Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Mulk : 3
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ : بنائے سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمان طِبَاقًا : اوپر تلے۔ تہ بہ تہ مَا تَرٰى : نہ تم دیکھو گے فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کی تخلیق میں مِنْ تَفٰوُتٍ : کوئی نقص۔ کجی۔ خلل فَارْجِعِ الْبَصَرَ : پھر لوٹاؤ نگاہ کو هَلْ تَرٰى : کیا تم دیکھتے ہو مِنْ فُطُوْرٍ : کوئی شگاف۔ کوئی رخنہ
اس نے سات آسمان اوپر تلک بنائے (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمن کی آفرینش میں کچھ نقص دیکھتا ہے ؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو آسمان میں کوئی شگاف نظر آتا ہے ؟
(3۔ 4) اس نے سات آسمان اوپر نیچے پیدا کیے کہ ان میں ایک دوسرے کے ساتھ لٹکا ہوا ہے، محمد آپ آسمانوں کے اس پیدا کرنے میں کوئی نقص نہ دیکھیں گے، اے دیکھنے والے تو آسمان کی طرف ایک مرتبہ نگال ڈال کر دیکھ لے کہیں آپ کو کوئی نقص نظر آتا ہے۔ پھر بار بار نگاہ ڈال کر دیکھ آخر کار نگاہ ذلیل درماندہ ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔
Top