Tafseer-e-Haqqani - An-Nahl : 3
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
خَلَقَ : اس نے پیدا کیے السَّمٰوٰتِ : آسمان (جمع) وَالْاَرْضَ : اور زمین بِالْحَقِّ : حق (حکمت) کے ساتھ تَعٰلٰى : برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک کرتے ہیں
(لوگو ! ) اسی نے آسمانوں اور زمین کو حکمت سے بنایا ہے پاک ہے ان کے شریک ٹھہرانے سے
اب خلق السموات والارض الخ میں اپنی خدائی اور یکتائی پر دلائل قائم کرتا ہے اور دلائل بھی وہ کہ جن میں اس کے بندوبست پر بےحد انعام و لطف پایا جاتا ہے جن کے سننے سے دانشمند کا دل اپنے مولیٰ ‘ منعم حقیقی کی طرف مائل ہوتا ہے اور نیز ان دلائل میں اس طرف اشارہ ہے کہ ہم تو تمہارے حال پر اس قدر مہربان ہیں پھر تم شرارت کرتے جاتے ہو اور اس پر اپنی سزا کی جلدی کرتے ہو جو انجام کار مفسدوں کے لیے مقرر ہے۔ چناچہ بدر کی لڑائی میں ان کا خاتمہ ہوا اور ایک قحط شدید پڑا اور متکبر انواع و اقسام کی بلائوں میں مبتلا ہو کر کیڑے پڑ پڑ کر مرے اور اخروی سزا جہنم کی طرف روانہ کئے گئے۔ ان دلائل کے چند قسم ہیں : اول قسم : آسمانوں اور زمین کا ایک ٹھیک اندازے پر پیدا کرنا بآواز بلند اس کی یکتائی پر گواہی دے رہا ہے اور زمین و آسمان کا ہر ہر جزو بآواز بلند یہی کہہ رہا ہے تعالیٰ عمایشرکون۔
Top