Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-e-Jalalain - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى
: آپہنچا
اَمْرُ اللّٰهِ
: اللہ کا حکم
فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ
: سو اس کی جلدی نہ کرو
سُبْحٰنَهٗ
: وہ پاک
وَتَعٰلٰى
: اور برتر
عَمَّا
: اس سے جو
يُشْرِكُوْنَ
: وہ شریک بناتے ہیں
خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس لے لئے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب مشرکوں نے عذاب آنے میں تاخیر دیکھی (تو عذاب کا مطالبہ کیا) اس وقت (آئندہ آیت) نازل ہوئی، اللہ کا حکم آگیا یعنی قیامت اور قیامت کے یقینی الوقوع ہونے سے (أتٰی) ماضی کا صیغہ استعمال ہوا ہے، اور أتٰی بمعنی قَربَ ، ہے یعنی قیامت کا وقت قریب آگیا، تو تم اس کے وقت سے پہلے طلب میں جلدی مت مچاؤ وہ یقیناً واقع ہونے والی ہے، اللہ پاک ہے، اور جس غیر اللہ کو وہ اللہ کا شریک ٹھہرا رہے ہیں اللہ اس سے بالا و برتر ہے (اللہ) فرشتوں (یعنی) جبرئیل کو وحی دیکر اپنے حکم اور ارادہ سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا یہ نازل کرتا ہے اور وہ انبیاء ہیں، یہ کہ لوگوں کو آگاہ کردو أن مفسرہ ہے، کافروں کو عذاب سے ڈراؤ اور ان کو یہ بتاؤ کہ میرے علاوہ کوئی معبود نہیں لہٰذا مجھ ہی سے ڈرو، اس اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق یعنی بامقصد پیدا کیا وہ ان بتوں سے وراء الوراء ہے جس کو یہ لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں، انسان کو نطفہ منی سے پیدا کیا یہاں تک کہ اس کو قوی اور مضبوط کردیا، تو وہ بعث (بعد الموت) کا انکار کرکے (صریح) جھگڑالو بن گیا یہ کہتے ہوئے کہ بوسیدہ ہڈیوں کو (بھلا) کون زندہ کرسکتا ہے ؟ اور تمہارے لئے جانوروں کو (مثلاً ) اونٹ اور گائے (بیل) اور بکریاں پیدا کیں اور (اَنْعَامَ ) کا نصب اس فعل مقدر کی وجہ سے، ہے جس کی تفسیر خلقھا لکم کررہا ہے، منجملہ دیگر لوگوں کے تمہارے لئے وہ مویشی پیدا کئے کہ ان کی اون اور بالوں سے بنی ہوئی (گرم) چادروں اور لباسوں میں سردی سے حفاظت ہے (اس کے علاوہ) نسل، دودھ اور سواری کے منافع (بھی) ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے (بھی) ہو اور ظرف (منھا) کو فواصل کر رعایت کی وجہ سے مقدم کیا ہے، اور تمہارے لئے وہ باعث زینت بھی ہوتے ہیں جب کہ تم ان کو شام کے وقت ان کے باڑوں کی طرف واپس لاتے ہو اور اس وقت بھی (باعث زینت ہوتے ہیں) کہ جب تم انہیں صبح کے وقت ان کی چراگاہ کی طرف لے جاتے ہو، اور وہ تمہارے سامان کا بوجھ اٹھا کر ایسے شہروں تک لیجاتے ہیں کہ تم وہاں اونٹوں کے بغیر نہیں پہنچ سکتے مگر سخت جانفشانی کے بعد، حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب بڑا ہی شفیق و مہربان ہے، اس لئے کہ اس نے تمہارے لئے ان جانروں کو پیدا کیا، اور اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تمہاری سواری کے لئے اور زینت کے لئے دونوں مفعول لہ ہیں، اور (رکوب