو اس سے نجات پائیں گے لیکن پھر بھی حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید محفوظ کرنے کے لیے دعا کرتے رہیں اور بعد کے آنے والے اہل ایمان کو بھی یہ ایک قسم کی تعلیم ہے کہ وہ اللہ کے عذاب اور شیطان کی چالوں سے مطمئن ہو کر نہ بیٹھ جائیں ۔ ہر وقت بیدار رہیں اور اللہ سے پناہ مانگتے رہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ حیات محمد ؐ کے دوران ہی ان پر عذاب لے آئے۔ وانا علی ان لقدرون (23 : 90) ” اور یہ کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے وہ چیز لانے کی قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی دے رہے ہیں “۔ اور غزوہ بدر میں اللہ نی نبی ﷺ کو اس کی ایک جھلکی دکھا بھی دی ۔ اس کے بعد فتح مکہ میں بھی ایک رنگ دکھایا گیا۔ ادفع یصفون (23 : 92) ” اے نبی ؐ ، برائی کو اس طریقے سے دفع کرو جو بہترین ہو ، جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں “۔ اس سورة کے نزول کے وقت مکہ مکرمہ میں دعوت اسلامی کے لیے یہ منہاج اختیار کیا گیا تھا کہ برائی کا دفعیہ بھلائی کے ساتھ کیا جائے ۔ اللہ کا حکم آنے تک صبر کیا جائے اور معالات اللہ کے سپرد کردیئے جائیں۔ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ دعا کہ اے رب میں تجھ سے شیطان کی اکساہٹوں سے پناہ مانگتا ہوں ، جب کہ آپ خدا کی طرف سے حفاظت میں تھے اور معصوم تھے ، یہ بات زیادہ احتیاط اور زیادہ تقویٰ کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ التجا اور امت کو تعلیم دینے کی خاطر ہے کیونکہ حضور ہی اپنی امت کے لیے اسوہ ہیں ۔ یہ دراصل امت کو تعلیم ہے کہ شیطان کو اکساہٹوں اور وسوسوں سے اللہ کی پناہ ہر وقت مانگتے رہو۔ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ ؐ شیطان کے قرب سے پناہ طلب کریں ۔ چناچہ کہا جاتا ہے۔ واعوذبک رب ان یحضرون (23 : 98) ” بلکہ میں تو اے رب ، اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے قریب آئیں “۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وفات کے وقت حضور ﷺ اس بات سے پناہ مانگتے ہوں کہ شیطان اس وقت آموجود ہو۔ اس آیت کے بعد اگلی آیت جو اگلے سبق میں ہے اس طرف اشارہ بھی کرتی ہے ۔ حتی اذا جاء احدھم الموت (23 : 99) ” یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے “۔ یہ قرآن کا انداز کلام ہے کہ ایک مفہوم سے دوسرامفہوم بڑی ہم آہنگی سے نکلتا چلا جاتا ہے۔ دحتی اذا۔۔۔۔۔۔۔۔ یبعثون (99 : 100) ”(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ ” اے میرے رب ‘ مجھ یا سی دنیا میں واپس بھیج دیجئے جسے میں چھوڑ آیا ہوں ؟ امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا۔ ہر گز نہیں ‘ یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ ہک رہا ہے۔ اب ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک “۔ اس آخری سبق میں بھی مشرکین کے برے انجام کی بات آگے بڑھ رہی ہے۔ اب یہ لوگ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں ہیں۔ اس میں آغاز دنیا میں روح قبض کرنے کے وقت سے ہوتا ہے اور نفعع صور پر ختم ہوتا ہے۔ آخر میں سورة کے اختتام پر اصل مضمون کی طرف آتے ہوئے اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ سورة کا خاتمہ اس ہدایت پر ہوتا ہے کہ خود حضور ﷺ اللہ کی مغفرت طلب فرمائیں۔
Top