Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Fi-Zilal-al-Quran - Ash-Shura : 13
شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ
شَرَعَ لَكُمْ
: اس نے مقرر کیا تمہارے لیے
مِّنَ الدِّيْنِ
: دین میں سے
مَا وَصّٰى بِهٖ
: جس کی وصیت کی ساتھ اس کے
نُوْحًا
: نوح کو
وَّالَّذِيْٓ
: اور وہ چیز
اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ
: جو وحی کی ہم نے آپ کی طرف
وَمَا وَصَّيْنَا
: اور جو وصیت کی ہم نے
بِهٖٓ
: ساتھ اس کے
اِبْرٰهِيْمَ
: ابراہیم کو
وَمُوْسٰى
: اور موسیٰ کو
وَعِيْسٰٓى
: اور عیسیٰ کو
اَنْ
: کہ
اَقِيْمُوا الدِّيْنَ
: قائم کرو دین کو
وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ
: اور نہ تم اختلاف کرو اس میں۔ نہ تفرقہ ڈالو اس میں
كَبُرَ
: بڑا ہے۔ بھاری ہے
عَلَي الْمُشْرِكِيْنَ
: مشرکوں پر
مَا
: جو
تَدْعُوْهُمْ اِلَيْهِ
: تم بلاتے ہو ان کو طرف اس کے
ۭ اَللّٰهُ
: اللہ
يَجْتَبِيْٓ اِلَيْهِ
: کھینچ لیتا ہے اپنی طرف
مَنْ يَّشَآءُ
: جس کو چاہتا ہے
وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ
: اور ہدایت دیتا ہے۔ رہنمائی کرتا ہے، اپنی طرف
مَنْ يُّنِيْبُ
: جو رجوع کرتا ہے
اس نے تمہارے لیے دین کا دہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جسے (اے محمد ﷺ اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے ، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو دے چکے ہیں ، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجاؤ۔ یہی بات ان مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف (اے محمد ﷺ تم انہیں دے رہے ہو۔ اللہ جسے چاہتا ہے ، اپنا کرلیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کر ے
آیت نمبر 13 تا 16 کذلک یوحی الیک والی الذین من قبلک اللہ العزیز الحکیم (42 : 3) “ اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کی طرف وحی کرتا رہا ہے ”۔ یہ ایک اجمالی اشارہ تھا کہ وحی الٰہی کا سرچشمہ ایک ہے ۔ اور اس وحی نے جو نظام پیش کیا ہے ، یہ وہی ہے جو سابقہ رسولوں نے پیش کیا تھا ، اور اس وحی کا رخ بھی اسی طرف ہے جس طرف سابقہ انبیاء کا تھا۔ اب اس اشارے کی تفصیلات دی جارہی ہیں کہ اللہ نے مسلمانوں کے لئے جو نظام زندگی اور جو شریعت وضع کی ہے ، وہ عمومی اصولوں میں وہی ہے جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو دی گئی تھی۔ سب کو حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کے واحد دین کو قائم کرو ، اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو ، اور تمہارا فرض ہے کہ اللہ کے اس قدیم نظام زندگی پر جم جاؤ اور جو لوگ اس سے ادھر ادھر دیکھتے ہیں ، محض خواہشات نفسانیہ پوری کرنے کے لئے تو ان کی طرف کوئی توجہ نہ کرو ، اس دین کو غالب کرو ، اور جو لوگ اس دین کے خلاف حجت بازیاں کرتے ہیں ، ان کی حجت کو رد کر کے باطل کردو ، اور ان کو اللہ کے غضب اور شدید عذاب سے ڈراؤ۔ اس پیراگراف کے فقروں کے اندر بھی نہایت ہی لطیف ربط ہے جس طرح سابقہ پیراگراف کے فقروں میں ہم نے بیان کیا۔ شرع لکم من الدین۔۔۔۔۔۔ ولا تتفرقوا فیہ (42 : 13) “ اس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جسے (اے محمد ﷺ اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے ، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو دے چکے ہیں ، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجاؤ ”۔ اس کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کردیا جاتا ہے جس کی تفصیلات ہم نے سورت کے آغاز میں دیں کہ ادیان کی جڑ ایک ہے۔ زمان و مکان کے لحاظ سے مختلف زمانوں میں اس کی نشوونما ہوئی ۔ اس سے جس مومن میں ایسے تصورات و لمحات آتے ہیں کہ وہ سوچتا ہے کہ اس کا ماضی بہت طویل ہے اور اس کے سلف بہت ہی عظیم لوگ ہیں اور وہ ایسے عظیم لوگوں کا تابع اور پیروکار ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت محمد ﷺ اجعین۔ یہ شعور پختہ ہوتا ہے کہ یہ دین ادیان سابقہ ہی کا تسلسل ہے اور یہ کہ وہ انبیاء و رسل کے راستے ہی پر رواں دواں ہے۔ اور اس راستے پر وہ نہایت خوشی سے چل رہا ہے۔ اگرچہ اس میں تھکاوٹ ہو ، مشکلات ہوں اور اسے اپنے بیشمار مفادات قربان کرنے پڑیں۔ مومن کو یہ پختہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ وہ عظیم لوگوں کے قافلے کافرد ہے اور یہ قافلہ پوری انسانی تاریخ میں عظیم لوگوں کا قافلہ ہے۔ یہ کہ جو لوگ اللہ کے اس دین پر چلنے والے ہیں ، ان کے درمیان دائمی امن و آشتی ہے ۔ یہ ایک مستقل شریعت اور شاہراہ پر قائم ہیں۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف اور دشمنی نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان تو گہرے تعلقات و روابط ہیں۔ یہ تعلقات و روابط باہمی مزید تعلق اور مفاہت کا تقاضا کرتے ہیں۔ یوں مومنین کا حال ان کے ماضی سے مربوط ہوجاتا ہے اور ان کا ماضی ان کے حال سے جڑ جاتا ہے اور وہ سب وہ ایک ہی راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر اسلامی نظام اور شریعت جو اللہ نے مومنین کا حال ان کے ماضی سے مربوط ہوجاتا ہے اور ان کا ماضی ان کے حال سے جڑ جاتا ہے اور وہ سب وہ ایک ہی راستے پر چل پڑتے ہیں۔ اگر اسلامی نظام اور شریعت جو اللہ نے مومنین اور مسلمین کے لئے مقرر کی ہے ، وہی ہے جس کی وصیت اور تاکید حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو بھی اس سے قبل کی گئی تھی تو پھر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے متبعین باہم کیوں لڑتے جھگڑتے ہیں۔ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین میں سے مختلف فرقے کیوں باہم دست و گریباں ہیں۔ پھر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے متبعین حضرت محمد ﷺ کے پیروکاروں کے ساتھ کیوں عناد رکھتے ہیں۔ پھر وہ لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں یعنی مشرکین عرب تو ان کے لئے کیا جواب ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور وہ کیوں نبی آخر الزمان کے جھنڈے تلے جمع نہیں ہوتے جن کی دعوت یہ ہے کہ تمام پیروکار ان دین کو یہ وصیت کی گئی تھی کہ۔ ان اقیموا الدین ولا تتفرقوا فیہ (42 : 13) “ دین کو قائم کرو اور اس میں فرقے نہ بنو ”۔ اور کیوں اپنے فرائض ادا نہیں کرتے ، کیوں ایسا نہیں کرتے کہ وہ انحراف کو چھوڑ دیں۔ کج روی سے توبہ کریں اور کیوں پھر یہ لوگ آخری نبی کے جھنڈے تلے صف واحد کی صورت میں کھڑے نہیں ہوتے۔ کیونکہ حضرت نوح ، حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے بعد اب حضرت محمد ﷺ کی باری ہے اور یہ امانت اب ان تک پہنچی ہے۔ مشرکین جو ام القریٰ میں بستے ہیں اور جن کا دعویٰ ہے کہ وہ دین ابراہیمی پر ہیں وہ دعوت اسلامی کے مقابلے میں ایک معاند اور مخالف کے طور کھڑے ہیں۔ یہ کیوں ؟ کبر علی المشرکین ما تدعوھم الیہ (42 : 13) “ یہ بات ان مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف تم انہیں دعوت دے رہے ہو ” ۔ ان کو یہ بات ناگوار ہے کہ ان میں سے محمد ابن عبد اللہ پر وحی کیوں آئی۔ حالانکہ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ وحی دو بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر نازل ہوگی۔ علی رجل من القریتین عظیم یعنی ان دو گاؤں کے کبراء اور اہل اقتدار میں سے کسی پر نازل ہوتی۔ لیکن خود ان کی یہ بات بھی حقیقت واقعہ کے طور پر درست نہ تھی ، حضرت محمد ﷺ خود ان کے قول کے مطابق صادق وامین تھے۔ اور آپ قریش کے ایک ممتاز قبیلے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ تو بیشک عظیم آدمی تھے۔ ان پر یہ نئی دعوت شاق گزرتی تھی کیونکہ اگر یہ کامیاب ہوتی ہے تو بت پرستی کا دور ختم ہوجاتا ہے ۔ بت اور بتوں کے افسانے ختم ہوجاتے ہیں اور اسی پر تو ان کی سیادت و قیادت قائم تھی۔ ان کے ذاتی اور اقتصادی مفادات انہیں تصورات سے وابستہ تھے ، لہٰذا انہوں نے شرک کو سینے سے لگالیا اور خالص تو حید پر مبنی ان پر بھاری تھی ، جس کی طرف رسول بلاتے تھے۔ پھر ان پر یہ بات بھی گراں گزر رہی تھی کہ ان کے جو آباء و اجداد جاہلیت پر مرگئے ہیں وہ گمراہی پر گئے اور وہ کافر اور جہنمی تھے۔ لہٰذا انہوں نے کہا اگر آباء جہنمی ہیں تو ہم بھی ہیں۔ یوں وہ ضد میں آگئے اور غلط راہ عناد کی وجہ سے پکڑ لی۔ اور عمداً اپنے آپ کو جہنم میں گرانے کے لئے تیار ہوگئے۔ محض اس لیے کہ وہ اپنے آباء کو گمراہ قرار دینے کے لئے تیار نہ تھے۔ قرآن کریم ان کے اس موقف کی تردیدیوں کرتا ہے کہ یہ اللہ کا اختیار ہے کہ جسے چاہے ، چن لے۔ اس طرح اللہ اپنی جانب سے صرف اسی کو متوجہ کرتا ہے جو اللہ کی پناہ میں آنا چاہے اور دھتکارے ہوئے لوگوں کو بذریعہ توبہ واپس کرتا ہے : اللہ یجتبی الیہ من یشاء ویھدی الیہ من ینیب (42 : 13) ” اللہ جسے چاہتا ہے ، اپنا لیتا ہے اور جو اپنی طرف اسی کو راستہ دکھاتا ہے جو اس کی رجوع کرے “۔ تو اللہ نے محمد ﷺ کو چن لیا۔ اور جو بھی اب اللہ کے بتائے ہوئے راستے کی طرف متوجہ ہوگا اللہ اسے ہدایت دے دے گا۔ اب روئے سخن مذکور بالا بڑے انبیاء کے متبعین کے موقف کی طرف پھرتا ہے ، جن کو اللہ نے ایک ہی دین دے کر بھیجا تھا اور انہوں نے قوم کے سامنے ایک ہی دین پیش کیا تھا مگر متبعین نے اس میں تفرقہ اختیار کرلیا : وما تفرقوا الا من بعد ۔۔۔۔۔۔ شک منہ مریب (42 : 14) ” لوگوں میں جو تفرقہ رونما ہوا ، وہ اس کے بعد ہوا کہ ان کے پاس علم آچکا تھا ، اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔ اگر تیرا رب پہلے ہی نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقررہ تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے ، وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں “ ۔ ایک تو یہ کہ یہ اختلافات جہالت کی وجہ سے نہ تھے۔ یہ وجہ نہ تھی کہ ان کو اس اصل حقیقت کا پتہ نہ تھا اور یہ پتہ نہ تھا کہ رسولوں کی تعلیم کا ماخذ کیا ہے بلکہ انہوں نے اچھی طرح جانتے بوجھتے شک کیا۔ آپس کی دشمنی کی وجہ سے تفرقہ کیا۔ بغض اور حسد کی وجہ سے یہ اختلافات ہوئے۔ ظالمانہ خواہشات نے مجبور کیا کہ وہ تفرقہ کریں۔ اور ناقاب کنٹرول خواہشات نفس نے ان کو مجبور کیا۔ یہ تفرقہ اس لیے نہیں ہوا کہ ان کے پاس درست عقائد کے لئے کوئی دلیل نہ تھی یا جو نظام زندگی انہیں دیا گیا تھا ، اس میں سے ان کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا ۔ اگر وہ اپنے حقیقی عقیدے اور شریعت پر مخلصانہ طور پر قائم رہتے تو تفرقہ نہ کرتے۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق تھے کہ اللہ ان کو پکڑ لیتا اور ان پر جلدی اللہ کا عذاب آجاتا ، ان کی سرکشی اور ان کے ظلم کی وجہ سے جو انہوں نے یہ تفریق کر کے دین حق کے ساتھ کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے تدبیر کائنات کے سلسلے میں پہلے سے ایک فیصلہ کردیا تھا اور ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت دے دی گئی تھی۔ ولو لا کلمۃ سبقت ۔۔۔۔۔ لقضی بینھم (42 : 14) ” اگر تیرا رب پہلے یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا “۔ اور اس طرح ان اختلافات میں حق ، حق ہوچکا ہوتا اور باطل باطل ہوچکا ہوتا اور معاملہ اس دنیا ہی کی زندگی میں ہی ختم ہوچکا ہوتا لیکن ان کو وقت معلوم تک مہلت دے دی گئی ہے۔ وہ نسلیں جو ان ابنائے سابقین کے پہلے متبعین کی وارث بنیں جنہوں نے تفرقہ کیا تھا۔ اور یہ کتاب ان کو ملی تو ان کو یہ کتاب اور یہ نظریہ یقینی انداز میں نہ ملا۔ کیونکہ اختلافات کا ریکارڈ ان کے سامنے تھا اور اس سے کوئی جزی اور قطعی بات سامنے نہ آتی تھی۔ تمام فرقہ وارانہ اختلافات عمل ، غیر واضح اور پریشان کن تھے۔ وان الذین اور ثوا ۔۔۔۔۔ منہ مریب (42 : 14) ” اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے تھے “۔ یوں ہوتا ہے عقیدہ تو اس مضبوط چٹان کی طرح ہوتا ہے جس کے اردگرد سے زمین حرکت میں ہوتی ہے لیکن وہ مضبوط ہوتا ہے۔ اور ایک مومن اس راسخ چٹان پر مضبوطی سے جم جاتا ہے اور اسے کوئی زلزلہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا اور عقیدہ وہ ستارہ ہوتا ہے جو اپنی جگہ جما ہوا ہوتا ہے اور لہروں اور طوفانوں کے باوجود مومن کی نظر بلند افق پر اپنے ستارے پر ہوتی ہے جو سمت کا تعین کرتا ہے۔ اس طرح ایک مومن راستہ نہیں بھولتا اگرچہ تاریک سمندروں میں ہو۔ لیکن جب عقیدہ اور نظریہ ہی مشکوک ہوجائے تو پھر کسی کی کوئی بات مستقل نہیں ہو سکتی۔ نہ کسی بےعقیدہ شخص کی کوئی بات مستقل ہو سکتی ہے۔ نہ ایسا شخص کسی بھی سمت پر مستقل رہ سکتا ہے۔ نہ کسی راستے پر مطمئن ہو سکتا ہے۔ عقیدہ اور نظریہ ہوتا ہی اس لیے ہے کہ لوگوں کا نصب العین اور ان کی سمت متعین کرے اور پھر وہ دوسرے لوگوں کی اس راہ پر چلتے ہوئے قیادت کریں۔ اگر وہ خود اضطراب اور شک میں پڑے ہوں تو وہ کسی کی قیادت نہیں کرسکتے۔ خفتہ را خفتہ کے کند بیدار۔۔۔۔ جب اس دنیا میں دین اسلام آیا تو امم سابقہ کے متبعین کی یہی حالت تھی۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی اپنی ” کتاب عالم اسلام میں مشرقیت و مغربیت کی کشمکش “ میں لکھتے ہیں : ” حقیقت یہ ہے کہ دوسرے بڑے ادیان کے لیڈر کھیلنے والوں اور کھلاڑیوں کے ہاتھ میں شکار ہیں اور ان پر تحریف کرنے والوں اور منافقوں کا اثر ہے۔ یہ ادیان اپنی روح اور شکل گنوا بیٹھے ہیں۔ اگر ان ادیان کے پہلے ماننے والوں کو اللہ اب زندہ کر دے تو وہ خود اپنے نام سے منسوب ان ادیان کو نہ پہچان سکیں۔ چناچہ کبھی تو ادیان تہذیب و تمدن اور حکومت و سیاست عطا کرنے والے تھے۔ اب وہاں سے بدنظمی ، خلل اور اختلافات اور طوائف الملوکی ہوتی ہے ، حکام بد عمل ہیں ، اپنی ذات میں گم ہیں۔ ان کے پاس اقوام اور دنیا کے لئے کوئی پیغام نہیں ہے۔ مقاصد عالیہ کے اعتبار سے وہ مفلس ہیں۔ ان کی زندگی کے سوتے خشک ہوچکے ہیں ، ہدایات سماوی کی روشنی میں ان کے پاس کوئی راہ نہیں ہے ، نہ کوئی مستقل اور محکم نظام زندگی ہے۔ مشہور امریکی مصنف جارج ایچ۔ ڈینسن اپنی کتاب جذبات بحیثیت اساس تمدن (Emotion as the basis of civilization ) میں لکھتے ہیں : ” پانچویں صدی اور چھٹی صدی عیسوی میں اہل دین کی دنیا تباہی کے ایک گہرے گڑھے کے دہانے پر تھی۔ کیونکہ جو نظریات تمدن کو جنم دینے میں ممدو معاون تھے ، وہ ختم ہوچکے تھے اور اس وقت کے موجودہ ادیان کی جگہ لینے کے لئے کوئی نظریہ موجود نہ تھا۔ اور یہ واضح طور پر نظر آنے لگا تھا کہ جس انسانی تہذیب کی تعمیر و ترقی پر چار ہزار سال گزرے تھے وہ ختم اور برباد ہونے والی ہے اور انسانیت دوبارہ جہالت ، قبائلی نظام کے چنگل میں پھنسنے والی ہے ، جس میں کوئی قانون و نظام نہیں ہوتا کیونکہ مسیحیت نے جو اجتماعی نظم و نسق قائم کیا تھا ، اس کی عمارت گرنے ہی والی تھی۔ اس لیے کہ عیسائیت فرقے فرقے ہوگئی تھی۔ اس کے اندر کوئی اتحاد اور نظم نہ تھا۔ اس دور میں تمدن کی مثال اس طرح تھی کہ وہ ایک عظیم درخت کی طرح تھی جس کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں اور اس کا سایہ تمام دنیا پر چھا یا ہوا تھا ، یہ درخت سخت طوفانوں کی رد میں نہایت کمزوری کی حالت میں کھڑا تھا اور ہلاکت اس کے دروازے پر دستک دے رہی تھی ، کہ اس اثناء میں ایک شخص (حضرت محمد ﷺ پیدا ہوگیا “۔ یہ صورت حال اس لیے تھی کہ ادیان سماوی کے حاملین نے باہم سخت اختلافات شروع کر دئیے تھے ، بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا۔ اور ادیان کے اصحاب اولین کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنے تھے ان کو ان کتابوں کی صداقت کے بارے ہی میں شک تھا۔ ان وجوہات سے اور پوری دنیا میں انسانیت کی قیادت کے لئے کسی مرکز کے ناپید ہوجانے کی وجہ سے حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کیا گیا اور آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ سیدھے راستے پر چل پڑیں لوگوں کو دعوت دیں اور آپ کی واضح اور بین نظریات اور آپ کی مستحکم دعوت کے بارے میں لوگ جو چاہیں ، کہیں۔ آپ کسی کی طرف متوجہ نہ ہوں اور یہ اعلان کردیں کہ یہ دعوت اور یہ نظام وہی ہے جسے اللہ نے تمام انبیاء کو دیا تھا اور اس کے بارے میں وصیت کی تھی۔ فلذلک فادع واستقم کما امرت ۔۔۔۔۔۔۔۔ والیہ المصیر (42 : 15) ” (چونکہ یہ حالت پیدا ہوچکی ہے) اس لیے اے محمد ﷺ اب تم اسی دین کی طرف دعوت دو ، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجاؤ، اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ، اور ان سے کہہ دو کہ :” اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ اللہ ایک روز سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے “۔ اب دعوت اسلامی گویا پوری انسانیت کے لئے نئی قیادت تھی۔ یہ ایک دانشمند ، صحیح الفکر قیادت تھی جس کا نظام زندگی واضح تھا ، جس کو یقین محکم حاصل تھا۔ یہ اللہ کی طرف بلاتی تھی اور اپنے مقصد کے لئے علی وجہ البصیرت کام کر رہی تھی اور بغیر کسی کج روی کے امر الٰہی پر گامزن تھی۔ اور وہ اپنے فیصلوں میں بدلتے ہوئے مقاصد اور بدلتی ہوئی خواہشات کے پیچھے نہ جاتی تھی۔ ایسی قیادت جس کا پیغام ایک تھا ، جس کی کتاب ایک تھی ، نظام شریع ایک تھا ، جس کا ایمان ماخذ ایمان کی طرف راجع تھا۔ اور جس نے تمام انسانیت کو ایک اہم اصول کی طرف لوٹا دیا تھا۔ وقل امنت بما انزل اللہ من کتب (52 : 15) ” اور ان سے کہہ دو کہ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں “۔ اس کے بعد یہ دعوت یہ تحریک دعوت حق کو لے کر دنیا میں سربلند ہوتی ہے اور اقتدار اعلیٰ حاصل کرتا ہے تا کہ وہ لوگوں کے درمیان عدل کرے۔ وامرت لاعدل بینکم (42 : 15) ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں “ ۔ یہ ایسی قیادت ہے جس کے پاس اقتدار بھی ہے اور یہ زمین میں عدل گستری کا اعلان کرتی ہے۔ (یہ بات حضور ﷺ اس وقت کر رہے ہیں جب دعوت اسلامی مکہ میں ہے اور داعی اور تحریک شعب ابی طالب میں محصور ہیں ، ان پر مصائب کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن وہاں بھی دعوت اسلامی کا مزاج ، چھا جانے والا مزاج بالکل واضح ہے ) (مترجم) ۔ یہ دعوت اعلان کرتی ہے کہ رب واحد ہے۔ اللہ ربنا وربکم (52 : 15) ” اللہ ہی ہمارا رب ہے اور تمہارا رب بھی “۔ اور یہ اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے اور جواب وہی انفرادی ہے۔ لنا اعمالنا ولکم اعمالکم (52 : 15) ” ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے ، تمہارے لیے ہیں “ ۔ اس لیے اب فضول بحث و مباحثہ ختم ہونا چاہئے۔ لا حجۃ بیننا وبینکم (52 : 15) ” ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں “۔ اللہ یجمع بینناوالیہ المصیر (42 : 15) ” اللہ ہم سب کو ایک روز جمع کرے گا۔ اور اسی کی طرف لوٹنا ہے “۔ یہ ایک آیت ہے لیکن یہ دعوت اسلامی کے مزاج کی وضاحت پوری طرح کردیتی ہے۔ اس آیت کے فقرے بھی چھوٹے چھوٹے ، لیکن وہ نہایت ہی دو ٹوک اور فیصلہ کن بات کرتے ہیں۔ یہ ایک دعوت ہے جس نے اپنی راہ پر گامزن رہنا ہے اور انسانوں کی خواہشات کا کوئی لحاظ نہیں رکھنا۔ اس نے اس کرۂ ارض پر اقتدار اعلیٰ پر خالص ہونا ہے تا کہ وہ عدل کرسکے۔ اس نے تمام انسانوں کو ایک سیدھی راہ دکھانی ہے جو صراط مستقیم ہے اور یہی راہ تمام رسولوں کی راہ رہی ہے۔ چناچہ دعوت اسلامی کی اس رنگ میں وضاحت کرنے کے بعد اور اہل ایمان کے ایک گروہ کی جانب سے اس دعوت پر لبیک کہنے کے بعد ، الجھنے والوں اور بےفائدہ مباحثے کرنے والوں کی باتوں کی طرف التفات کرنے کا کوئی موقعہ نہیں رہا ہے۔ ان کی تمام دلیلیں باطل ہوچکی ہیں ، ان کا کوئی وزن نہیں ہے ، نہ اہمیت ہے۔ لہٰذا ان کے بارے میں اب فیصلہ کن بات کردی جاتی ہے اور ان کو اللہ کی شدید دھمکی کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ والذین یحاجون فی اللہ ۔۔۔۔۔ عذاب شدید (42 : 16) ” اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ اللہ کے معاملے میں جھگڑتے ہیں ، ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر اس کا غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے “۔ جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں اور ان کی حجت اللہ کے نزدیک ہی باطل ہے تو پھر ان کا جھگڑا باطل ہے اور ان کی دلیل کی کوئی حیثیت نہیں۔ زمین پر بھی ان کی دلیل مسترد ہے اور آخرت میں ان کو اللہ کے شدید غضب اور عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ اور یہ فضول جھگڑے اور حجت بازی ان کے لئے موزوں سزا ہے جبکہ وہ دیکھتے بھی ہیں کہ نہایت ہی مخلص اور دانشمند لوگوں نے اس دعوت کو قبول کرلیا ہے۔ لہٰذا ان کی یہ بحث اور منا ظرہ حق کی وضاحت کے بعد ہے اور کچھ دوسرے مقاصد کے لئے ہیں۔ اب سیاق کلام کا رخ پھر پہلے موضوع کی طرف
Top