Tafseer-Ibne-Abbas - Ash-Shura : 24
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
اَمْ يَقُوْلُوْنَ : یا وہ کہتے ہیں افْتَرٰى : اس نے گھڑ لیا عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر كَذِبًا : جھوٹ فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ : پھر اگر چاہتا اللہ يَخْتِمْ : مہر لگا دیتا عَلٰي قَلْبِكَ : تیرے دل پر وَيَمْحُ اللّٰهُ : اور مٹا دیتا ہے اللہ الْبَاطِلَ : باطل کو وَيُحِقُّ الْحَقَّ : اور حق کردکھاتا ہے حق کو بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے کلمات کے ساتھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ اگر خدا چاہے تو (اے محمد ﷺ تمہارے دل پر مہر لگا دے اور خدا جھوٹ کو نابود کردیتا ہے اور اپنی باتوں سے حق کو ثابت کرتا ہے بیشک وہ سینے تک کی باتوں سے واقف ہے
اور یہ تو یوں کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ محمد نے اللہ پر بہتان لگایا ہے ان کفار کی یہ بات سن کر رسول اکرم غمگین ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اگر وہ چاہے تو آپ کے دل پر بند لگا دے یا یہ کہ آپ کے قلب مبارک کو محفوظ رکھے۔ اور اللہ تعالیٰ تو شرک اور اس کے ماننے والوں کو ہلاک کرتا ہے اور اپنے دین اسلام کو اپنی تائید سے غلبہ دیا کرتا ہے اور وہ دلوں میں بھی جو نیکی اور برائی ہے سب کو جانتا ہے اور وہ تو ایسا ہے جو کچھ تم نیکی اور برائی کرتے ہو سب کو جانتا ہے۔ شان نزول : اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا (الخ) امام طبرانی نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ انصار کہنے لگے کاش ہم رسول اکرم کے لیے مال جمع کردیتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ قل ما اسئلکم علیہ من اجر (الخ) یعنی آپ یوں کہیے کہ میں تم سے اور کچھ مطلب نہیں چاہتا سوائے اس رشتہ داری کی محبت کے تو اس پر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یہ اس واسطے فرمایا تاکہ آپ کے گھر والوں کی طرف سے لڑا جائے اور ان کی مدد کی جائے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Top