Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے
(115) یا یہ کہ ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا خوب ہوتا اگر تم دنیان میں اس چیز کو سمجھتے اور میرے انبیاء کرام ؑ کی تصدیق کرتے تو تمہیں معلوم ہوجاتا کہ تم قبروں میں کم ہی رہے ہو۔ مکہ والو خصوصا کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تمہیں یوں ہی مہمل پیدا کردیا ہے کہ اوامرو نواہی اور ثواب و عذاب کا تم سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ تم مرنے کے بعد ہمارے پاس نہیں لائے جاؤ گے۔
Top