Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Fi-Zilal-al-Quran - Ash-Shura : 21
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اَمْ لَهُمْ
: یا ان کے لیے
شُرَكٰٓؤُا
: کچھ شریک ہیں
شَرَعُوْا
: جنہوں نے مقرر کر رکھے ہیں
لَهُمْ
: ان کے لیے
مِّنَ الدِّيْنِ
: دین میں سے
مَا لَمْ
: جس کی نہیں
يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ
: اجازت دی ساتھ اس کے اللہ نے
وَلَوْلَا
: اور اگر نہ ہوتی
كَلِمَةُ
: بات
الْفَصْلِ
: فیصلے کی
لَقُضِيَ
: البتہ فیصلہ کردیا جاتا
بَيْنَهُمْ
: ان کے درمیان
وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ
: اور بیشک ظالم لوگ
لَهُمْ
: ان کے لیے
عَذَابٌ اَلِيْمٌ
: عذاب ہے دردناک
کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریک خدا رکھتے ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کردیا ہے جس کا اللہ نے اذن نہیں دیا ؟ اگر فیصلے کی بات طے ہوگئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یقیناً ان ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے
آیت نمبر 20 تا 23 پچھلے پیراگراف میں یہ کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لئے جو نظام زندگی اور شریعت تجویز کی تھی وہ وہی ہے جس کے بارے میں نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کو تاکید کی گئی تھی۔ وہی بات حضرت محمد ﷺ کی طرف بھی وحی کی گئی۔ اب اس پیرے میں ان سے گرفت کے انداز میں پوچھا جاتا ہے کہ تم بتاؤ تمہاری شریعت اور قانون اور نظام اور نظریہ کا ماخذ کیا ہے ؟ تمہاری شریعت کس نے بنائی ہے۔ یہ تم جس نظام کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہو ، یہ تو شریعتوں کے خلاف ہے۔ ام لھم شرکاء شرعوا ۔۔۔۔ بہ اللہ (42 : 21) ” کیا کچھ لوگ ایسے شریک خدا ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کردیا جس کا اللہ نے اذن نہیں دیا “۔ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ اللہ کی شریعت اور قانون کے متضاد کوئی قانون بنانا چاہے وہ کوئی شخص بھی ہو۔ قانون سازی کا اختیار صرف اللہ وحدہ کو ہے کیونکہ اللہ اس کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے اس پوری کائنات کے لئے ایک نظام تجویز کر رکھا ہے اور انسان بھی اس کائنات کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ اس لیے انسان کی زندگی کو ضابطے میں لانے کے لئے ایسا ہی قانون چاہئے جو قانون فطرت ہو۔ اللہ کے قوانین فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اور یہ صرف اس وقت ہوتا ہے کہ جب قانون وہ ذات بنائے جو نظام فطرت کی موجد ہے۔ اللہ کے سوا کوئی اور ذات یہ کام نہیں کرسکتی۔ اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی شخص انسانوں کی قانون سازی پر ، وہ اعتماد نہیں کرسکتا جو اللہ کے قانون پر کرتا ہے۔ اگرچہ یہ وہ حقیقت ہے جو ہدایت کی حد تک واضح ہے لیکن پھر بھی زیادہ لوگ اس کے بارے میں جھگڑتے ہیں یا ان کو اس پر یقین نہیں آتا۔ اور پھر بھی وہ جرات کرتے ہیں کہ اللہ کے قانون کے سوا کسی اور اصول کے مطابق قانون سازی کریں۔ ان کا زعم یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے لئے بھلائی کر رہے ہیں ، پھر وہ اپنے حالات کو ان قوانین کے مطابق ڈھالتے ہیں جو انہیں نے خود بنائے ہیں۔ گویا وہ اللہ سے زیادہ جانتے ہیں ، زیادہ بہتر فیصلے کرنے والے ہیں ، یا اللہ کے سوا ان کے کوئی اور الٰہ ہیں جو ان کے لئے ایسے قانون بناتے ہیں جس کا اللہ نے اذن نہ دیا ہو۔ اس قسم کے لوگ اللہ کے نزدیک گھاٹا اٹھانے والے ہیں اور اللہ کی ذات کے خلاف جرات کرتے ہیں۔ اللہ نے انسانوں کے لئے ایسا قانون بنایا ہے جو انسان کی فطرت اور اس کائنات کے ناموس فطرت اور انسان کے مزاج کے مطابق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کے مطابق انسانوں کا باہم تعاون اپنے اعلیٰ درجات تک پہنچ جاتا ہے اور اس کائنات کی دوسری قوتوں کے ساتھ بھی انسان کو تعاون حاصل ہوجاتا ہے۔ اللہ نے انسان کی پوری زندگی کے بارے میں قانون بنا دیا ہے۔ صرف جزئیات کا دائرہ چھوڑ دیا گیا جن کے بارے میں انسان نئے حالات کے مطابق خود قانون سازی کرسکتا ہے۔ لیکن یہ قانون سازی بھی اللہ کے جاری کردہ اصولی قوانین کے دائرے کے اندر کرسکتا ہے۔ اور اگر کسی معاملے میں انسانوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس کا فیصلہ بھی اللہ اور رسول ﷺ کے قانون کے مطابق طے کرنا ہوگا۔ کیونکہ اصول اسلامی شریعت میں طے کر دئیے گئے ہیں اور یہ اصول وہ ترازو ہیں جن کے تمام انسانوں نے اپنی آراء کو تولنا ہے۔ یوں قانون سازی کا ماخذ طے ہوجاتا ہے اور حکم اللہ کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے جو احکم الحاکمین ہے۔ اس کے سوا کوئی اگر اصول و دستور طے کرے گا وہ اسلامی شریعت سے بغاوت کرے گا۔ اللہ کے دین سے بغاوت کرے گا۔ اور اس وصیت اور تاکید کے خلاف چلے گا جو حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو کی گئی۔ اور اب حضرت محمد ﷺ کے لئے وہی شریعت نافذ کردی گئی۔ ولو لا کلمۃ الفصل لقضی بینھم (42 : 21) ” اگر فیصلے کی بات طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا “ ۔ اللہ نے فیصلہ کی بات یوں کردی ہے کہ لوگوں کو فیصلے کے دن تک مہلت دی جائے گی۔ اگر یہ بات طے نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں ان کا فیصلہ کردیتا۔ اور اللہ کی شریعت کے مخالفین کو یہاں ہی پکڑ لیا جاتا۔ ان کا قضیہ جلدی ہی چکا دیا جاتا۔ لیکن اللہ نے مہلت دے دی ہے۔ وان الظلمین لھم عذاب الیم (42 : 21) ” اور ان ظالموں کے لئے یقیناً دردناک عذاب ہے “۔ یہ عذاب ان کے طلم کی وجہ سے ان کا منظر ہے اور اس سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو شخص اللہ کی شریعت کی مخالفت کرے۔ اور اللہ کے سوا دوسروں کی شریعت کی حمایت کرے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ظالموں کو اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ وہاں ڈرے ہوئے ہیں ، سہمے ہوئے ہیں۔ عذاب جہنم ان کے سامنے ہے۔ اس سے قبل تو وہ اس سے نہ ڈرتے تھے اور نہ خوف کھاتے تھے بلکہ مذاق اڑاتے تھے۔ تری الظلمین مشفقین مما کسبوا وھو واقع بھم (42 : 22) ” تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اس وقت اپنے کئے کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر آکر رہے گا “۔ قرآن کا انداز تعبیر بڑا عجیب ہے کہ یہ لوگ وہاں ” اپنی کمائی “ سے ڈر رہے ہوں گے۔ ان کی کمائی گویا ایک بلا ہوگی جس سے وہ ڈر رہے ہوں گے اور یہ بلا انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے کمائی اور دنیا سے وہ اپنے اس کارنامے ( غیر اسلامی قانون سازی ) پر بہت خوش تھے لیکن آج وہ اس سے خوفزدہ ہیں لیکن وھو واقع بھم (42 : 22) ” اور وہ ان پر واقع ہونے والا ہے “۔ اور اس منظر کی دوسری جھلک مومنین کے بارے میں ہے ، جو اس دن سے ڈرتے تھے لیکن آج وہ امن و عافیت سے ہیں اور بہت ہی خوشحال ہیں : والذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ الفضل الکبیر (42 : 22) ذلک الذی یبشر ۔۔۔۔۔ وعملوا الصلحت (42 : 23) ” بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ، وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے ، جو کچھ بھی وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے ، یہی بڑا فضل ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے مان لیا اور نیک عمل کئے “۔ قرآن کی تعبیر بھی نہایت ہی خوش کن ، نرم اور دھیمے انداز کی ہے۔ روضات الجنت جنتوں کے گلستان ، کئی جنتیں اور کئی گلستان۔ ” جو کچھ وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے “۔ بلا حدود وقیود۔ ” یہی بڑا فضل ہے “۔ ” یہ ہے وہ چیز جس کی خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے “۔ یہ حاضر خوشخبری اللہ اپنے بندوں کو دیتا ہے ” ۔ یہ حاضر خوشخبری ہے اور یہ سابقہ خوشخبری کے لئے مصداق ہے۔ خوشخبری کی فضا سب سے زیادہ فرحت بخش ہوتی ہے۔ جب کسی کو نعمت حاصل ہو تو خوشخبری دینے سے اس کا احساس اور تیز ہوجاتا ہے۔ نعمتوں کے اس نرم و نازک اور لطف و کرم کے اس بھرپور منظر کے دکھانے پر نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ جو ہدایت میں پیش کر رہا ہوں اور جس سے تمہیں یہ نعمتیں ملیں گی اور جہنم سے دور ہوجاؤ گے یہ میں اس لیے پیش کر رہا ہوں کہ تم میرے رشتہ دار ہو اور مجھے تم سے محبت ہے میرے لیے یہی اجر کافی ہے۔ قل لا اسئلکم ۔۔۔۔۔۔ غفور شکور (42 : 23) ” اے نبی ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں اس کام پر تم لوگوں سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ البتہ قرابت محبت کی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ تم جہنم سے بچ جاؤ۔ جو کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے۔ بیشک اللہ بڑا درگزر کرے والا اور قدر دان ہے “۔ جس مفہوم کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا بلکہ قرابت داری کی محبت مجھے اس کام پر مجبور کر رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی قرابت داری قریش کی ہر شاخ سے تھی اور آپ یہ کوشش فرماتے تھے کہ آپ کے رشتہ دار ہدایت پر آجائیں۔ آپ اس قرابت داری کی وجہ سے چاہتے تھے کہ یہ بھلائی ان کو مل جائے اور یہی وافر اجر ہے آپ کے لئے۔ قرآن کریم میں جہاں جہاں یہ انداز تعبیر آیا ہے اسے پڑھنے کے بعد میرے خیال میں یہی معنی واضح ہے۔ حضرت ابن عباس سے ایک تفسیر بھی مروی ہے ۔ یہاں میں اسے اس لیے نقل کرتا ہوں کہ وہ صحیح بخاری میں وارد ہے۔ بخاری نے روایت کی ہے۔ محمد ابن بشار سے انہوں نے محمد ابن جعفر سے انہوں نے شعبہ ابن عبد المالک ابن میسرہ سے انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے کہ انہوں نے آیت المودۃ فی القربی (42 : 23) کے بارے میں پوچھا تو سعید ابن جبیر نے کہا ” آل محمد کے رشتہ دار مراد ہیں “۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا تم نے جلدی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قریش کی کوئی شاخ نہ تھی کہ نبی ﷺ کی اس میں رشتہ داری نہ ہو “۔ اس کے بعد انہوں نے کہا معنی یہ ہے ” الا یہ کہ میرے اور تمہارے درمیان جو قرابت داری ہے اس کا تعلق رکھو “۔ اس حدیث کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ تم میری قرابت داری کا لحاظ رکھتے ہوئے ، مجھے اذیت دینے سے باز آجاؤ۔ اور میں جو کچھ کہتا ہوں سنو اور نرم رویہ اختیار کرو۔ یہی کافی اجر ہوگا۔ بس یہی اجر میں تم سے چاہتا ہوں ، اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔ حضرت ابن عباس ؓ کی تاویل ، سعید ابن جبیر کی تاویل سے زیادہ قریب الفہم ہے۔ لیکن میں نے جو مفہوم اوپر بیان کیا ہے وہ زیادہ قریب اور زیادہ خوبصورت ہے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال مفہوم جو بھی ہو مذکورہ باغات اور خوشخبری کے مناظر کے بعد اللہ فرماتا ہے کہ پیغمبر اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتے اور یہ بات تو بہت ہی بعید ہے کہ جن کو ہدایت کی جارہی ہے وہ اس پر ان سے اجر طلب کریں ، لیکن یہ تو اللہ کے فضل و کرم ہیں کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ تجارتی حساب و کتاب نہیں کرتا ، نہ منصفانہ حساب کرتا ہے ۔ اللہ کا حساب مہربانی اور فضل والا ہے۔ ومن یقترف حسنۃ نزدلہ فیھا حسنا (42 : 23) ” جو بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے “۔ صرف یہ نہیں کہ ہدایت پر کوئی اجر نہیں لیا جاتا بلکہ مزید انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد مغفرت کی جاتی ہے اگر کوئی غلطی ہو اور مزید یہ کہ اللہ کی طرف سے قدر کی جاتی ہے۔ ان اللہ غفور شکور (42 : 23) ” جو بھلائی کمائے گا ہم اس کے لئے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے “۔ صرف یہ نہیں کہ ہدایت پر کوئی اجر نہیں لیا جاتا بلکہ مزید انعامات بھی دئیے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد مغفرت کی جاتی ہے اگر کوئی غلطی ہو اور مزید یہ کہ اللہ کی طرف سے قدر کی جاتی ہے۔ ان اللہ غفور شکور (42 : 23) ” بیشک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے “۔ اللہ معاف بھی کرتا ہے ، پھر خود شکریہ بھی ادا کرتا ہے۔ کس کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اپنے بندوں کا کہ وہ راہ راست پر آئے ، حالانکہ راہ راست پر آنے کی توفیق بھی اسی نے دی۔ پھر مزید یہ کہ ان کی صفات میں اضافہ کرتا ہے ، برائی کو صاف کرتا ہے اور اس کے بعد قدر دانی بھی کرتا ہے ، کیا ہی مہربانیاں ہیں ! انسان کے لئے تو ایسا سلوک کرنا ممکن نہیں ۔ صرف اللہ کا شکر ادا کیا جاسکتا ہے اور توفیق قلب کی جاسکتی ہے۔ اب روئے سخن پھر وحی الٰہی کی طرف !
Top