Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-e-Haqqani - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ
: بہت بابرکت ہے وہ ذات
بِيَدِهِ
: جس کے ہاتھ میں ہے
الْمُلْكُ
: ساری بادشاہت
وَهُوَ
: اور وہ
عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ
: ہر چیز پر
قَدِيْرُۨ
: قدرت رکھنے والا ہے
بابرکت ہے وہ ذات کہ جس کے ہاتھ میں (دارین کی) سلطنت ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
ترکیب : تبارک تفاعل من البرکۃ وھی النماء والزیاوۃ حسیۃ کانت او عقلیۃ وکثرۃ الخیر ودوامہ ایضا وصیغۃ التفاعل للمبالغۃ فی ذلک الملک مبتداء بیدہ خبرو الجملۃ صلۃ الذی وھو فاعل تبارک وھو علی کل شیئٍ قدیر الجملۃ معطوفۃ علی الصلۃ مقررۃ لمضمونھا لیبلوکم واللام متعلقہ بخلق (ایکم مبتدائ) احسن عملا خبرہ والجملۃ واقعۃ موقع المفعول ثانیا لفعل البلویٰ المتضمن معنی العلم الذی خلق سبع سمٰوات قیل ھو لغت للعزیز الغفور اوبیان اوبدل والاوجہ انہ نصب اور فع علی المدح متعلق بالموصومین السابقین وان کان منقطعا عنھما اعرابا۔ طباقا صفۃ سبع سمٰوات ای مطابقۃ علی انہ مصدر وصف بہ المفعول اومصدر موکد لمحذوف ھو صف تھا ای طوبقت طباقا۔ اوذات طباق جمع طبق کجبل وجبال اوطبقۃ کر حبۃ ورحاب ماتریٰ صفۃ اخری السبع سمٰوات و قریٔ تفوت ومضاھما واحد کر تین مصدر ای رجعتین والمراد بالتثنیۃ التکریر والتکثیر کمافی لبیک وسعدیک ینقلب مجزوم لکونہ جواب الامر خاساء بعید اعن اصابۃ الطلوب کانہ طردعنہ طردا بالصفاء حال من البصر وھو حسیر حال فعیل بمعنی فاعل من الحسرو ھوالاعیاء یقال حسر بصرہ یحسر حسور ای کل وانقطع وبلغ الغایۃ فی الاعیائ۔ تفسیر : اس سورة کا نام سورة تبارک اور واقیہ اور منجیہ ہے۔ تبارک اس لیے کہ یہ لفظ اس کے اول میں ہے اور اس کے پڑھنے اور عمل کرنے والے کو برکت حاصل ہوتی ہے۔ واقیہ اور منجیہ اس لیے اپنے پڑھنے والے کو ضلالت سے دنیا میں عذاب سے آخرت میں بچاتی اور نجات دیتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قرآن میں تیس آیت ہیں جنہوں نے ایک شخص کی شفاعت کی یہاں تک کہ بخشا گیا۔ وہ تبارک الذی بیدہ الملک ہے (رواہ احمد والترمذی و ابودائود و النسائی و ابن ماجہ) ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بعض صحابہ ؓ نے ایک قبر پر خیمہ قائم کیا اور اسے معلوم نہ تھا کہ یہاں قبر ہے وہاں ایک آدمی کو سنا کہ تبارک الذی پڑھتا ہے یہاں تک کہ اس کو تمام کیا۔ تب اس صحابی ؓ نے آ کر نبی ﷺ کو خبر دی۔ آپ نے فرمایا یہ سورة مالغہ ہے یہ منجیہ اپنے پڑھنے والوں کو عذاب قبر سے نجات دیتی ہے۔ (رواہ الترمذی) ۔ جابر ؓ کہتے ہیں نبی ﷺ سوتے نہ تھے جب تک کہ الم تنزیل وتبارک الذی بیدہ الملک تمام نہ کرلیتے تھے۔ (رواہ الترمذی والدارمی) ۔ رحمانیات ربانیات : یہ سورة مکہ میں نازل ہوئی۔ قرطبی کہتے ہیں اس پر سب کا اتفاق ہے۔ ابن عباس ؓ بھی یہی فرماتے ہیں کہ یہ بھی مکہ میں نازل ہوئی۔ اس کے بعد سورة حاقہ و سورة معارج نازل ہوئی۔ مگر حسن بصریٰ (رح) وغیرہ فرماتے ہیں مدینہ میں نازل ہوئی لیکن کلام کا طرز کہے دیتا ہے کہ مکہ میں نازل ہوئی۔ اور یہ سورة رحمانیات سے ہے کہ بجائے اسم ذات کے اسم رحمن اس میں مستعمل ہے اور دیگر سورتیں کہ ان میں اسم رب کا استعمال ہے ان کو ربانیات کہتے ہیں۔ ربط اس سورة کا اس سے پہلے سورة تحریم سے متعدد وجوہ سے ہے جو تامل کرنے سے واضح ہوسکتی ہیں۔ ازانجملہ یہ کہ پہلی سورة میں آداب و شرائط مرد و عورت کے مذکور تھے کہ عورت کو مرد کی مخالفت نہ چاہیے اور مرد کو لازم ہے کہ اہل و عیال کو معاصی سے روکے اور ان سے لڑ کر یا ان کی رضامندی کے لیے حکم الٰہی میں کوتاہی نہ کرے۔ لم تحرم ما احل اللہ۔ اس سورة میں لوازم و آداب خدائی مذکور ہیں۔ وہاں ایک گھر کی ریاست مذکور تھی یہاں تمام عالم کی جہانداری مسطور ہے۔ ازانجملہ یہ کہ اس سورة میں مرد و عورت کی خانہ داری مذکور تھی اور یہ بھی کہ باوجودیکہ مرد گھر بناتا عورت کے لیے رزق و آسائش کا سامان کرتا ہے مگر پھر بھی وہ ذرا سی خلاف طبع بات پر بگڑ بیٹھتی ہے اور مرد کو اس کے فرائضِ منصبی سے ترک کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس سورة میں یہ بتلایا گیا کہ خدا تعالیٰ بادشاہ حقیقی ہے، موت وحیات کا مالک ہے، دنیا کا گھر آسمان و زمین اسی نے بنائے۔ اس گھر کو قندیلوں سے آراستہ کیا، رزق و روزی کے سامان پیدا کئے، دارِآخرت کا رستہ بتانے والے ہادی بھیجے اور پھر ہر طرح سے اس کا قبضہ وقدرت ہے مگر اس کے بندے اس کی کیا کیا نافرمانی کرتے ہیں۔ اس کی خدائی میں اوروں کو حصہ دار ٹھہراتے ہیں مگر وہ دنیا میں اس پر بھی کسی کے رزق کا دروازہ بند نہیں کرتا، درگزر کرتا ہے۔ اس میں بالادستوں کو تعلیم ہے کہ زیردستوں پر رحم کیا کریں اور اپنے بالادست کی نافرمانی سے باز آئیں ورنہ ایک دوسرے جہان میں جہنم کے قیدخانہ میں سزا بھگتنی پڑے گی اور اس مخالفت و نافرمانی سے اس کی بادشاہت میں کوئی بھی قصور نہیں آتا۔ ازانجملہ یہ کہ قرآن مجید اور تمام آسمانی کتابوں کی زیادہ توجہ ان چند مسائل کی طرف ہے۔ اول خدا تعالیٰ کی توحید وصفات کا مسئلہ۔ دوم دارآخرت کا مسئلہ کہ وہ ایک جہان ہے جہاں جا کر برے بھلے کاموں کی جزاء و سزا پانی ضرور ہے۔ سوم نبوت کا مسئلہ کہ اس نے دنیا میں بندوں کی رہنمائی کے لیے وقتاً فوقتاً حضرات انبیا (علیہم السلام) بھیجے ہیں۔ چہارم اصلاح معاش کا مسئلہ کہ دنیا میں ایسا کرنا چاہیے منجملہ ان کے حقوق زوجیت و خانہ داری کے طریقے بھی ہیں۔ اور قرآن مجید میں کمال یہ ہے کہ ان مسائل کو مختلف عنوان اور نئے نئے اسلوب سے موٹی موٹی نظیروں اور عام محاوروں اور مشہور قصوں اور لوگوں کے مسلمہ واقعات اور ذہن میں بیٹھے ہوئے علوم و خیالات میں بیان کرجاتا ہے جس سے عالم و جاہل اپنے اپنے مذاق کے موافق لطف حاصل کرتے ہیں۔ سورة تحریم میں ابتداء مسئلہ معاش کی تھی اور بعد میں اور مسائل بھی ضمناً بیان ہوئے تھے۔ اس سورة میں ابتداء مسئلہ مبدئِ حق سبحانہ کی ذات وصفات سے کی گئی اور اس کے بعد اور مسائل بھی بیان کئے گئے اور معاد کے مسئلہ کا بھی ثبوت کیا گیا تاکہ اس بادشاہ حقیقی سے ڈر کر ہر کوئی مسئلہ معاش کے قوانین و دستورات کی پابندی کرے اور بھی وجوہ ہیں۔ فقال تبارک الذی بیدہ الملک۔ بڑا بابرکت ہے وہ جس کے قبضہ میں ملک ہے ‘ برکت ‘ خیرِکثیر و افزائش و دوام مبارک جس میں یہ برکت ہو۔ دنیا میں جس کے پاس مال و اولاد زیادہ ہو اس کو کہتے ہیں اس کے مال و اولاد میں برکت ہے اور جو یہ چیزیں جلد جاتی رہیں کہتے ہیں اس کے مال و اولاد میں برکت نہ ہوئی۔ اور ہر چیز اپنے موقع پر کام آئے اس میں بھی برکت کا لفظ مستعمل ہوتا ہے۔ فضول خرچی سے جو مال اڑ جائے کہتے ہیں برکت نہ ہوئی یا بےموقع صرف ہو تب بھی کہتے ہیں برکت نہ ہوئی۔ انہیں لحاظ سے علم کی برکت عمر کی برکت ہے خیرکثیر اور موقع پر استعمال اور مثمر بنتائج ہونا اور دوام یہ چار باتیں برکت کے معنی میں ملحوظ ہیں جو شخص اس جہان زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہو اور جس نے دنیا میں طرح طرح کی مخلوق پیدا کی ہو اور پھر ہر ایک کی روزی رزق اور ان کے سامان عطا کرتا ہو اس سے زیادہ بابرکت کون ہے کہ اس قدر صرف پھر بھی اس کے ہاں کمی نہیں۔ اس لیے لفظ تبارک فرمایا گیا جس کے معنی زیادہ برکت والا۔ الذی بیدہ الملک۔ گویا تبارک کے دعویٰ پر ایک واضح دلیل ہے۔ ملک۔ عالم محسوسات آسمان و زمین ‘ حجروشجر ‘ انسان و اشجار و احجار یعنی عالم اجسام۔ ملک جب اس کے ہاتھ یعنی قبضہ میں ہے تو اس کے بابرکت ہونے میں کلام ہے اور اس لیے تبارک الذی یا تبارک الرحمن نہ فرمایا ورنہ دعویٰ دلیل کا محتاج ہوتا عالم ملک کو جب تصور کیا جائے اور ذرہ سے لے کر آفتاب تک جو کچھ اس کے فیضان و انعامات کے دریا رواں ہیں اور پھر ہر روز ترکیبات نادرہ و اوضاع عجیبہ امکان سے فعلیت کے مرتبہ میں ظاہر ہو رہے ہیں ان کو بھی خیال کیا جائے تو بےاختیار دل کو اس کی طرف کشش پیدا ہو اور روح پکار اٹھے کہ تو ہی تو ہی توئی ہے توئی ؟ عالم ملک کے لیے بلحاظ فیض رسانی لفظ تبارک مناسب ہے جیسا کہ عالم ملکوت کے لیے (جو نفس ناطقہ سے لے کر قلم اعلیٰ تک ہے یعنی عالم ارواح) باعتبار تنزیہ و تقدیس کے جو روحانی عالم کے لیے مناسب ہے لفظ تسبیح زیبا ہے۔ چناچہ سورة یٰسٓ کے اخیر میں فسبحان الذی بیدہ ملکوت کل شیء فرمایا۔ وہاں تبارک الذی بیدہ ملکوت کل شیء نہ کہا بیدہ الملک میں اس طرف وہم جاسکتا تھا کہ موجودہ عالم اجسام پر اس کی بادشاہی ہے اس سے بڑھ کر اور قدرت اس میں نہیں اس لیے ترقی دی گئی۔ وھوعلی کل شیء قدیر کہ وہ ہر شے پر قادر ہے۔ ایسے ایسے اور سینکڑوں عالم پیدا کرسکتا ہے، اس عالم کو فنا کرسکتا ہے، اس میں جو چاہے تصرف کرسکتا ہے، جہاں تک تمہارے فہم کو بھی رسائی نہیں وہاں تک بلکہ اس سے بھی پرے تک اس کی قدرت کا جھنڈا قائم ہے۔ شے : شے کے لفظ میں علماء نے بہت کلام کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں لفظ کے لحاظ سے شے ممکن کو کہتے ہیں جس سے واجب اور ممتنع خارج ہیں اس لیے اس کو اپنی ذات پر قادر مان کر یہ خیال کرنا کہ وہ اپنے آپ کو یا اپنی صفات کو نیست کرسکتا ہے غلط خیال ہے۔ کس لیے کہ وہ اور اس کے صفات واجب ہیں ممکن نہیں اور ممکن نہیں تو شے کا اطلاق بھی ان پر جائز نہیں۔ اسی طرح محالات عقلیہ بھی کہ اپنے جیسا دوسرا بھی پیدا کرسکتا ہے وغیرہ قدرت کے تحت میں نہیں اس لیے کہ ان میں مقدور ہونے کی صلاحیت ہی نہیں اس کی قدرت میں کوئی قصور نہیں۔ بعض کہتے ہیں شے موجودہ کو کہتے ہیں جس میں ممکن اور واجب دونوں شریک ہیں نہ ممتنع۔ پھر ان اصول پر علمائِ کلام نے بہت سی تفریعات قائم کی ہیں۔ اس سے بڑھ کر اور کسی کی کیا قدرت ہوگی کہ عالم وجود (جس میں فلک و ملکوت ہیں) اور عالم عدم دونوں اسی کے ہاتھ کے بنائے ہوئے ہیں۔ اس لیے فرماتا ہے۔ الذی خلق الموت والحیٰوۃ۔ کہ اس نے موت یعنی عالم عدم اور حیات یعنی عالم وجود بنایا۔ یا یوں کہو اس نے اپنی برکت کا اظہار دو جملوں میں کیا۔ اول الذی بیدہ الملک وھو علٰی کل شیئٍ قدیر۔ جس سے تمام نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔ دوسرا جملہ الذی خلق الموت والحیوٰۃ ہے۔ اس میں عالم آخرت کی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے۔ موت سے مراد دنیا کی موت اور حیات سے مراد حشر کے دن کی حیات گویا ایک جملہ میں اس جہان کی بادشاہت کا ثبوت تھا تو دوسرے میں اس جہان باقی کی بادشاہت کی طرف ایماء ہے۔ پھر جو دونوں جہان کا بادشاہ ہو اس سے زیادہ کون مبارک ہے ؟ اس لیے ہر حال میں اس کی طرف ملتجی ہونا چاہیے۔ اس تقدیر پر موت کا مقدم کرنا اور حیات کا مؤخر کرنا بھی ہر ایک کی تقدیم و تاخیر ذاتی پر مبنی ہے کس لیے کہ دنیا کی موت اول ہوتی ہے۔ پھر آخرت کی زندگی ہوگی۔ یا یوں کہو کہ منجملہ ظہور برکات الٰہیہ کے ایک برکت انسان کو اپنا مظہر بنا کر علم و ادراک سے مزین کرنا اور خلافت کی کرسی پر بٹھانا ہے مگر پوری برکت یہ ہے کہ عالم باقی کے لیے نیک کاموں پر بھی اس کو آمادہ کردینا چاہیے اس لیے برے کاموں سے روکنے والی اور نیک کاموں پر آمادہ کرنے والی چیز کو ذکر کیا کہ اس نے موت اور زندگی بنائی۔ دنیا کی زندگی مراد لی جائے تو موت کو اس لیے مقدم کیا کہ موت کو خیال کرتا ہے اور اس چند روزہ زندگی کو ہیچ سمجھے۔ دوم یہ کہ اس جہان میں ذاتی اور حیات عارضی ہے اور ذاتی عارضی پر مقدم ہوتا ہے اور اگر موت سے مراد وہ حالت لی جائے جو نطفہ میں تھی یعنی انسان جس وقت نطفہ تھا تو بھی موت مقدم ہے۔ حیات تو نعمت ہی ہے مگر دنیا میں موت بھی اس کے برکات کا مظہر ہے۔ کس لیے کہ اگر موت نہ ہو۔ اول تو یہ قوائے جسمانیہ سو دو سو برس کے بعد بلکہ اس سے پہلے بیکار ہوجائیں اور زندگی وبال ہوجائے۔ دوم دنیا میں بہت لوگوں کی موت اور دوسروں کے لیے راحت ہوتی ہے۔ سوم دار آخرت کی زندگی اس کڑوے پھل کھانے پر موقوف ہے ہر ایک کو اس پل سے گزرنا ہے اور عالم جاودانی میں جانا اور نیک و بد اعمال کی سزاء و جزا پانا ہے اس لیے فرماتا ہے۔ لیبلوکم ایکم احسن عملا۔ تاکہ تمہیں آزمائے کہ کس کے اچھے عمل ہیں ؟ یہ دنیا ایک کھیت ہے جس نے نیک کاموں کا تخم بویا ہے وہ اس جہان میں اس کے عمدہ پھل پائے گا، برکت حاصل کرے گا۔ حسن عمل کی تفسیر بعض روایات میں یوں آئی ہے کہ احسن عقلا اور عن محارم اللہ واسرع فی طاعۃ اللہ۔ کہ عقل عمدہ پیدا کرے کس لیے کہ تمام دینیات کا اعتبارو مدار عقل پر ہے۔ عاقل بہت جلد عبرت حاصل کرتا ہے اور اس کے بعد خدا کی ممنوع چیزوں سے اور ممنوع کاموں سے بچے اور اس کی اطاعت میں جلدی کرے، غفلت اور آج کل میں اس عمر گرانمایہ کو نہ گزارے۔ ایک بات قابل بحث یہ بھی ہے کہ موت زوال حیات کا نام ہے پھر اس کے پیدا کرنے کے کیا معنی ؟ جواب۔ (1) موت وحیات میں مقابلہ ہے تقابل عدم و ملکہ کس لیے کہ موت اس کے حس و حرکات کا زوال ہے کہ جس میں اس حس و ادراک کی صلاحیت ہو اس لیے لکڑی پتھر کو مردہ یا زندہ نہیں کہتے اور عدم ملکہ عدم محض نہیں بلکہ اس میں وجود کا شائبہ ہے اس لیے اس کا مخلوق ہونا بعیدازقیاس نہیں۔ (2) بعض روایات سے ثابت ہے کہ عالم مثالی میں موت وحیات وجودی چیزیں ہیں، موت کو اس عالم میں ابلق مینڈھے سے مشابہت ہے اور حیات کو ابلق گھوڑے سے اس لیے ان پر خلق کا لفظ استعمال کرنا درست ہے لیکن بعض علماء نے خلق کو بمعنی جعل قرار دیا کہ موت اور زندگی بنائی۔ علم اجمالی و تفصیلی : سوال :۔ لیبلو حق سبحانہ کی نسبت کیونکر صحیح ہوسکتا ہے کس لیے کہ اس کو ہر چیز کا علم ازلی ہے اس کو آزمائش کی ضرورت کیا ہے ؟ جواب : علم کی دو قسم ہیں۔ ایک اجمالی یعنی اشیاء کے پیدا ہونے سے پہلے، دوم تفصیلی اشیاء کے پیدا ہونے کے بعد۔ علم تفصیلی میں حق سبحانہ کو علم اجمالی سے کوئی زیادہ بات معلوم نہیں ہوتی۔ دونوں کا یکساں انکشاف ہوتا ہے اس جگہ مراد علم تفصیلی ہے اور وہی بندوں پر الزام و اکرام کے لیے حجت و سند ہے۔ بندوں کے اعمال دو قسم کے ہیں، بد یا نیک۔ ان کے وقوع ہونے کے بعد خدا کی طرف سے دو ہی باتیں پیش آتی ہیں یا پوری سزاء و جزا نیک اعمال کا عمدہ بدلہ۔ برے اعمال کی سزا جہنم یا درگزر اور بخشش۔ اس لیے کہ اس کے بعد یہ بھی فرما دیا وھوالعزیز کہ وہ زبردست ہے۔ ہر طرح کی قدرت رکھتا ہے، نیک کاموں کا بدلہ بھی دے سکتا ہے، برے کاموں کی سزا بھی دے سکتا ہے، دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔ اس میں پہلی بات کی طرف اشارہ ہے۔ الغفور وہ معاف کرنے والا بھی ہے اس میں دوسری بات کی طرف اشارہ ہے۔ اور نیز شایان شاہی بھی یہ دونوں وصف ہیں بادشاہ میں اگر قدت و شوکت نہیں تو یہی اس کی بادشاہت میں نقص ہے اور اگر بخشش و عطا نہیں تو یہی اس کی سلطنت اور اس کی برکت میں کمی ہے۔ تبارک الذی بیدہ الملک وھو علی کل شیئٍ قدیر تک مسئلہ توحید و اثبات صفات باری کا ثبوت ہے اور الذی خلق الموت والحیٰوۃ پہلے مسئلہ کا تتمہ اور دوسرے مسئلہ معاد کی تمہید ہے۔ لیبلوکم ایکم احسن عملا۔ وھوالعزیز الغفور میں مسئلہ معاد کا بیان ہے۔ اور دونوں مسئلوں میں تقدیم و تاخیر ایک عجب لطف دے رہی ہے۔ کس لیے کہ انسان جب تک خدائے قادر اور اس کے صفات شہنشاہی وغیرہ کا قائل نہ ہوگا مرنے کے بعد یا دنیا میں نیک و بدکاموں کی سزاء و جزا کا بھی قائل نہیں ہوسکتا اور یہی اعتقاد انسان کو راستی ‘ نیکوکاری، برواحسان کی طرف محرک اور بری باتوں سے مانع ہے۔ چونکہ مسئلہ توحید ایک ایسے بیان سے ثابت کیا کہ جس کو عقول عالیہ بخوبی سمجھ سکتی ہیں مگر عقول سائلہ و متوسطہ بغیر کسی نظیر و شاہد کے جو اس کی شہنشاہی اور قدرت کاملہ کی واضح دلیل ہو اچھی طرح سے نہیں سمجھ سکتی تھیں اور سمجھانا ہر فریق کا مقصود تھا اس لیے اس کے بعد شواہد و دلائل پیش کرتا ہے۔ پہلا شاہد : فقال الذی خلق سبع سموٰات طباقا وہ کہ جس نے اوپر تلے سات آسمان بنائے۔ عالم ملک میں آسمانوں اور ان کے ستاروں سے بڑھ کر کوئی بڑی چیز نہیں۔ آفتاب، ماہتاب، زحل، مشتری، مریخ، زہرہ، عطارد اس قدر بڑے اجسام ہیں کہ زمین سے لاکھوں اور ہزاروں حصے زیادہ ہیں۔ پھر ان میں نور اور عجائبات رکھے ہوئے ہیں جن کے آگے زمین کے عجائب و مخلوقات کی کچھ بھی حقیقت نہیں۔ ان ساتوں کے سوا جو ایک کے اوپر دوسرا ہے اور سینکڑوں ثوابت اور بعض ستارے ہیں جو زمین سے کروڑوں حصے بڑھ کر ہیں یہ کس نے بنائے ؟ یہ ازخود نہیں بن گئے کس لیے کہ اجرام علویہ کا مادہ یکساں ہے اور ہر ایک کا مقتضائے طبی برابر ہے پھر ان کو اوپر تلے اور بڑا چھوٹا کس نے کردیا ازخود ہوتے تو یکساں ہوتے۔ طباقا کے لفظ میں اسی طرف اشارہ ہے۔ جب ان ستاروں کی یہ کیفت ہے تو ان آسمانوں کی وسعت کا کیا ٹھکانا ہے جن میں یہ ہیں اور حرکت کرتے پھرتے ہیں۔ حال کا فلسفہ سات آسمانوں کا قائل نہیں۔ وہ ان بلند سات ستاروں کو سبع سماوات کا مصداق سمجھتے ہیں مگر توریت سفرالخلیقہ کے اول باب اور دیگر مقامات پر بھی آسمانوں کا بنانا مذکور ہے۔ پاک کتابیں اور اگلے حکیم سب اس کی شہادت دے رہے ہیں۔ ان ستاروں کی ایسی تیز حرکت کہ منٹوں میں سینکڑوں کوسوں کا فاصلہ طے کر جاتے ہیں پھر باہم ٹکرانے نہیں پاتے۔ ہر ایک اپنے مدار پر دورہ کر رہا ہے۔ یہ اسی بادشاہ ذوالجلال قادر کا کام ہے۔ نہ طبائع اجرام علویہ کا نہ کسی اور کا۔ پھر ان کی شعاعوں سے جو کچھ تاثیرات زمین پر ہوتے ہیں وہ بھی قابل غور ہیں۔ دوسرا شاہد : اس کے بعد دوسرا شاہد اس محکم عمارت کی استواری ہے فقال ماتریٰ فی خلق الرحمن من تفاوت۔ اے نظر کرنے والے ! تو رحمن کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں (جو بڑا بابرکت اور بادشاہ اور قادر ہے) کوئی فرق نہیں دیکھے گا۔ قدرت نے اپنی کاریگری میں کہیں فرق نہیں کیا۔ ہر چیز میں انسان سے لے کر حیوانات، نباتات، عناصر اجرام علویہ ‘ سبع سماوات اور نیرات تک یکساں کاریگری کی ہے۔ یہ نہیں کہ بعض اشیاء کو حکمت و بصیرت سے بنایا اور بعض کو یوں ہی کیف ما اتفق بےسوچے سمجھے یا بیکار فضول بنا دیا ہے۔ صرف انسان کے اعضاء کا تناسب اور حسن ترتیب عقل کو حیرت میں ڈالنے والی چیز ہے۔ کسی درخت کے پتے یا پھول کو ہاتھ میں لے کر دیکھیے گا تو آپ بول اٹھے گا کہ سبحان اللہ ! تیری صنعت یہ ہیں ماتریٰ فی خلق الرحمن من تفاوت کے معنٰی۔ یہ مراد نہیں کہ مخلوقات میں باعتبار ان کی جسامت اور رنگت اور تاثیر کے کوئی فرق نہیں کیونکہ اگر ایسا ہو تو شبہ ہوجائے کہ یہ طبیعت اجسام کا یکساں فعل ہے اور نیز کارخانہ دنیا میں انتظام نہ رہے۔ فارجع البصر ھل تریٰ من فطور۔ اگر ایک بار دیکھنے میں شبہ باقی رہ جائے تو پھر دیکھ تجھ کو اس کی صنعت میں فطور بھی دکھائی دیتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ فطورفطر کی جمع ہے اور فطر کے معنی درز یا دراڑ کے ہیں۔ قتادہ کہتے ہیں اس کے معنی خلل کے ہیں۔ ابن عباس ؓ سے بھی ایسا ہی کچھ منقول ہے۔ سدی کہتے ہیں فطور کے معنی خروق ہیں شگاف کے لحاظ سے یہ دیکھنا آسمانوں اور ستاروں کے لیے زیادہ چسپاں ہیں۔ سوال :۔ احادیث صحیحہ و آیات قرآنیہ سے آسمانوں میں دروازے ثابت ہیں۔ ابواب السماء کا لفظ آیا ہے پھر فطور تو پایا گیا۔ جواب :۔ کسی چھت یا مکان مرتفع میں کھڑکی یا دروازہ جو ہوتا ہے تو کاریگر کے ارادہ اور صنعت سے ہوتا ہے اس کو فطور نہیں کہتے۔ فطور دراڑ یا درز جو کاریگر کی صنعت میں قصور ہونے سے اس کے ارادے بغیر ہوجائے یہی اس عمارت کا نقص ہے۔ اس کے بعد بھی اگر شبہ رہ جائے تو ثم ارجع البصر کر تین پھر دوبارہ نگاہ کر۔ سوال :۔ یہ نگاہ دوبارہ نہ ہوگی بلکہ تیسری بار کس لیے کہ دو بار اس سے پہلے نظر کرچکا۔ پھر کر تین کا لفظ کیونکر صحیح ہوگا جو کرہ بمعنی بار کا تثنیہ ہے۔ جواب :۔ تثنیہ سے مراد کثرت ہے جس کے معنی ہوں گے باربار دیکھ یعنی کئی بار نظر کر کہ شبہ نہ رہے اور عرب کی زبان میں تثنیہ کثرت کے لیے بھی مستعمل ہوتا ہے جیسا کہ لبیک وسعد یک حنینک وھذا دیک ینقلب الیک البصر خاسئا وھوحسیر۔ کوئی عیب و خلل دکھائی نہ دے گا بلکہ نگاہ دیکھتے دیکھتے تھک جائے گی۔ پھر کر آئے گی تیری طرف تیری نگاہ خیرہ اور ماندہ ہو کر۔ خاسئا مبعد امن قولک خسئات القلب اذاباعدۃ۔ مبرد کہتے ہیں خاسی کے معنی ہیں ڈوکارا ہوا ذلیل۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں خاسی وہ ہے جو اپنے مقصود کو نہ دیکھے (حسیر) یہ حسیرالعین بعد المریٰ سے مفعول بھی ہوسکتا ہے اور حسور تکان کے معنی سے فاعل بھی ہوسکتا ہے۔ بہت دیر تک جب کسی چیز کو دیکھا جاتا ہے تو آنکھیں پتھرا جاتی ہیں اور اندھیرا سا ہوجاتا ہے۔ نگاہ جو اس شے پر بھی ایسی حالت میں وہاں سے لوٹ آتی اور چندھیا جاتی ہے۔ ا ؎ بعض مفسرین نے وجعلناھا رجوما للشیاطین کے یہ بھی معنی بیان کئے ہیں کہ ان ستاروں سے شیاطین یعنی منجمین مارے جاتے ہیں کہ ان کی تاثیرات سے احکام لگاتے ہیں خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اوروں کو بھی گمراہی میں ڈالتے ہیں ان کے لیے ہم نے عذاب آتش تیار کر رکھا ہے۔ 12 منہ
Top