Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Insaan : 23
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ
اِنَّا : بیشک ہم نَحْنُ نَزَّلْنَا : ہم نے نازل کیا عَلَيْكَ : آپ پر الْقُرْاٰنَ : قرآن تَنْزِيْلًا : بتدریج
(اے محمد ﷺ ہم نے تم پر قرآن آہستہ آہستہ نازل کیا ہے
(23۔ 26) اور ہم نے آپ پر قرآن کریم بذریعہ جبریل امین ایک ایک اور دو دو آیات کر کے نازل کیا ہے۔ سو آپ اپنے پروردگار کے فیصلہ پر یا یہ کہ تبلیغ رسالت پر مستقل رہیے اور ان کافر قریش میں سے کسی فاجر کذاب یعنی ولید بن مغیرہ یا کافر یعنی عتبہ بن ربیعہ کے کہنے میں نہ آیے اور فجر، ظہر، عصر اور مغرب کی نماز پڑھا کیجیے اور رات کو بھی تہجد پڑھا کیجیے، کہا گیا ہے تہجد کی تخصیص صرف آپ کے لیے ہے۔ شان نزول : وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًا (الخ) عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ ابو جہل بدبخت کہنے لگا کہ اگر میں محمد دیکھ لوں تو معاذ اللہ آپ کی گردن مروڑ دوں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی ان میں سے کسی فاسق یا کافر کے کہنے میں نہ آیئے۔
Top