Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Fi-Zilal-al-Quran - Ash-Shura : 1
حٰمٓۚ
حٰمٓ
: حا۔ میم
ح م
حروف ، مقطعات کے بارے میں کئی سورتوں کے آغاز میں بات ہوچکی ہے جسے یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ حروف بتاتے ہیں کہ سورت کا آغاز ہو رہا ہے ۔ ان حروف کے بعد پہلا فقرہ یہ ہے۔ کذلک یوحی ۔۔۔۔ العزیز الحکیم (42 : 3) ” اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے “۔ یعنی جس طرح تمہاری طرف وحی ہورہی ہے اسی طرح اور اسی انداز میں ہم نے پہلے رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے۔ یہ وحی الفاظ ، کلمات اور حروف تہجی پر مشتمل رہی ہے۔ وحی کا کلام الٰہی حروف سے بنایا گیا ہے ۔ ان حروف سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کلمات کے معانی وہ سمجھتے ہیں لیکن اس وحی کی طرح وہ کلام پیش نہیں کرسکتے۔ حالانکہ جس مواد سے یہ کلام بنا ہے ، وہ ان کے سامنے ہے اور دسترس میں ہے۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ وحی ایک ہے ، وحی کا مصدر و ماخذ ایک اللہ ہے جو عزیز و حکیم ہے۔ اور جن کی طرف وحی آتی ہے وہ ہر زمان و مکان کے رسول ہیں۔ رسول مختلف ہیں ، زمان و مکان کا اختلاف ہو سکتا ہے لیکن وحی اور ہدایت ایک ہی ہے۔ الیک والی الذین من قبلک (42 : 3) ” تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف “۔ یہ بہت لمبی کہانی ہے ، زمانے کے نشیب و فراز اور تاریخ کی بیشمار کڑیوں پر مشتمل اس کے مختلف سلسلے ہیں البتہ وحی کا یہ ایک مستحکم و مستقبل اصول و منہاج ہے اور اس کی کئی شاخیں ہیں۔ یہ بات اس انداز سے جب اہل ایمان کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے تو وہ اپنے اندر یہ شعور پاتے ہیں کہ وہ جس منہاج اور طریقے پر ہیں ، یہ ایک مستقل ، واحد طریقہ ہے اور اس کا سرچشمہ بھی واحد اللہ وحدہ ہے۔ اور یہ کہ ان کا سر رشتہ بھی اللہ العزیز الحلیم ہے۔ اس طرح ان کے اندر یہ شعور بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک تاریخی قافلہ حق کے ممبر ہیں جس کا آخری سرایا پہلا سرا زمان ومکان کے اندر دور تک چلا گیا ہے ، یہ گویا اہل ایمان کا ایک خاندان ہے جس کا روحانی شجرۂ نسب انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے شروع ہوتا ہے۔ آخر میں اس شجرے کی کڑیاں ملتی ہیں اور سب جا کر اللہ العزیز پر ملتے ہیں ، جو قوی اور قادر مطلق ہے ، جو حکیم ہے ، جو اپنی حکمت و تدبیر کے ساتھ جس کی طرف چاہتا ہے ، وحی کرتا ہے۔ لہٰذا تم اس واحد ثابت اور مستقل ربانی منہاج سے منتشر ہوکر ادھر ادھر پگڈنڈیوں پر کیوں جارہے ہو ، کیونکہ یہ پگڈنڈیاں تو اللہ تک نہیں پہنچاتیں ، ان کے جائے آغاز کا نہ پتہ اور نہ ان کے مقام انجام کا پتہ ہے اور نہ ان کا راستہ مستقیم ہے۔ اللہ جس نے تمام رسولوں کی طرف وحی فرمائی۔ اس کی مزید صفات بھی دی جاتی ہیں کہ وہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا واحد مالک ہے۔ اور وہی بلند اور عظیم ہے۔ لہ ما فی السموت ومافی الارض وھو العلی العظیم (42 : 4) ” آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے ، وہ برتر اور عظیم ہے “ بسا اوقات لوگوں کو یہ دھوکہ ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی مالک ہیں ، محض اس لیے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ چیزیں ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں۔ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں ان سے خدمت لیتے ہیں لیکن یہ دراصل حقیقی ملکیت نہیں ہے۔ حقیقی ملکیت اللہ کی ہے۔ وہ اللہ ہے جو موجود اور معدوم کرتا ہے ، زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ یہ وہی ہے جو کسی بشر کو جو چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ اور جس چیز سے چاہتا ہے محروم کردیتا ہے۔ جس وقت چاہتا ہے ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہوتا ہے وہ یکدم چلا جاتا ہے۔ اور اگر وہ چاہے تو جو چلا گیا ہے ، اس کا متبادل دے دے۔ مالک حقیقی تمام اشیاء میں اللہ ہے۔ وہ ان چیزوں کو اپنے قانون قدرت کے مطابق چلاتا ہے۔ اور یہ تمام اشیاء اس کے حکم پر لبیک کہتی ہیں۔ اس لحاظ سے زمین و آسمان میں جو چیز ہے ، وہ اللہ کی ہے اور اس لحاظ سے اللہ کے ساتھ اس ملکیت میں کوئی شریک نہیں ہے۔ وھو العلی العظیم (42 : 4) ” وہ برتر اور عظیم ہے “۔ وہ صرف مالک ہی نہیں ہے ۔ وہ مالک اعلیٰ بھی ہے۔ اور وہ بڑی عظمتوں والا ہے ، اور اس عظمت میں وہ منفرد ہے۔ وہ اس طرح برتر ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز کمتر ہے اور وہ اس معنی میں عظیم ہے کہ اس کے مقابلے میں ہر چیز بہت ہی چھوٹی ہے۔ جب یہ حقیقت انسانوں کے خمیر میں اچھی طرح بیٹھ گئی اور لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ وہ اپنے نفوس کے لئے جو مال ، جو رزق اور جو روزگار طلب کرتے ہیں ، یہ انہوں نے کہاں سے طلب کرنا ہے یعنی یہ زمین و آسمان میں جو چیزیں موجود ہیں ، ان کا مالک اللہ ہے۔ اور وہ مالک ہی کسی کو کوئی چیز دے سکتا ہے۔ پھر وہ برتر اور عظیم بھی ہے۔ اس سے اگر کوئی کچھ مانگتا ہے تو وہ اس کے سوال کو رد نہیں کرتا۔ جس طرح مخلوقات کے سامنے ہم ہاتھ پھیلاتے ہیں وہ نہ برتر ہیں اور نہ عظیم ہیں ، اس لیے ان کا سوال محروم بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد اس کائنات میں سے ایک ایسا منظر دکھایا جاتا ہے جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس کائنات کا مالک صرف اللہ ہے اور برتری اور عظمت اللہ ہی کے لئے ہے کہ قریب ہے کہ یہ آسمان اللہ کی عظمت کے رعب کی وجہ سے اور بعض لوگوں کی کج روی اور بری باتوں کی وجہ سے پھٹ پڑیں پھر اللہ کی عظمت کا ایک مظہر یہ بھی یہاں لایا گیا ہے کہ ملائکہ ہر وقت اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور اہل زمین کے لئے مغفرت مانگتے رہتے ہیں ، کیونکہ اہل زمین کے انحراف اور بےراہ روی کو دیکھ کر وہ بھی سہم جاتے ہیں۔ تکاد السموت یتفطرن ۔۔۔۔۔ الغفور الرحیم (42 : 5) “ قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں۔ فرشتے اپنی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جارہے ہیں ۔ آگاہ رہو ، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے ”۔ سماوات وہ عظیم کائنات ہے جو ہمارے اوپر نظر آتی ہے۔ اس کرۂ ارض کی پشت پر ہم جہاں کہیں بھی ہوں اور ہمارے پاس اس کے بارے میں ابھی تک جو معلومات جمع ہو ئی ہیں وہ اس کے ایک بالکل معمولی حصے کے بارے میں ہیں۔ آج تک جو معلومات دستیاب ہیں ان سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ہمارے سورج جیسے ایک لاکھ ملین سورج معہ اپنے لاتعداد توابع کے موجود ہیں۔ اور ایسے مجموعے یا گروپ کتنے ہیں ؟ تقریباً ایک لاکھ ملین گروپ معلوم ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ سورج ہماری زمین سے ایک ملین گنا بڑا ہے۔ اور یہ لاکھوں اربوں سورج تو وہ ہیں جن کو ہم اپنی چھوٹی چھوٹی رصد گاہوں کے ذریعے دیکھتے ہیں ، یہ اس لا محدود فضائے کائنات (جسے ہم آسمان کہتے ہیں ) کے اندر بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان طویل مسافتیں ہیں جو ہزارہا ملین نوری سالوں کی دوری پر ہیں ، جن کا حساب روشنی کی رفتار کے حساب سے کیا جاتا ہے یعنی 186000 میل فی سیکنڈ کے حساب سے۔ یہ آسمان جن کے بارے میں ہمارا علم بہت ہی محدود ہے ، قریب ہے کہ پھٹ پڑیں ، ہمارے اوپر اس فضا میں سے ، کیوں ؟ اللہ کے خوف سے ، اللہ کی عظمت سے ، اور اللہ کے جلال سے اور زمین کے ان لوگوں کی بدکاریوں کی وجہ سے ان کی غفلت اور نسیان کی وجہ سے جو انہوں نے اس رب ذوالجلال اور اس کائنات کے بارے میں روا رکھی ہوئی ہیں۔ قریب ہے کہ آسمانوں پر رعشہ طاری ہوجائے اور یہ ٹوٹ پڑیں اور اس مقام سے گر جائیں جہاں یہ ٹکے ہوئے ہیں۔ والملئکۃ یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض (42 : 5) “ فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کئے جاتے ہیں ”۔ ملائکہ وہ مخلوق ہے جو مکمل طور پر اطاعت شعار ہے۔ یہ تمام مخلوقات میں سے بہتر مخلوق ہے ، لیکن یہ مسلسل اپنے رب کی تسبیح کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا رب کتنا برتر ہے ۔ اور کتنا عظیم ہے۔ وہ باوجود اپنی مکمل اطاعت شعاری کے پھر بھی اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں حمد و ثنا میں اور اطاعت میں ان سے کوئی تقصیر نہ ہوجائے۔ جبکہ اہل زمین قصور وار بھی ہیں ، ضعیف بھی ہیں۔ راہ راست سے منحرف بھی ہیں ، پھر بھی احساس نہیں رکھتے چناچہ ملائکہ اللہ کے غضب سے ڈرتے ہیں اور زمین میں جو معصیت ہوتی ہے ، جو تقصیرات ہوتی ہیں ، اس پر وہ اللہ کے غضب کے ڈر سے استغفار کرتے ہیں۔ یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں ملائکہ کے استغفار سے مراد اہل ایمان کے لئے استغفار ہو ، جس طرح سورة غافر میں آیا ہے۔ الذین یحملون ۔۔۔۔۔ للذین امنوا (غافر : 7) “ عرش الٰہی کے حامل فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں ، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ”۔ اس حالت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ فرشتے زمین پر معصیت کے ارتکاب سے بہت ڈرتے ہیں۔ یہاں تک کہ اہل ایمان بھی اگر معصیت کریں تو فرشتے ڈرتے ہیں اور اس خوف کی وجہ سے وہ اللہ سے اہل زمین کے لئے معافی طلب کرتے ہیں اور وہ اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے رہتے ہیں تا کہ ان معصیتوں کی وجہ سے اللہ کا عذاب نہ آجائے اور اس لئے کہ اللہ کی رحمت لوگوں پر آتی رہے۔ وہ امید کرتے ہیں کہ لوگوں کو معاف کیا جائے گا اور ان پر حمت ہوگی۔ الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم (52 : 5) “ آگاہ رہو حقیقت میں اللہ غفورو رحیم ہے ”۔ اللہ کی صفات عزت اور حکمت کے ساتھ اور صفات علو اور عظمت کے ساتھ صفات مغفرت اور رحمت کو بھی یہاں جمع کیا گیا ہے تا کہ لوگ رب کی تمام صفات کو پیش نظر رکھیں۔ اس پیرے کے آخر میں ، ان صفات الٰہیہ کے بیان اور اس کائنات میں ان کے اثرات کے بیان کے بعد ، روئے سخن ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ جنہوں نے اللہ کے سوا کچھ اور سرپرست بھی بنا رکھے ہیں ، حالانکہ یہ بات ظاہر ہوچکی ہے کہ اس کائنات میں اللہ کے سوا کوئی سرپرست نہیں ہے تا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے معاملات سے اب دستکش ہوجائیں ، کیونکہ آپ کو ان کا حوالہ دار نہیں مقرر کیا گیا۔ اللہ ہی دراصل ان پر نگران ہے اور مختار ہے۔ والذین اتخذوا من۔۔۔۔۔۔ علیھم بوکیل (42 : 6) “ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں ، اللہ ہی ان پر نگران ہے ، تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو ”۔ انسانی تصور میں ان کج خلق اور بدبختوں کی یہ تصویر آتی ہے کہ انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے سر پرستوں کے سامنے ہاتھ دراز کیے ہوئے ہیں اور ان سے کچھ مانگتے ہیں اور ان کے ہاتھ خالی ہیں ، وہاں تو ہوا کے سوا کچھ نہیں۔ ان کی تصویر اور ان کے سرپرستوں کی تصویر نہایت ہی مکروہ ، حقیر اور بونی تصویر ہے۔ اللہ کے قبضے میں ہیں یہ لوگ اور نہایت ہی چھوٹے ہیں۔ نبی ﷺ کو کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ان کے معاملے سے بری الذمہ ہیں۔ آپ ان کی پرواہ نہ کریں ، اللہ تعالیٰ ان کا بندوبست کرے گا۔ اہل ایمان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جانی چاہئے اور اس معاملے میں ان کو مطمئن ہونا چاہئے ، ہر حال میں مطمئن ہونا چاہئے۔ وہ لوگ جن کو سرپرست بنایا گیا ہے ، وہ اس کرۂ ارض پر برسر اقتدار اور اصحاب جاہ و مرتبہ ہوں یا دوسرے لوگ ہوں۔ اصحاب اقتدار کے بارے میں تو اہل ایمان کو یوں مطمئن ہونا چاہئے کہ وہ جس قدر جبار وقہار بھی ہوں ، اگر ان کا اقتدار قرآن وسنت سے ماخوذ نہیں ہے تو پھر وہ اللہ کی گرفت میں ہیں ، اللہ نے انہیں احاطے میں لے رکھا ہے۔ ان کے اردگرد پوری کائنات اللہ پر ایمان لانے والی ہے ، صرف وہی منحرف ہیں۔ وہ ایک نہایت ہی موزوں زمزمے میں ایک کرخت آواز کی طرح ہیں۔ اور اگر یہ سرپرست اہل اقتدار کے علاوہ اور پیر فقیر ہوں تو اہل ایمان پر ان کی ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ اللہ کی مخلوق میں سے اگر کوئی غلط راہ اختیار کرتا ہے۔ تو یہ ذمہ دار نہیں۔ دین و عقائد میں زبردستی نہیں ہے ، ان پر صرف تبلیغ کی ذمہ داری ہے ۔ بندوں کے دلوں پر نگران اللہ ہی ہے۔ چناچہ مومنین کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی سیدھی راہ پر وحی الٰہی کی روشنی میں چلیں اور اگر دوسرے لوگ غلط عقائد اختیار کرتے ہیں تو ان پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ غلط عقائد جو بھی ہوں ، وہ خود ذمہ دار ہیں۔ اب ہم اس سورت کے پہلے موضوع یعنی وحی و رسالت کی طرف آتے ہیں :
Top