Fi-Zilal-al-Quran - Hud : 71
اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا
اِذْ : جب جَآءُوْكُمْ : وہ تم پر آئے مِّنْ : سے فَوْقِكُمْ : تمہارے اوپر وَمِنْ اَسْفَلَ : اور نیچے سے مِنْكُمْ : تمہارے وَاِذْ : اور جب زَاغَتِ الْاَبْصَارُ : کج ہوئیں (چندھیا گئیں) آنکھیں وَبَلَغَتِ : اور پہنچ گئے الْقُلُوْبُ : دل (جمع) الْحَنَاجِرَ : گلے وَتَظُنُّوْنَ : اور تم گمان کرتے تھے بِاللّٰهِ : اللہ کے بارے میں الظُّنُوْنَا : بہت سے گمان
ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی بھی کھڑی ہوئی تھی۔ وہ یہ سن کر ہنس دی۔ پھر ہم نے اس کو اسحٰق (علیہ السلام) کی اور اسحاق (علیہ السلام) کے بعد یعقوب (علیہ السلام) کی خوشخبری دی
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کیوں ہنس پڑی۔ اس لیے کہ اسے بھی معلوم تھا کہ حضرت لوط کس برائی اور غلاظت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ اور وہ چونکہ بانجھ تھی اس کی کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اور اس طرح وہ معمر ہوگئی تھی اس لیے اس کے لیے یہ خوشخبری ایک عجوبہ تھی اور یہ خوشی اس وقت دوگنی ہوگئی جب ان کو خوشخبری دی گئی کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوں گے۔ عورت اور پھر بانجھ باعورت کو اگر اس قسم کی خوشخبری ملے تو لازمی ہے کہ وہ غیر معمولی اور اچانک خوشی کا مظاہرہ کرے گی۔
Top