Tafseer-e-Haqqani - Al-Mulk : 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
وہی تو ہے کہ جس نے تمہارے لیے زمین کو نرم کردیا تو اس پر چلا پھرا کرو اور اس کی روزی کھاؤ (پیو) اور اس کے پاس پھر کر جانا ہے۔
ترکیب : الارض معقول اول لجعل ذلولا مفعول ثان لہ لکم متعلق لجعل فامشوا الفاء لترتیب الامر بالمشیٔ علی الجعل المذکور والیہ النشور جملۃ مستانفہ من فی محل النصب علی انہ مفعول انتم والا ستفہام انکاری ان یخسف الجملۃ بتاویل المصدر بدل اشتمال من الموصول ای من و کذا ان یرسل بدل من۔ الذلول من الذل وھو الانقیاد و اللین و منہ یقال۔ دابۃ ذلول المناکب جمع منکب وھوا لجانب ومنہ منکب الرجل ومنہ الریح النکباء الانھاتاتی من جانب دون جانب تمور من المورد ھوالتردونی المجیٔ والذھاب ای التحرک والاضطراب۔ والحاصب ریح فیھا حجارۃ وحصباء کانھا تقلع الحصباء لشدتہھا وقو تھا وقیل ھوسحاب فیھا حجارۃ۔ النکیر العقاب المنکر وانما اسقط الیاء من نذیری ومن نکیری لتکون مشابھتہً لرئوس الائی المتقدمۃ والمتاخرۃ الکسرۃ دلیل علی حذف الیائ۔ وفی کلام العرب کثیراً مایحذف الیاء والواء والالف من آخر الکلمۃ فی حالۃ الوقف۔ تفسیر : اب تک اس بادشاہ بابرکت کے وہ انعام و افضال بیان ہوئے تھے جو عالم بالا سے متعلق تھے جیسا کہ آسمانوں اور ستاروں کا پیدا کرنا جو اس کی قدرت تامہ کے لیے شواہد تھے اور ان کے ضمن میں مسئلہ توحید و نبوت کا بھی سلسلہ وار ثبوت تھا۔ اب یہاں سے زمین کے متعلق اپنی بادشاہی اور عالم سفلی کے انعام بیان کرتا ہے اور یہ بھی جتلاتا ہے کہ ہم وہ ہیں جو تمہاری مخفی اور ظاہر باتیں جانتے ہیں اس پر بھی تمہارے لیے ہم نے زمین میں آسائش کے سامان پیدا کر رکھے ہیں اور تمہارے لیے امن کا گھر بنا رکھا ہے۔ پس ہماری مخالفت سے ڈرو اور نعمتوں کا شکریہ ادا کرو ورنہ ہم چاہیں تو اسی زمین کو تمہاری ہلاکت کا باعث کردیں۔ تم کو اس میں غرق کردیں یا چاہیں تو اس گھر کی چھت یعنی آسمان سے تم پر پتھراؤ کردیں جیسا کہ پہلوں کے ساتھ ہوا۔ فقال ھوالذی جعل لکم الارض ذلولا۔ کہ اس نے زمین کو تمہارے لیے نرم بنا دیا۔ (1) یعنی اس کو ایسا سخت اور حشن کیا کہ اس پر چل پھر سکتے ہیں۔ (2) یا یہ کہ اس کو نرم بنایا کہ جس کو کھود سکتے ہیں، مکانات بنا سکتے ہیں، اگر سخت سنگ خارا ہوتی تو مشکل پڑجاتی۔ (3) یا یہ کہ لوہے، پتھر، تانبے، چاندی جیسی ہوتی تو گرمی میں نہایت گرم اور سردی میں نہایت سرد ہوجاتی۔ نہ کھیتی ہوسکتی، نہ باغ لگتے، رزق و روزی کا سامان مہیا نہ ہوتا۔ (4) یا یہ کہ اس نے ہمارے لیے مسخر کیا اگر ہلے جلے جاتی تو مسخر نہ ہوتی اس پر چلنا پھرنا محال ہوتا۔ (5) یا یہ کہ پانی اور ہوا کی طرح خفیف ہوتی تو کوئی اس پر بس نہیں سکتا جب زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا تو فامشوافی مناکبہا تو اس کے رستوں میں چلو۔ مناکب میں چلنے کے کئی معنی ہیں۔ (1) صاحب کشاف کہتے ہیں یہ نہایت مسخر ہونے کے معنی میں ایک تمثیل اور محاورہ ہے۔ (2) قتادہ و ضحاک و ابن عباس ؓ کہتے ہیں، زمین کے مناکب پہاڑ اور ٹیلے ہیں اس لیے کہ انسان کے مناکب (مونڈھے) اونچے ہوتے ہیں اور پہاڑ اور ٹیلے بھی بلند ہیں اس لیے ان کو مناکب الارض کہتے ہیں۔ یہ معنی کہ جب میں نے اس کے پہاڑ اور ٹیلے تمہارے چلنے کے لیے مسخر کردیے تو اس کے اور اجزا میں تو اور بھی اچھی طرح سے چل سکتے ہو۔ (3) مناکب الارض سے مراد زمین کے رستے اور گھاٹیاں اور کنارے اور اطراف ہیں کس لیے کہ انسان کے مناکب بھی اس کے بدن کے کنارے اور جوانب ہیں۔ اس مناسبت سے زمین کے کناروں اور جوانب اور رستوں کو بھی مناکب کہنے لگے۔ یہ حسن و مجاہد و مقاتل و کلبی و بروایت عطاء ابن عباس ؓ کا اور فراء اور ابن قتیبہ کا قول ہے۔ وکلوامن رزقہ اور اللہ کی پیدا کی ہوئی روزی کھاؤ جو اس نے تمہارے لیے زمین سے نکالی۔ رزق کا اپنی طرف مضاف کر کے یہ بتلا دیا کہ خدا کا پیدا کیا ہوا ہے تمہارا نہیں۔ اور من کے لفظ سے یہ بھی بتا دیا کہ خدا کا پیدا کیا ہوا کل رزق تمہارے کھانے کے لیے نہیں جیسا کہ بعض بلانوشوں کا خیال ہے کہ سور، کتا، شراب، گوہ، گوبر سب چٹ کر جائو۔ فامشوا اور کلوا دونوں امر ہیں مگر یہ امر وجوب کے لیے نہیں بلکہ اباحت کے لئے۔ ان دونوں باتوں کے بعد یہ بھی بتا دیا۔ والیہ النشور کہ دنیا میں چلنا پھرنا، کھانا پینا مقصود بالذات نہیں بلکہ یہ چند روزہ منزل ہے اور جمع ہونا اسی کے پاس ہے۔ پس دنیا اور اس کی نعمتوں پر ایسا فریفتہ نہ ہونا چاہیے کہ منزل مقصود ہی کو بھول جائو، کفر و بدکاری اور شہوت پرستی میں بیہوش پڑے رہو۔ اس کے بعد دنیا اور اس کے لذائذ کے متوالوں اور کفروبدکاریوں کے مستوں کو جو خدا کی زمین میں رہ کر باغی ہوگئے ہیں آگاہ کیا جاتا ہے۔ فقالء امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور۔ کہ اے بیخبر و ! زمین پر تسلط پا کر کیا تم آسمان والوں سے نڈر ہوگئے اور اس بات سے امن میں ہوگئے کہ تم کو وہ زمین میں دھنسا دے اور یکایک زمین تمہارے دھنسانے کے لیے ہلنے اور لرزنے لگے جیسا کہ زلزلے کے وقت ہوتا ہے، زمین ہل کر پھٹ جاتی ہے اور آدمی اور بڑے بڑے مکانات اندر سما جاتے ہیں۔ من فی السماء سے بعض نے یہ سمجھا ہے کہ خدا تعالیٰ آسمان پر رہا کرتا ہے۔ یہ خیال فاسد ہے کس لیے کہ آسمان حادث ہیں اور وہ قدیم ہے۔ جب آسمان نہ تھے تو بھی تھا۔ دوم وہ مکان میں ہونے سے پاک ہے۔ ہاں احادیث صحیحہ میں جو خدا تعالیٰ کو آسمانوں کے اوپر بیان کیا گیا ہے تو اس سے مراد جہت علو ہے اور آسمان مظہر تجلیات بارگاہ قدس ہیں اس لیے ناواقفوں کو اس کا پتا بتانا مکانیت ثابت نہیں کرتا اور آیت میں من فی السماء سے بالخصوص خدا پاک نہیں بلکہ اس کے کارکن ملائکہ کس لیے کہ ہر بلا اور نعمت عالم بالا سے آتی ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ عرب کے جاہل اس بات کے قائل تھے کہ خدا پاک آسمان پر ہے۔ ان کے خیال کے موافق ان کو ڈرایا گیا ہے کہ اس آسمان والے سے نڈر نہ ہوجائو۔ اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ جس کی آسمان پر حکومت ہے اس سے نڈر نہ ہوجائو۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور کتب الہامیہ کے محاورہ میں خدا پاک کو آسمانوں سے جہت فوقانی اور مظہر تجلیات کے لحاظ سے منسوب کرتے آئے ہیں۔ دوسری تنبیہ : اور بیان فرماتا ہے۔ امنتم من فی السماء ان یرسل علیہم حاصبًا۔ کہ کیا تم آسمان والے سے نڈر ہوگئے کہ تم پر پتھراؤ نہ کرسکے گا ؟ یعنی زمین میں بھی وہ بالادست دھنسا سکتا ہے اور اوپر سے پتھر بھی برسا سکتا ہے، ہر طرح سے ہلاک کرسکتا ہے۔ اب بھی یہ دونوں بلائیں وفتاً فوقتاً قوموں پر نازل ہوتی ہیں۔ زلزلہ آیا، شہر کے شہر زمین میں سما گئے اور اوپر سے سیر سیر بھر کے اولے اور کہیں ویسے پتھر برسے ہیں۔ فستعلمون کیف نذیر اس کے بعد تمہیں اے اہل مکہ ! جلد معلوم ہوجائے گا کہ نذیر یعنی رسول کیسا تھا، سچا تھا یا جھوٹا ؟ اس کے بعد اسی قسم کے گزشتہ واقعات سے عبرت دلاتا ہے۔ ولقد کذب الذین من قبلہم فکیف کان نکیر کہ ان سے پہلے لوگوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تھا۔ قوم عاد وثمود وغیرہ نے پھر سن لیا کہ کیسا بڑا عذاب نازل ہوا۔ ان آیات میں مسئلہ توحید و نبوت و معاد تینوں کا بیان اور ہی اسلوب سے ہوا جیسا کہ عالم بالا کے بیان میں ان تینوں مسئلوں کا ثبوت اور پیرایہ میں تھا۔
Top