Fi-Zilal-al-Quran - Al-Insaan : 14
وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا
وَدَانِيَةً : اور نزدیک ہورہے ہوں گے عَلَيْهِمْ : ان پر ظِلٰلُهَا : ان کے سائے وَذُلِّلَتْ : اور نزدیک کردئیے گئے ہوں گے قُطُوْفُهَا : اس کے گچھے تَذْلِيْلًا : جھکا کر
” جنت کی چھاﺅں ان پر جھکی ہوئی سایہ کررہی ہوگی ، اور اس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے (کہ جس طرح چاہیں انہیں توڑڈالیں) “۔
ودانیة ............................ تذلیلا ۔ یہ کہ چھاﺅں بھی قریب ہوگی اور جنت کے درختوں کے پھل بھی ان پر جھکے ہوں گے ، تو اس سے زیادہ خوشی اور مسرت اور عیش و عشرت کیا ہوسکتی ہے۔ یہ اعلیٰ ترین تصور ہے ، خوشحالی اور فارغ البالی کا۔ یہ تو ہے اس جنت کی عمومی صورت حال جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے تیار کیا ہے ، جن کے لئے یہ صورت بیان کی گئی ہے ، جو نہایت ہی خوبصورت ہے اور روشن ہے تاکہ دنیا میں کتاب الٰہی میں پڑھ کر وہ خوش ہوں۔ ان نعمتوں اور سہولیات کی مزید تفصیلات :۔
Top