Tafseer-Ibne-Abbas - Ash-Shura : 15
فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ
فَلِذٰلِكَ : پس اس لیے فَادْعُ : پس بلاؤ۔ دعوت دو وَاسْتَقِمْ : اور قائم رہو كَمَآ اُمِرْتَ : جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا وَلَا تَتَّبِعْ : اور نہ تم پیروی کرو اَهْوَآءَهُمْ : ان کی خواہشات کی وَقُلْ : اور کہہ دیجئے اٰمَنْتُ : میں ایمان لایا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ : ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے مِنْ كِتٰبٍ : کتاب میں سے وَاُمِرْتُ : اور مجھے حکم دیا گیا ہے لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ : کہ میں عدل کروں تمہارے درمیان اَللّٰهُ : اللہ تعالیٰ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ : ہمارا رب ہے اور تمہارا رب لَنَآ اَعْمَالُنَا : ہمارے لیے ہمارے اعمال وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ : اور تمہارے لیے تمہارے اعمال ۭلَا حُجَّةَ : نہیں کوئی جھگڑا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ : ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان اَللّٰهُ : اللہ تعالیٰ يَجْمَعُ بَيْنَنَا : جمع کردے گا ہمارے درمیان وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ : اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
تو (اے محمد ﷺ اسی (دین کی) طرف (لوگوں کو) بلاتے رہنا اور جیسا تم کو حکم ہوا ہے (اسی پر) قائم رہنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور کہہ دو کہ جو کتاب خدا نے نازل فرمائی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تم میں انصاف کروں خدا ہی ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے ہم کو ہمارے اعمال (کا بدلہ ملے گا) اور تم کو تمہارے اعمال کا ہم میں اور تم میں کچھ بحث و تکرار نہیں خدا ہم (سب) کو اکٹھا کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے
سو آپ اپنے پروردگار کی توحید اور اس کی کتاب کی طرف ان کو برابر بلاتے رہیے اور جس طرح قرآن حکیم میں آپ کو حکم ہوا ہے اسی کی توحید پر قائم رہیے اور یہودیوں کے قبلہ اور ان کے دین پر نہ چلیے۔ اور کہیے اللہ نے جتنی کتابیں انبیاء کرام پر نازل کی ہیں ان پر ایمان لاتا ہوں اور مجھے قرآن کریم میں یہ بھی حکم ہوا کہ توحید کے ساتھ تمہارے درمیان انصاف رکھوں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا اور تمہارا پروردگار ہے وہ قیامت کے دن ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے گا ہمارے لیے اللہ کی عبادت اور دین اسلام ہے اور تم پر تمہارے اعمال ہیں یعنی بتوں کی پرستش اور شیطانی دین ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی دینی خصومت نہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہم سب کو جمع کردے گا اور مومنوں اور کافروں سب کو اسی کے پاس جانا ہے۔
Top