Tafseer-e-Haqqani - Ash-Shura : 29
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠   ۧ
وَمِنْ اٰيٰتِهٖ : اور اس کی نشانیوں میں سے ہے خَلْقُ السَّمٰوٰتِ : پیدائش آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی وَمَا : اور جو بھی بَثَّ فِيْهِمَا : اس نے پھیلا دیے ان دونوں میں مِنْ دَآبَّةٍ : جانوروں میں سے ۭ وَهُوَ : اور وہ عَلٰي : پر جَمْعِهِمْ : ان کے جمع کرنے (پر) اِذَا يَشَآءُ : جب بھی وہ چاہے ۔ چاہتا ہے قَدِيْرٌ : قدرت رکھنے والا ہے
اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آسمانوں اور زمین کو بنایا اور اس پر ہر قسم کے چلنے والے جانور پھیلائے 1 ؎ اور وہ جب چاہے گا ان کو جمع کرنے پر قادر ہے۔
1 ؎ مابث فیھا من وآبۃ پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ آسمانوں میں تو ملائکہ ہیں ان کے حق میں دبیب نہیں پایا جاتا ہے نہ ان کو دابۃ کہتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ تغلیبافیہما کا لفظ بولا گیا جیسا کہ چاند اور سورج کو قمرین کہتے ہیں ماں باپ کو ابوین اور دبیب کے معنی خاص طور پر چلنا ہی نہیں بلکہ جس کے لیے جیسا چلنا مناسب ہو پس فرشتے بھی آسمانوں میں چلتے پھرتے ہیں یا وہاں بھی حیوانات ہوں۔ 12 منہ
Top