Fi-Zilal-al-Quran - Al-Mulk : 13
وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
وَاَسِرُّوْا : اور چھپاؤ۔ چپکے سے کرو قَوْلَكُمْ : بات اپنی اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖ : یا ظاہر کرو اس کو اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
تم خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے (اللہ کے لئے یکساں ہے) وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ؟ حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے “۔
واسروا .................... الخبیر تم کوئی بات خفیہ کرو یا جہرا کرو ، اللہ کو تو علم ہے۔ وہ جہر ، خفی اور دل کی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ انہ علیم ............................ الصدور (76 : 31) ” وہ دلوں کا حال جانتا ہے “۔ وہ بات جو ابھی دل کو چھوڑ کر منہ پر نہیں آئی۔ کیونکہ ان باتوں کو دلوں کے اندر اس نے تو پیدا کیا ہے جس طرح دلوں کو اس نے پیدا کیا ہے۔
Top