Tafseer-e-Haqqani - Al-Muminoon : 2
الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ
الَّذِيْنَ : اور جو هُمْ : وہ فِيْ صَلَاتِهِمْ : اپنی نمازوں میں خٰشِعُوْنَ : خشوع (عاجزی) کرنے والے
(یہ) وہ ہیں جو اپنی نماز میں عاجزی کیا کرتے ہیں
(2) الذین ھم فی صلوتہم خاشعون یہاں سے حکمت عملیہ شروع ہوتی ہے اور نماز سب میں اول بات ہے اس جملہ میں نہ صرف نماز پڑھنے ہی کا حکم ہے بلکہ نماز میں عاجزی کرنے کا بھی۔ خشوع کے معنی میں اختلاف ہے بعض اس کو دل کا فعل کہتے ہیں۔ ڈرنا اور دل سے معافی پر لحاظ کر کے خدا تعالیٰ کو حاضر یا اپنے آپ کو اس کے آگے کھڑا سمجھ کر عجز و نیاز کرنا اور بعض اس کو ہاتھ پائوں کا عمل کہتے ہیں سکون سے کھڑا رہنا ادھر ادھر التفات نہ کرنا کپڑے یا ڈاڑھی یا اور چیز سے کھیل نہ کرنا۔ نماز کے اندر اور بعض نے دونوں باتوں کو لیا ہے اور یہی قوی ہے اور صحیح حدیثوں میں دونوں باتوں کی طرف اشارہ ہے اور یہ ظاہر ہے۔ کس لیے کہ جب انسان اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے سامنے سمجھے گا اور اس سے عجز و نیاز کرے گا جو روح نماز ہے تو وہ کبھی ادھر ادھر ملتفت نہ ہوگا۔ جب شاہان دنیا کے دربار میں ادھر ادھر ملتفت ہونا سوئِ ادب ہے تو وہاں دربار عالی میں کیونکر ادھر ادھر ملتفت ہوسکتا ہے وہاں جو رسمی نماز پڑھتے ہیں اور دل سے نہ ان کو حضور ہے نہ نیاز ‘ وہ ایسی باتیں کرتے ہیں ان کی نماز ان کے منہ پر ماری جاتی ہے۔
Top