Tafseer Ibn-e-Kaseer - Al-Israa : 70
وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا
وَيَسْئَلُوْنَكَ : اور آپ سے پوچھتے ہیں عَنِ : سے۔ْمتعلق الرُّوْحِ : روح قُلِ : کہ دیں الرُّوْحُ : روح مِنْ اَمْرِ : حکم سے رَبِّيْ : میرا رب وَمَآ اُوْتِيْتُمْ : اور تمہیں نہیں دیا گیا مِّنَ الْعِلْمِ : علم سے اِلَّا : مگر قَلِيْلًا : تھوڑا سا
اور کیا تمہیں اِس کا کوئی اندیشہ نہیں کہ خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کر دے اور تم کو ایسا کوئی نہ ملے جو اُس سے تمہارے اِس انجام کی پوچھ گچھ کرسکے؟
[اَمْ : یا ] [اَمِنْتم : تم لوگ امن میں ہو ] [ان : (اس سے) کہ ] [يُّعِيْدَ : واپس لے جائے ] [كُمْ : تم کو ] [فِيْهِ : اسی (سمندر) میں ] [تَارَةً اُخْرٰى: دوسری مرتبہ ] [فَيُرْسِلَ : پھر وہ بھیجے ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [قَاصِفًا : توڑنے والی شدید ہوا ] [مِّنَ الرِّيْحِ : ہوا میں سے ] [فَيُغْرِقَكُمْ : نتیجۃً وہ غرق کر دے تم کو ] [بِمَا : بسبب اس کے جو ] [كَفَرْتم : تم نے ناشکری کی ] [ثُمَّ : پھر ] [لَا تَجِدُوْا : تم لوگ نہیں پائو گے ] [لَكُمْ : اپنے لئے ] [عَلَيْنَا : ہمارے خلاف ] [بِهٖ : اس کے سبب سے ] [تَبِيْعًا : کوئی پیچھے لگنے والا ] ت ء ر تَارًا جھڑکنا۔ دھمکانا۔ تَارَۃٌ ایک مرتبہ۔ ایک دفعہ (کثرت استعمال کی وجہ سے اس کا ہمزہ الف میں تبدیل ہوگیا ہے) زیر مطالعہ آیت۔ 69 ۔ ق ص [قَصْفًا : (ض) ] کسی چیز کو توڑنا۔ قَاصِفٌ اسم الفاعل سے۔ توڑنے والا۔ پھر زیادہ تر درختوں اور عمارتوں کو توڑ دینے والی شدید ہوا کے لئے آتا ہے۔ زیر مطالعہ آیت۔ 69 ۔
Top