وزینت) کو علت قرار دینا نعمتوں کے تعارف کے لئے ہے، لہٰذا اس کے علاوہ کیلئے تخلیق کے منافی نہیں، جیسا کہ گھوڑا کھانے کے لئے (بھی) جو کہ صحیحین کی حدیث سے ثابت ہے اور وہ بہت سی عجیب و غریب چیزیں پیدا کرتا ہے جن کو تم جانتے بھی نہیں، اور سیدھا راستہ بتانا اللہ کے ذمہ ہے جبکہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں، اگر وہ تمہاری ہدایت چاہتا تو سب کو ہدایت دیدتا تو تمہارے اختیار سے اس تک رسائی ہوجاتی۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ای قَرُبَ ، ای قَرُبَ وقوعُہٗ ، تطلبوہ، ای تطْلبوا وقوعہٗ ۔ قولہ : سبحانَہٗ ، یہ فعل محذوف کا مفعول ہے، ای سَبَّحَ سبحانہٗ ۔ قولہ : بہٖ اس میں اشارہ ہے کہ عَمَّا میں ماموصولہ ہے جس کے صلہ میں عائد کا ہونا ضروری ہے، اور اگر مامصدر یہ ہو تو عائد کی ضرورت نہ ہوگی۔ قولہ : عَمَّا میں سبحانہ اور تعالیٰ دونوں فعل تنازع کررہے ہیں ہر ایک عَمَّا میں ما کو اپنا مفعول بنانا چاہتا ہے یہ بات تنازع فعلان سے ہے، بصریین کے نزدیک ثانی فعل کو اور کو فیین کے نزدیک اول فعل کو عمل دیں گے۔ قولہ : ای جبرئیل۔ سوال : اَلْملائکۃ صیغہ جمع بول کر واحد مراد لیا ہے ایسا کیوں ؟ جواب : ایسا مجازًا کیا ہے جیسا کہ اذقالتِ الملائکۃ یا مریم میں ملائکہ سے مراد جبرئیل امین ہی ہیں، واحدی نے کہا ہے کہ جب فرد جماعت کا رئیس ہو تو اس پر جمع کا اطلاق درست ہے، جبرئیل چونکہ ملائکہ کے سردار ہیں لہٰذا ان پر جمع کا اطلاق صحیح ہے۔ قولہ : بارادتہ اس میں اشارہ ہے کہ مِنْ اَمْرہ میں مِنْ بمعنی باء ہے لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ من امرہٖ میں مِنْ نہ بیانیہ ہوسکتا ہے اور نہ تبعیضیہ اور نہ ابتدائیہ۔ قولہ : اَنْ مفسرہ۔ سوال : أن مفسرہ قال یا قال کے مشتقات یا قال کے ہم معنی کے بعد واقع ہوتا ہے اور یہاں ایسا نہیں ہے۔ جواب : یہاں روح چونکہ وحی کے معنی ہے اور وحی قال میں ہے لہٰذا أن مفسرہ ہونا درست ہے۔ قولہ : وَاعلموھم، یہ اضافہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : انداز متعدی بیک مفعول اور وہ محذوف ہے ای اندرو المشرکین، لہٰذا أنَّہٗ لا الہٰ میں اَنَّ کے فتحہ کی کیا وجہ ہے ؟ قیاس کا تقاضا ہے کہ اِنَّ بکسر الھمزہ ہو۔ جواب : یہ ہے کہ یہاں اعلموا مقدر ہے اور أنَّہ لا اِلہٰ الا انا، مفعول ثانی ہے، اسی وجہ سے أنّہ لایا گیا ہے۔ قولہ : محقًا، اس میں اشارہ ہے کہ بالحق حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : شدید الخصومۃ اس میں اشارہ ہے کہ خصیم (فعیل) مبالغہ کے لئے ہے۔ قولہ : نصبُہٗ بفعلٍ یفسرہ خلَقَھا، یعنی یہ ما اضمر عاملہ کے قبیل سے ہے، تقدیر عبارت یہ ہے خَلَق الانعام خلَقَھا لکم۔ قولہ : دفْءٌ جاڑے کی پوشاک، گرم کپڑا، گرمی حاصل کرنے کا سامان، اونٹوں کی پیداوار اور ان سے جو نفع حاصل ہو، (س ک) دَفْأً ، دُفُوءًا، دَفَاء ۃً ، گرم ہونا گرمی محسوس کرنا، استدفاءٌ، گرم کپڑا پہننا۔ قولہ : من اشعارھا واصوفھا مَا تستَدْفِئونَ ، میں ما کا بیان ہے، دِفْ ءٌ کی تفسیر ما تسَتَدْفِئونَ سے کرکے اشارہ کردیا کہ دِفْءٌ مصدر اسم کے معنی میں ہے، اس طرح دفْءٌ کا حمل بھی درست ہوگیا۔ قولہ : قدّم الظرف للفاصلۃ یعنی ومنھا تاکلون اصل میں تاکلون منھا تھا، فواصل کے رعایت کی وجہ سے ظرف کو مقدم کردیا۔ قولہ : مُراح بضم الیم، آرام کی جگہ، ٹھکانہ، جانوروں کا باڑا۔ قولہ : وخَلَقَ ، خَلَقَ مقدر مان کر اشارہ کردیا الخیل کا عطف الانعام پر ہے، ای خَلَقَ الانعام وخلق الخیل الخ۔ قولہ : مفعولٌ لَہٗ ، زینۃً مفعول لہ ہے، اور لتر کبوھا کے محل پر عطف ہے یعنی ترکبوھا اور زینۃً دونوں خَلَقَ کے مفعول لہ ہیں۔ سوال : دونوں مفعول لہ ہیں مگر دونوں کو ایک طرز پر نہیں لایا گیا۔ جواب : دونوں میں فرق ہے کہ رکوب مخاطبین کا فعل ہے اور زینتہ خالق کا فعل ہے۔ قولہ : والتعلیلُ بھما لتعریف النعم الخ، یہ احناف کے استدلال کا جواب ہے، احناف کا استدلال اس آیت سے اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کی تخلیق کی علت زینت بیان فرمائی ہے اور ان تینوں کی تخلیق کو کھانے کی علت قرار نہیں دیا جیسا کہ انعام میں تخلیق کی علت اکل بیان فرمائی ہے حالانکہ منفعت اکل دیگر منفعتوں سے اعلی ہے اور آیت بیان نعمت ہی کے لئے لائی گئی ہے اور یہ بات ہرگز مناسب نہیں ہے کہ احسان جتانے کے موقع پر ادنی کا ذکر کیا جائے اور اعلی کو چھوڑدیا جائے۔ قولہ : قولہ : قصدالسبیل، یہ اضافت الی الموصوف ہے، ای السبیل القصد، اور قصد بمعنی قاصد ہے تاکہ حمل درست ہوجائے قصد سیدھے راستے کو کہتے ہیں، یقال سبیلٌ قصدٌ وسبیلٌ قاصدٌ سیدھا راستہ۔ تفسیر وتشریح سورت کا نام : اس صورت کا نام سورۂنحل اس مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ اس میں نحل یعنی شہد کی مکھیوں کا ذکر قدرت کی عجیب و غریب صفت کے بیان کے سلسلے میں ہوا ہے، اس کا دوسرا نام سورة نِعَمْ بھی ہے (قرطبی) نِعَمْ نعمت کی جمع ہے، اس لئے کہ اس صورت میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ موضوع اور مرکزی مضمون : مرکزی مضمون شرک کا بطلان اور توحید کا اثبات، دعوت پیغمبر کو نہ ماننے کے برے نتائج پر تنبیہ اور فہمائش، اور حق کی ممانعت و مزاحمت پر زجروتوبیخ ہے۔ اس سورت کو بغیر کسی خاص تمہید کے ایک شدید و عید اور ہیبت ناک عنوان سے شروع کیا گیا ہے جس کی وجہ مشرکین کا یہ کہنا تھا کہ محمد ﷺ ہمیں قیامت سے اور اللہ کے عذاب سے ڈراتے رہتے ہیں، اور یہ دعوی کرتے رہتے ہیں کہ اللہ نے ان کو غالب کرنے اور مخالفوں کو مغلوب کرنے اور سزا دینے کا وعدہ کیا ہے، ہمیں تو یہ کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آتا، اس کے جواب میں اشاد فرمایا کہ " آپہنچا حکم اللہ کا تم جلد بازی نہ کرو " (معارف) یعنی عنقریب پہنچنے والا ہے جس کو تم خود عنقریب بچشم سر دیکھ لو گے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ اس میں اللہ سے مراد قیامت ہے اس کے آپہنچنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس کا وقوع دنیا کی گذشتہ مدت کے اعتبار سے قریب ہے۔ مذکورہ آیت کا خلاصہ ایک وعید شدید کے ذریعہ توحید کی دعوت دینا ہے، دوسری آیت میں دلیل نفلی سے توحید کا اثبات ہے کہ آدم علیہ الصلاۃ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ تک دنیا کے مختلف خطوں، مختلف زمانوں میں جو رسول آیا، ہے اس نے یہی عقیدۂ توحید پیش کیا ہے حالانکہ ایک کو دوسرے کے حال اور تعلیم کے اسباب سے کوئی اطلاع بھی نہ تھی، غور کرو کہ کم از کم ایک لاکھ بیس ہزار حضرات عقلاء جو مختلف اوقات میں مختلف ملکوں مختلف خطوں میں پیدا ہوں اور وہ سب کے سب ایک ہی بات کے قائل ہوں تو فطرۃً انسان یہی سمجھنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ یہ بات غلط نہیں ہوسکتی، ایمان لانے کیلئے تنہا یہی دلیل کافی ہے، لفظ روح سے مراد اس آیت میں بقول ابن عباس وحی اور بقول دیگر مفسرین ہدایت ہے۔ عقیدۂ توحید کا عملی طور پر اثبات : خَلَقَ السمٰوات۔۔۔ بالحق (الآیۃ) ان آیتوں میں تخلیق کائنات کی عظیم نشانیوں سے حق تعالیٰ کی توحید کا اثبات ہے، اول تو سب سے پہلی مخلوق آسمان اور زمین کا ذکر فرمایا اس کے بعد تخلیق انسانی کا ذکر فرمایا، جس کو اللہ تعالیٰ نے مخدوم کائنات بنایا، انسان کی ابتداء ایک حقیر نطفہ سے ہونا بیان کرکے فرمایا، فَاِذَا ھُوَ خصیم مبین یعنی جب اس ضعیف الخلقت کو طاقت اور قوت گویائی عطا ہوئی تو خدا ہی کی ذات وصفات میں جھگڑنے لگا۔ انسانی تخلیق کے بعد ان اشیاء کی تخلیق کا ذکر فرمایا جو انسان کے فائدے کے لئے خصوصی طور پر بنائی گئی ہیں، اور قرآن کے سب سے اول مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب کی معیشیت کا بڑا دارمدار جانوروں میں اونٹ، گائے، بکری پر تھا اس لئے پہلے ان کا ذکر فرمایا، " وَالْاََنعام خَلَقھا " پھر جانوروں سے جو فوائد انسان کو حاصل ہوتے ہیں ان میں سے دو فائدے خاص طور سے بیان کردیئے۔ فائدہ : (1) ایک لکم فیھا دِفْءٌ یعنی ان جانوروں کی اون سے انسان اپنے گرم کپڑے اور کھال سے پوستین وغیرہ تیار کرکے سردی کے موسم میں گرمائش حاصل کرتا ہے۔ فائدہ : (2) ومنھا تاکلون، یعنی انسان جانوروں میں سے بعض کو ذبح کرکے اپنی خوراک بھی بنا سکتا ہے، غرضیکہ انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے دو یعنی خوراک اور پوشاک کی ضرورت جانوروں سے پوری ہوسکتی ہیں، اور ان کے دودھ سے اپنی بہترین غذا تیار کرسکتا ہے اور باقی عام فوائد کے لئے فرمایا " و منافع للناس " اور بیشمار فوائد انسان کے جانوروں کے گوشت چمڑے، ہڈی، اور بالوں سے وابستہ ہیں، اس ابہام و اجمال میں ان سب نئی سے نئی ایجادات کی طرف بھی اشارہ ہے جو حیوانی اجزاء سے انسان کی غذا، لباس، دواء استعمال اشیاء کے لئے ابتک ایجاد ہوچکی ہیں یا آئندہ قیامت تک ہوں گی۔ (معارف) ولکم۔۔۔۔ تریحون، اس میں ایک فائدہ عرب کے ذوق کے مطابق یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ تمہارے لئے جمال اور زینت کا ذریعہ ہیں خصوصاً جب وہ شام کو چراگاہوں کی طرف آتے ہیں یا صبح کو آرام گاہوں سے نکل کر چراگاہوں کی طرف جاتے ہیں، کیونکہ اس وقت مویشیوں سے ان کے مالکان کی خاص شان و شوکت کا مظاہرہ ہوتا ہے آخر میں ان جانوروں کا ایک اور فائدہ یہ بیان کیا کہ یہ جانور تمہارے بوجھل سامان دور دراز شہروں تک پہنچادیتے ہیں جہاں تمہاری اور تمہارے سامان کی رسائی جان جوکھوں میں ڈالے بغیر ممکن نہ تھی، آج ریل گاڑیوں اور ٹرکوں اور ہوائی جہازوں کے زمانہ میں بھی انسان ان جانوروں سے مستثنی نہیں۔ کھائے جانے والے حلال جانوروں کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوا جن کی تخلیق ہی سواری اور باربرداری کے لئے ہے ان کے دودھ یا گوشت سے انسان کا فائدہ متعلق نہیں کیونکہ ازروئے شرع وہ اخلاقی بیماریوں کا سبب ہونے کی وجہ سے ممنوع ہیں، فرمایا، " والخیلَ والبغال والحمیر لتر کبوھا و زینۃً ، یعنی ہم نے گھوڑے، خچر، گدھے پیدا کئے تاکہ تم ان پر سواری کرو اور وہ تمہارے لئے باعث زینت بھی ہوں۔ مسئلہ : قرآن کریم نے اول انعام یعنی اونٹ، گائے، بکری، کا ذکر فرمایا، اور ان کے فوائد میں سے ایک اہم فائدہ ان کا گوشت کھانا بھی قرار دیا پھر اس سے الگ کرکے فرمایا، والخیل والبغال والحمیر ان کے فوائد میں ان سے سواری لینے اور ان سے اپنی زینت حاصل کرنے کا ذکر ہے مگر گوشت کھانے کا یہاں ذکر نہیں کیا اس میں یہ دلالت پائی جاتی ہے کہ گھوڑے، خچر، گدھے کا گوشت حلال نہیں، گدھے اور خچر کا گوشت حرام ہونے پر تو جمہور فقہاء کا اتفاق ہے اور ایک مستقل حدیث میں ان کی حرمت کا صراحۃً بھی ذکر ہے مگر گھوڑے کے معاملہ میں حدیث کی دو روایتیں متعارض آئی ہیں ایک سے حلت اور دوسری سے حرمت معلوم ہوتی ہے اسی لئے فقہاء امت کے اقوال اس میں مختلف ہوگئے بعض نے حلال قرار دیا اور بعض نے حرام، امام اعظم ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ نے اسی تعارض دلائل کی وجہ سے گھوڑے کے گوشت اور خچر کی طرح حرام نہیں کہا مکروہ قرار دیا۔ (احکام القرآن جصاص) مسئلہ : اس آیت سے جمال اور زینت کا جواز معلوم ہوتا ہے، اگرچہ تفاخرو تکبر حرام ہیں فرق یہ ہے کہ جمال وزینت کا حاصل اپنے دل کی خوشی یا اللہ تعالیٰکی نعمتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ (معارف) وعلی۔۔۔ السبیل، یہ آیت درمیان میں بطور جملہ معترضہ کے اس بات پر تنبیہ کرنے کے لئے لائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ قدیمہ کی بنا پر اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ لوگوں کے لئے وہ صراط مستقیم واضح کردے جو اللہ تک پہنچانے والا ہے۔ لیکن اس کے بر خلاف کچھ لوگوں نے دوسرے ٹیڑھے راستے بھی اختیار کر رکھے ہیں وہ ان تمام واضح آیات اور دلائل سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ گمراہی میں بھٹکتے رہتے ہیں، پھر ارشاد فرمایا کہ مصلحت کا تقاضا یہ تھا کہ جبر نہ کیا جائے، دونوں راستے سامنے کردیئے جائیں چلنے والا جس راستہ پر چلنا چاہے چلا جائے، صراط مستقیم اللہ تعالیٰ اور جنت تک پہنچائیگا اور ٹیڑھے راستے جہنم پر پہنچائیں گے۔
Top