Fi-Zilal-al-Quran - Al-Mulk : 29
قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ : وہی الرَّحْمٰنُ : رحمن اٰمَنَّا بِهٖ : ایمان لائے ہم اس پر وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا : اور اسی پر توکل کیا ہم نے فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لوگے مَنْ هُوَ : کون ہے وہ جو فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : کھلی گمراہی میں ہے
ان سے کہو ، وہ بڑا رحیم ہے ، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں ، اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے “۔
قل ھو ................ مبین ” یہاں اللہ کی جگہ رحمن کی صفت اس لئے لائی گئی ہے کہ اللہ نبی اور اس کے مٹھی بھر ساتھیوں کو ہلاک نہیں کرتا بلکہ وہ ان پر رحیم وکریم ہے ، جس طرح کہ تمہاری تمنائیں ہیں۔ نبی ﷺ اور ساتھیوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ اللہ کے ساتھ اپنے موجودہ تعلق کو مضبوط کرو ، اعلان کردو۔ امنا بہ (76 : 92) ” ہم اس پر ایمان لائے ہیں “۔ صرف اللہ پر۔ انداز کلام اس کا اظہار کرتا ہے کہ اللہ مسلمانوں کے بہت ہی قریب ہے۔ ان کے درمیان اعتماد کا تعلق ہے۔ وعلیہ توکگنا (76 : 92) ” اور اس پر ہمارا بھروسہ ہے “ صرف اس پر۔ اللہ تعالیٰ نبی کو حکم دیتا ہے کہ اس فضل وکرم کا اعلان کردیں۔ آپ کو گویا کہا جاتا ہے کہ ان کفار کی تمناﺅں اور اقوال سے نو ڈریں۔ میں تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے ساتھ ہوں۔ لہٰذا یہ اعلان کردیں اور یہ اللہ کی جانب سے نبی اور دوستان نبی کے ساتھ دوستی کا اعلان ہے۔ جس میں ان کے لئے اعزاز ہے۔ اور فریق مخالف کو بالاواسطہ دھمکی دی جاتی ہے۔ فستعلمون ................ مبین (76 : 92) ” عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے “۔ یہ بھی ایک انداز ہے جو ہٹ دھرمی اور اصرار کے قلعوں میں دراڑیں ڈال دیتا ہے اور مخاطب کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن پر غور کرے کہ کہیں وہ خود تو گمراہ نہیں ہے۔ کہیں وہ خود تو عذاب کا مستحق نہیں ہورہا ہے۔ فمن یجیر .................... الیم (76 : 92) ” کون ہوگا جو کافروں کو عذاب الیم سے پناہ دے گا “۔ لیکن اس پوری گفتگو میں اللہ ان کو یہ نہیں کہتا کہ تم کافر ہوتا کہ وہ ضد میں نہ آجائیں۔ یہ دعوت کا اسلوب ہے جو زیادہ تر حالات میں مفید رہتا ہے۔ اور اب عقل وخر کی تاروں پر آخری شدید ضرب جن سے زمزمہ اٹھتا ہے۔ یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ خبردار یہ تو ہے اخروی عذاب۔ لیکن اللہ نافرمانوں کو اس دنیا میں بھی عذاب دیا کرتا ہے۔ آج ہی اگر اللہ پانی بند کردے تو سوچو تمہاری حالت کیا ہوجائے۔
Top