Tafseer-e-Haqqani - Al-Muminoon : 112
قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ
قٰلَ : فرمائے گا كَمْ لَبِثْتُمْ : کتنی مدت رہے تم فِي الْاَرْضِ : زمین (دنیا) میں عَدَدَ : شمار (حساب) سِنِيْنَ : سال (جمع)
(جہنم میں ان سے فرشتہ) پوچھے گا کہ تم زمین پر گنتی کے کتنے برس رہے۔
ترکیب : : قال یقر علی لفظ الماضی عنداہل الکوفۃ وبلفظ الامرعنداہل الحرمین والبصرۃ والشام کم ظرف ہے لبثتم کا اے کم سنۃ لبثتم فی الدنیا و فی قبورکم۔ عدد بدل ہے کم سے اور سنین اس سے عددسنین تمیز بھی ہوسکتا ہے۔ عادین بالتشدید من العددای شمار کرنے والے۔ وبالتخفیف علی معنی العادین اے المتقدمین کقولک ھذہ برعاویۃ ای سل من تقدمنا لو کا جواب محذوف ای ماا اجبتم بھذہ المدۃ عبثا مصدر فی موضع الحال او مفعول لہ و انکم معطوف ہے انما پر انہ بالکسر علی الاستیناف۔ تفسیر :۔ منکرین قیامت سے بطور توبیخ کے وہاں یہ بھی سوال ہوگا کم لبثتم فی الارض الخ کہ جو تم کہتے تھے مر کر جینا نہیں اور زندگی ہے تو دنیا ہی کی زندگی ہے اور وہاں کی زندگی اور اس کے لذات مال وجاہ پر تم مٹے ہوئے تھے اور اب یہاں اپنے گمان کے برخلاف مر کر زندہ ہونا اور ابدی عذاب میں مبتلا ہونا بھی دیکھ لیا۔ اب بتلاؤ کہ تم دنیا میں کس قدر ٹھہرے تھے۔ وہاں کے عذاب ابدی کے مقابلہ میں اور نیز اس وجہ سے بھی کہ گزری ہوئی عمر بوقت مصیبت بہت ہی کم معلوم ہوا کرتی ہے یوں کہیں گے یو ما او بعض یوم ایک روز یا اس سے بھی کم دنیا میں رہے تھے۔ فسئل العادین چاہے کہ آپ گنتی کرنے والوں فرشتوں سے دریافت کرلیجئے۔ فرشتہ کہے گا ایک دن یا نصف کہنا تو غلط ہے مگر یہ صحیح ہے کہ تم دنیا میں بہت کم رہے۔ لو انکم کنتم تعلمون بشرطیکہ تم بھی اس کو جانو کہ دارآخرت اور حیات جاودانی کے مقابلہ میں یہاں کی زندگی خواہ سو برس کی کیوں نہ ہو بہت ہی کم ہے۔ فسئل العادین کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ قدیمی لوگوں سے پوچھ دیکھو۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ وہ جو پہلے زمانوں میں بڑی عمروں کے لوگ گزرے ہیں وہ بھی حیات دنیا کو اس قدر قلیل سمجھتے ہیں۔ یہ حیات دنیا کی حقیقت ہے کہ جس کے لیے انسان ایسی تدبیریں کرتا پھرتا ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ کم لبثتم میں سوال مرنے کے بعد قبر میں رہنے کی مدت سے ہے کہ آخرت کے مقابلہ میں اس کو بھی بہت ہی قلیل تصور کریں گے۔ یہ بھی ممکن ہے۔
Top