Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Fi-Zilal-al-Quran - Al-Mulk : 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ
: وہ
الَّذِيْ
: اللہ وہ ذات ہے
جَعَلَ
: جس نے بنایا
لَكُمُ الْاَرْضَ
: تمہارے لیے زمین
ذَلُوْلًا
: تابع۔ فرش
فَامْشُوْا
: پس چلو
فِيْ مَنَاكِبِهَا
: اس کے اطراف میں
وَكُلُوْا
: اور کھاؤ
مِنْ رِّزْقِهٖ
: اس کے رزق میں سے
وَاِلَيْهِ
: اور اسی کی طرف
النُّشُوْرُ
: دوبارہ زندہ ہونا
وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو تابع رکھا ہے ، چلو اس کی چھاتی پر اور کھاﺅ خدا کا رزق ، اسی کے حصور تمہیں دوبارہ زندہ ہوکر جانا ہے “۔
ھوالذی .................... النشور ” لوگوں کی حالت یہ ہے کہ اس زمین پر رہتے رہتے اور اس زمین پر ان کو ہر قسم کی رہائشی سہولتیں ہونے کی وجہ سے ، اس میں چلنے پھرنے کی قدرت اور اس کی مٹی ، پانی ، ہوا اور دوسرے خزانوں پر دسترس کی وجہ سے اور اس کی تمام پیداوار استعمال کرنے کی وجہ سے ، لوگ یہاں کی زندگی کے عادی ہوگئے ہیں اور یہ بات تک بھول گئے ہیں کہ اللہ نے اس کو ان کے لئے مسخر کردیا ہے اور ان کی دسترس میں دے دیا ہے۔ قرآن کریم بار بار ان کو یہ سبق یاد دلاتا ہے کہ ذرا اس پر غور کرو اور دیکھو۔ چناچہ ہر دور میں لوگوں نے اپنے اپنے علم کے مطابق تسخیر کائنات کے مفہوم کو سمجھا۔ ایک مسخر زمین ، ابتدائی دور کے سننے والوں کے ذہن میں صرف یہ مفہوم رکھتی تھی کہ اس زمین کے اوپر ہم چل سکتے ہیں۔ پیدل یا گھوڑوں پر سوار ہوکر ، یا کشتی پر سوار ہوکر جو سمندر کے سینے کو چیرتی چلی جاتی ہے۔ اور اس میں زراعت کرسکتے ہیں اور اس کے اندر جو کچھ زندہ و مردہ مخلوقات ہے ، اسے استعمال کرسکتے ہیں۔ پانی ، ہوا اور زمین اور ہر قسم کے نباتات وغیرہ۔ یہی مجمل مفہومات تھے جن کو اب سائنس نے ذرا مزید مفصل بنادیا ہے ، جہاں تک آج ہمارا علم آگے بڑھا ہے اور ہمارے اس علم کی وجہ سے اس نص قرآنی کا مفہوم بھی مزید وسیع ہوگیا ہے آئندہ نسلیں اس سے زیادہ سمجھیں گی۔ اب جدید علوم کے مطابق اس کا مفہوم کس قدر وسیع ہے۔ یہ لفص ذلول بالعموم ایک جانور کے لئے استعمال ہوتا ہے جو سدھایا ہوا ہو۔ یعنی جو سواری کے لئے اچھا ہو ، مطیع ہو ، زمین پر اس لفظ کا اطلاق اب ہم اچھی طرح سمجھے ہیں کہ یہ زمین بھی درصال ایک سواری ہے ، اگر یہ ٹھہری ہوگی ، پر سکون اور جمی ہوئی ہے ، لیکن دراصل یہ متحرک سواری ہے بلکہ نہایت ہی تیز رفتار سواری ہے۔ اللہ نے اسے ایسا تابع جانور بنایا ہے کہ سوار کو اٹھا کر پھینک نہیں دیتی اور نہ اسے ہوا میں اڑا دیتی ہے۔ نہ اس کے اوپر انسان کے قدم ڈگمگاتے ہیں اور نہ یہ انسان کو گھڑے یا اونٹ پر سوار ہونے والے کی طرح ہلاتی ہے ، جھٹکے دیتی ہے ، اچھالتی ہے ، جس طرح ایک غیر ” ذلول “ جانور ایسا کرتا ہے۔ پھر یہ ایک ایسا جانور ہے کہ تابع جانور کی طرح دودھ دینے والی بھی ہے۔ یہ جانور یا یہ گولا جس کے اوپر ہم سوار ہیں ، یہ اپنے ارد گرد ایک ہزار میل فی گھنٹہ کے حساب سے چکر لگارہی ہے اور اس محوری رفتار کے ساتھ ساتھ یہ سورج کے گرد 56 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی دوڑ رہی ہے۔ پھر یہ زمین یہ سورج اور سورج کی پوری کہکشاں 02 ہزار میل فی گھنٹہ کے حساب سے آسمان کے برج جبار (VAST ORBTTA) کی سمت چلتے ہیں جس کا ایک چکر 62 کروڑ سال میں پورا ہوتا ہے۔ ان تمام رفتاروں کے باوجود ، ان تمام دوڑوں کے باوجود ہم بڑے آرام سے اس گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے ہوتے ہیں اور یہ گھوڑا بہت بڑا ” ذلول “ ہے۔ اس قدر سکون سے جارہا ہے کہ رفتار کا احساس بھی ہیں ہورہا ہے۔ بڑے سکون سے بیٹھا ہے۔ اس کے اعصاب پر کوئی دباﺅ نہیں ہے اور یہ نہیں ہورہا کہ اس سے گر کر اس کی بوٹی بوٹی اس کائنات میں بکھر جائے۔ اور اس گھوڑے کے اوپر سے انسان کبھی بھی نہیں گرتا۔ پھر یہ تین مختلف الاطراف حرکتوں میں یہ گھوڑا جتا ہوا ہے۔ ان میں دو حرکتوں ، یعنی حرکت محوری اور حرکت شمسی کے اثرات کو تو ہم جانتے ہیں۔ انسانوں پر بھی ان کا اثر ہے ، زمین پر بھی ان کا اثر ہے اور اس زمین پر پائی جانے والی زندگی پر بھی ان کا اثر ہوتا ہے۔ زمین کی گردش کی محوری کی وجہ سے لیل ونہار پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہمیشہ رات ہوتی تو سردی کی وجہ سے تمام چیزیں جم جاتیں ، اور سورج کے گرد اس کا جو دورہ ہے اس سے موسم اور مختلف فصلوں کے اوقات کا تعین ہوتا ہے۔ اور اگر ایک ہی موسم رہتا تو زمین کی موجودہ شکل نہ ہوتی۔ رہی تیسری حرکت تو ابھی ہمیں اس کی حکمت کا علم نہیں ہوسکا اور یہ ضروری ہے کہ اس عظیم کائنات کے کسی عظیم تر نظام سے اس کا کوئی تعلق ہو۔ واللہ اعلم ! یہ گھوڑاجو بیک وقت ان مختلف اطراف میں یہ حرکات کررہا ہے اپنی اس حرکت کے دوران اپنی جگہ جما ہوا ہے یا جما ہو نظر آتا ہے۔ اور یہ اپنے محور پر 5 ئ 23 درجہ جھکا ہوا ہے۔ اور اس جھکاﺅ کے نتیجے ہی میں چار مختلف موسم پیدا ہوتے ہیں۔ یہ موسم زمین کی گردش شمسی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اگر اس حرکت میں ذرا بھی خلل آجائے تو ہمارا تمام موسمی نظام ، بارشوں کا نظام اور فصلیں اگنے کا نظام اور ماہ وسال کا نظام ختم ہوجائے ، بلکہ ممکن ہے کہ زمین پر سے زندگی ہی ناپید ہوجائے۔ اللہ نے زمین کو اس رطح انسان کے لئے سدھایا ہوا ہے کہ اس کے اندر جاذبیت کی ایسی مقداررکھی ہے کہ زمین انسان کو اپنے اوپر چپکائے رکھتی ہے اور تمام حرکات کے دوران انسان اس کے اوپر ادھر ادھر نہیں لڑھکتے۔ اسی طرح اس کے اوپر فضا کے دباﺅ کا نظام قائم کیا گیا ہے جس کی وجہ سے انسان بسبولت اس کے اوپر چل سکتا ہے۔ اگرچہ موجودہ فضائی دباﺅ ذرا بھی زیادہ ہوتا تو انسان کے لئے زمین کے اوپر چلنا ممکن ہی نہ رہتا یا چلنا ممکن بہت ہی مشکل ہوتا۔ زیادہ دباﺅ کی وجہ سے انسان چپک جاتا یا چلنے کے قابل نہ ہوتا۔ اور اگر موجود دباﺅ سے بھی اسے قدرے کم کردیا جاتا تو انسان فضا میں چھلانگیں لگاتا پھرتا اور اس کے قدم مضطرب ہوجاتے۔ یا اس کا پیٹ اندرونی دباﺅ سے پھٹ جاتا۔ کانوں کے پردے پھٹ جاتے۔ جس طرح ان لوگوں کو پیش آتا ہے جو بالائی فضا میں چلے جاتے ہیں اور ان کو موجودہ فضائی دباﺅ مصنوعی طور پر فراہم نہیں کیا جاتا۔ پھر اللہ نے موجودہ زمین کو مسخر کردیا۔ اس نے زمین کی سطح کو ہموار کردیا ہے اور اوپر سے اس پر نرم مٹی فراہم کردی ہے۔ اگر یہ زمین ایک مضبوط صحرا کی طرح ہوتی جس طرح سائنس دانوں نے یہ مقروضہ کیا ہے کہ یہ ٹھنڈی ہوکر ایک چٹان بن گئی تھی۔ تو اس پر چلنا بھی مشکل ہوتا اور اس کے اندر کوئی روئیدگی بھی نہ ہوتی ، لیکن فضائی عوامل ، ہوا ، گرمی ، سردی اور سارشوں نے ان سخت پتھروں کو توڑاپھوڑا اور اس طرح زمین پر یہ مٹی پیدا ہوئی ، جس کے اندر ہر قسم کی پیداوار ممکن ہوتی ہے ( اور اسی سے انسان بھی بنایا گیا) یوں اس سوار یکے سوار اس کا دودھ بھی پیتے ہیں۔ اور اللہ نے زمین کو اس طرح مسخر بنایا کہ اس کے اوپر جو ہوا جمع کی اس کے اندر انسان اور دوسری زندگی کی تمام ضروریات جمع کردیں۔ اور یہ ضروریات اس طرح باریک بینی کے ساتھ اس ہوا کے اندر رکھ دیں کہ اگر ان عناصر میں سے کوئی چیز ذرا بھی کم وبیش کردی جائے تو کرہ ارض کے اوپر سے تمام زندگی ختم ہوجائے۔ ہوا میں آکسیجن کی نسبت 12 ہے اور نائٹروجن 87 % ہے اور باقی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے اور دوسری گیسیں ہیں۔ اور یہ نسبت زمین پر زندگی کے قیام کے لئے لازمی ہے۔ پھر اللہ نے زمین کو انسانی زندگی کی ہزارہا ضروریات کے لئے موزوں قرار دیا۔ ان میں زمین کا موجودہ حجم ، سورج کا موجودہ حجم اور چاند کا موجودہ حجم سب کے سب سازگار ہیں۔ پھر شمس وقمر سے زمین کی موجودہ دوری ، سورج کا درجہ حرارت ، اور زمین کے چھلکے کا موجودہ موٹاپا اور زمین کی موجودہ رفتار ، زمین کا اپنے محور پر ایک طرف جھکا ہوا ہونا اور پھر خشکی اور تری کی موجودہ نسبت اور ہوا کی موجودہ کثافت اور یہ اس قسم کی دوسری چیزیں سب مل کر زمین کو انسان کے لئے مسخر کرتی ہے اور ذلول بناتی ہیں اور انہی چیزوں کی وجہ سے انسانوں کا رزق فراہم ہوا ہے اور ان سے مختلف حیوانات اور پھر انسان کو زندگی ملی ہے۔ یہ قرآنی آیت ان امور کی طرف اشارہ کررہی ہے تاکہ اسے ہر دور کا آدمی اپنی علمی استطاعت کے مطابق سمجھ سکے۔ جس قدر انسانی مشاہدہ آگے بڑھے گا۔ آیت کا مفہوم وسیع ہوتا جائے گا اور انسان یہ شعور تازہ کرتا رہے گا کہ سب بادشاہی اللہ کے ہاتھ ہی میں ہے۔ وہ ہر چیز کا نگہبان ہے۔ انسان کے پورے ماحول میں ہر چیز کا بھی نگہبان ہے۔ یہ زمین انسان کے لئے مسخرکردی گئی ہے۔ انسان کی حفاظت بھی اللہ کررہا ہے اور اگر کسی وقت اس کی نگہبانی اٹھ جائے تو یہ پورے کا پورا نظام یکلخت بگڑ جائے۔ جب انسانی ضمیر میں یہ بات بیٹھ گئی ، تو اللہ رحمن اور رحیم نے حکم دیا کہ اس زمین کی چھاتی پر گھومو پھرو اور اس کے اندر جو ارزاق رکھے ہوئے ہیں ان کو استعمال کرو۔ فامشوا .................... من رزقہ (76 : 51) ” چلو اس کی چھاتی پر اور کھاﺅ خدا کا رزق “۔ مناکب کے معنی ہیں اس کی بلندیاں یا اس کی پہلو۔ جب اللہ نے زمین کی بلندیوں اور پہلوﺅں کی اجازت دے دی تو اس کے میدان اور اس کی وادیوں میں پھرنے کی اجازت بھی اس میں آگئی اور اس کے اندر جو بھی رزق ہے وہ اللہ کا پیدا کردہ ہے۔ وہ کسی کا مال نہیں ہے ، جو کسی کے ہاتھ میں ہو ، یہ سب اس کی ملکیت میں ہے۔ اور اس کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے ، اس سے جو بالعموم لوگوں کے ذہن میں آتا ہے ، لفظ رزق سے۔ اس سے صرف وہ مال مراد نہیں ہے و کسی کے قبضے میں ہوتا کہ وہ اس سے اپنی ضروریات پوری کرے۔ اس رزق سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو انسان کے لئے رزق کے اسباب ہیں اور جو اس زمین کے اندر ودیعت کی ہوئی ہیں۔ وہ تمام عناصر جن سے یہ زمین بنائی گئی ہے اور وہ تمام عناصر جن کے استعمال کے لئے اللہ نے نباتات ، حیوانات اور انسانوں کو اہل بنایا۔ اس رزق کی تشریح جدید علوم ناے خوب کردی ہے مختصراً اس کی نوعیت یوں ہے : ” ہر پودے کی زندگی ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کے چھوٹے ذرات مالیکیولزئزوزرات پر موقوف ہے جو ہوا میں ہوتے ہیں۔ جن کو یہ پودا سانس لے کر کذب کرتا ہے۔ یہ ایک کیمیاوی عمل ہے جو سورج کی روشنی میں مکمل ہوتا ہے ، یوں سمجھنا چاہئے کہ درختوں کے پتے دراصل درختوں کے پھیپھڑے ہیں۔ سورج کی روشنی میں پودے اس قابل ہوتے ہیں کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کریں اور کاربن کو آکسیجن سے علیحدہ کردیں اور آکسیجن کو واپس کردیں اور کاربن کو ہائیڈروجن کے ساتھ ملا کر ، جسے جڑوں کے ذریعہ پودا پانی کی شکل میں اخذ کرتا ہے ، (جہاں پانی کی آکسیجن اور ہائیڈرون کی علیحدگی ہوجاتی ہے) اور پھر نہایت ہی حیران کن انداز سے قدرت ان عناصر سے شکر اور نامیاتی ریشے اور متعدد دوسرے کیمیاوی مواد تیار کرتی ہے ، جس سے پھل اور پھول تیار ہوتے ہیں اور جس مواد سے پودا اپنی غذا بھی لیتا ہے اور روئے زمین کے تمام دوسرے حیوانات کے لئے غذا تیار بھی کرتا ہے ، اور اس دوران یہ پودا جو آکسیجن سانس کے ذریعہ کھینچتا ہے اسے نکال دیتا ہے ، جس کے بغیر پانچ سیکنڈ کے اندر اندر زندگی ختم ہوجاتی ہے “۔ ” اسی طرح معلوم ہوتا ہے تمام نباتات ، تمام جنگلات ، تمام جھاڑیاں پانی پر پائی جانے والی کائی ، تمام فصلیں دراصل کاربن اور پانی سے تشکیل پاتی ہیں۔ حیوانات اور انسان کاربن ڈائی آکسائیڈ سے نکالتے ہیں اور نباتات آکسیجن نکالتے ہیں۔ اگر یہ تبادلہ نہ ہوتا تو انسان زندگی اور حیوانی زندگی سب آکسیجن اور سب کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آخر کار ختم کردیتے اور جب یہ توازن ختم ہوجاتا تو پودے جھلس جاتے اور انسان مرجاتے۔ حال ہی میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ایک قلیل مقدار حیوانات کی زندگی کے لئے ضروری ہے جبکہ نباتات کو بھی آکسیجن کی قلیل مقدار کی ضرورت ہوتی ہے “۔ ” اگرچہ ہم ہائیڈروجن کو سانس کے ذریعے نہیں جذب کرتے۔ لیکن اس کا وجود بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر پانی موجود نہیں ہوتا اور پانی انسانی اور حیوانی زندگی کے لئے نباتات کے لئے اس قدر ضروری ہے کہ اس کے بغیر انسانوں اور حیوانوں کی زندگی ممکن ہی نہیں “۔ (” سائنس ایمان کی دعوت دیتی ہے “ ترجمہ محمود صالح فلکی ص 02 ، 12) ۔ اسی طرح نائٹروجن کا بھی زمین کے رزق کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ” نائٹروجن کے بغیر کوئی غذائی پودا نشوونما نہیں پاسکتا۔ اسے کسی نہ کسی طرح نائٹروجن ملنا چاہئے۔ زرعی زمین میں نائٹروجن کے داخل ہونے کے دو طریقے ہیں۔ یہ کہ ایک خاص قسم کا بیکٹریا یعنی (جراثیم) سبزی نما نباتات کی جڑوں میں رہتے ہیں۔ شفتل ، چنا ، لوبیا وغیرہ کی جڑوں میں۔ یہ جراثیم خالص نائٹروجن حاصل کرتے ہیں مثلاً ہوا اسے اور ان کو مرکب شکل میں زمین میں چھوڑتے ہیں اور پھر پودا اس کو اپنے اندر جذب کرسکتا ہے۔ جب یہ پودا مرجاتا ہے تو یہ مرکب نائٹروجن زمین کے اندر ہی رہ جاتا ہے “۔ ” ایک طریقہ دوسرا بھی ہے ، جس کے ذریعہ نائٹروجن زمین میں داخل ہوجاتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جب ایسی ہوائیں چلتی ہیں جن میں بجلی چمکتی ہے۔ ہواﺅں کے اندر جب بھی چمکتی ہے تو کسی آکسیجن اور نائٹروجن کو متحد کردیتی ہے۔ اور بارش اسے زمین پر ایک مرکب نائٹروجن کے طور پر پھینک دیتی ہے۔ اس صورت میں کہ پودے ان کو جذب کرسکیں “۔ کیونکہ پودے خالص نائٹروجن کو اپنے اندر جذب نہیں کرسکتے۔ اس لئے کہ ہوا میں اس کی نسبت 87 % ہوتی ہے “۔ (” سائنس ایمان کی دعوت دیتی ہے “ ترجمہ محمود صالح فلکی ص 02 ، 12) ۔ اور زمین کے اندر جو جامد اور سیال رزق موجود ہے یہ سب زمین اس کے حالات رزق کے ساتم متعلق ہے۔ یہاں اندر کے ارزاق کی تشریحات کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ الفظ رزق کا مفہوم یہاں بہت ہی وسیع ہے اور بہت ہی گہرا ہے۔ اور جب اللہ ہمیں اجازت دیتا ہے کہ تم زمین میں پھرو اور رزق تلاش کرو کہ تمہارے لئے زمین کو مسخر کیا گیا ہے تو یہ سب اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہیں اور ہمیں اجازت ہے۔ جس قدر انسان اس سے استعفادہ کرسکے۔ فامشوا ............................ من رزقہ (76 : 51) ” چلو اس کی چھاتی پر اور کھاﺅ خدا کا رزق “۔ لیکن یہ اجازت ایک متعین وقت تک کے لئے ہے اور وقت کا تعین کردیا گیا ہے جو اللہ کے علم میں ہے۔ اللہ کی تدبیر کائنات کے مطابق ہے۔ زندگی اور موت کے عرصہ ابتلا تک کھاﺅ لیکن اس کے بعد۔ والیہ النشور (76 : 51) ” اسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہوکر جانا ہے “۔ اسی کی طرف جانا اور اگر تم نہیں مانتے تو بتاﺅ کس کی طرف جانا ہے ؟ اس کے سوا جائے پناہ تو کہیں بھی نہیں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ابھی انسان اس زمین کی پشت پر اور اس کے اندر اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہی ہورہا تھا اور اللہ کے حکم سے زمین پر چل کر نعمتیں سمیٹ رہا تھا کہ اچانک اس سدھائی ہوئی تابعداد زمین کے اندر ایک جنبش پیدا ہوتی ہے اور اس کا یہ توازن اور رفتار یکدم ختم ہوجاتی ہے۔ اب یہی پر سکون زمین ان پر بمباری کررہی ہے اور پہاڑ گرارہی ہے۔ ان کے احساس اور تصورات میں ایک زلزلہ برپا کردیا جاتا ہے تاکہ یہ لوگ زمین کے قرار و سکون اور نعمتوں سے لطف اندوز ہونے میں ہی مگن نہ ہوجائیں اور ذرا اس بادشاہ کی طف بھی دیکھیں جس نے اس نظام کو قائم کررکھا ہے ، اپنے دلوں اور سوچوں کو اللہ کے ساتھ مربوط رکھیں۔
Top