بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-Ibne-Abbas - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس لے لئے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔
(1) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ (آیت) ”اقترب للناس حسابھم“۔ (الخ) اور ”۔ اقتربت الساعۃ“۔ نازل ہوئی تو کچھ زمانہ تک جتنا کہ خدا کو منظور تھا یہ کفار رکے رہے اور کچھ نہیں بولے، اس کے بعد انہوں نے کہا اے رسول اللہ ﷺ وہ عذاب کب آئے گا جس کا آپ نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے۔ ان کی اس بات پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آپہنچا، رسول اکرم ﷺ تشریف فرما تھے یہ سمجھ کر ابھی عذاب نازل ہو رہا ہے، گھبرا کر کھڑے ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا، عذاب کے اترنے کی جلدی مت کرو، تب رسول اکرم ﷺ بیٹھ گئے اللہ تعالیٰ کی ذات ان لوگوں کے شرک سے پاک اور بلند ہے کہ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی شریک۔ شان نزول : (آیت) ”اتی امر اللہ“۔ (الخ) ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے یہ جس وقت آیت کا یہ حصہ اترا (آیت) ”اتی امر اللہ“۔ (الخ) نازل ہوا تو صحابہ کرام گھبرا گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے اگلا حصہ (آیت) ”فلا تستعجلوہ“۔ نازل کیا تو سب خاموش ہوگئے۔ عبداللہ بن امام احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے زوائد الزہد میں اور ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابوبکر بن ابوحفص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ کا حکم آپہنچا تو سب سن کر کھڑے ہوگئے، پھر اگلا حصہ نازل ہوا یعنی سو تم جلدی نہ کرو
Top