Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Tafseer-e-Jalalain - Al-Muminoon : 78
وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
وَهُوَ
: اور وہ
الَّذِيْٓ
: وہی جس نے
اَنْشَاَ لَكُمُ
: بنائے تمہارے لیے
السَّمْعَ
: کان
وَالْاَبْصَارَ
: اور آنکھیں
وَالْاَفْئِدَةَ
: اور دل (جمع)
قَلِيْلًا
: بہت ہی کم
مَّا تَشْكُرُوْنَ
: جو تم شکر کرتے ہو
اور وہی ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے لیکن تم کم شکر گزاری کرتے ہو
آیت نمبر 78 تا 92 ترجمہ : وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہارے کان بنائے سمع بمعنی اسماع اور آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر کرتے ہو ما، قلت کی تاکید کے لئے اور وہ ذات ہے کہ جس نے مٹی سے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع کئے جاؤ گے، یعنی مرنے کے بعد زندہ کئے جاؤ گے اور وہ ایسی ذات کہ جو گوشت کے لوتھڑے میں روح پھونک کر تم کو حیات بخشتی ہے اور موت دیتی ہے اور موت دیتی ہے اور سیاہی اور سفیدی زیادتی اور نقصان کے ذریعہ رات اور دن کو بدلنا اسی کے اختیار میں ہے تو کیا تم اللہ تعالیٰ کی صنعت کو سمجھتے نہیں ہو کہ عبرت حاصل کرو، بلکہ یہ بھی ویسی ہی بات کہتے ہیں جو اگلے لوگ کہتے چلے آئے ہیں پہلے لوگوں نے یوں کہا کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں رہ جائیں گے تو کیا ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے نہیں، اور ہمزہ میں دونوں جگہوں پر تحقیق ہے اور ثانی ہمزہ کی تسہیل ہے، اور دونوں ہمزوں کے درمیان دونوں صورتوں میں الف داخل کرنا ہے اس کا تو ہم سے اور ہمارے بڑوں سے وعدہ ہوتا چلا آیا ہے یعنی بعث بعد الموت کا، یہ کچھ بھی نہیں محض بےسند جھوٹی باتیں ہیں جو اگلوں سے منقول ہوتی چلی آرہی ہیں جیسا کہ ہنسی کی اور تعجب کی باتیں، اَساطیر اسطورۃ کی جمع ہے ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ آپ ان سے دریافت کیجئے کہ یہ زمین اور اس میں جو مخلوق ہے کس کی ملک ہیں اگر تم اس کے خالق کو اور مالک کو جانتے ہو تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ کی ملک میں ہیں (تو) ان سے کہئے کہ پھر کیوں غور نہیں کرتے تَذَّکرُون (اصل میں تَتَذَکَّرُوْنَ تھا) تاثانیہ کو ذال کیا اور ذال کو ذال میں ادغام کردیا تَذَّکَّرٗوْنَ ہوگیا، کہ تم جان سکو کہ جو ابتداءً پیدا کرنے پر قادر ہے وہ موت کے بعد زندہ کرنے پر قادر ہے آپ ان سے یہ بھی دریافت کیجئے کہ ان ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کرسی کا مالک کون ہے ؟ تو وہ ضرور یہی جواب دیں گے کہ یہ بھی اللہ کا ہے (اس وقت) کیئے تو پھر تم غیر اللہ کی عبادت سے کیوں نہیں بچتے ؟ آپ ان سے یہ بھی دریافت کیجئے کہ وہ کون ہے کہ جس کے ہاتھ میں تمام چیزوں کا اختیار ہے ملکوت میں تا مبالغہ کیلئے ہے وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا یعنی وہ حمایت کرتا ہے اس کے مقابلہ حمایت نہیں کی جاسکتی، اگر تم کو کچھ خبر ہے تو وہ ضرور یہی کہیں گے (ان صفات کا مالک) اللہ ہے اور ایک قرأت میں (اللہ کے بجائے) للہ ہے لام جر کے ساتھ دونوں جگہوں میں اس بات کی طرف نظر کرتے ہوئے کہ (مَنْ بیَدِہٖ ) کے معنی مَنْ لہ مَاذُکِرَ کے ہیں تو آپ (اس وقت) کہئے کہ پھر تم کو کیا خبط ہو رہا ہے ؟ یعنی دھوکے میں پڑے ہوئے ہو اور حق یعنی اللہ وحدہ کی عبادت سے برگشتہ ہو رہے ہو یعنی تم کو یہ تصور کیسے ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ باطل ہے بلکہ ہم نے ان کو سچی بات پہنچائی ہے اور یقیناً یہ خود جھوٹے ہیں اس سچی بات کی نفی کرنے میں اور وہ سچی بات جو ہم نے پہنچائی ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اولاد قرار نہیں دیا اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے ورنہ تو اگر اس کے ساتھ کوئی دوسرا خدا ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق کو جدا کرلیتا یعنی خود تن تنہا اس کا مالک ہوجاتا اور دوسرے کو اس پر غلبہ کرنے سے روک دیتا، اور ایک دوسرے پر چڑھائی کرتا غلبہ حاصل کرنے کے لئے جیسا کہ دنیا کے بادشاہ کرتے ہیں اللہ ان تمام مذکورہ باتوں سے پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کا جاننے والا ہے جو غائب اور جو ظاہر ہے عَالِمِ کے جر کے ساتھ لفظ اللہ کی صفت ہے اور رفع کے ساتھ ھو مبتداء محذوف کی خبر ہے غرضیکہ وہ ان چیزوں سے بالا تر ہے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تفسیری فوائد قلیلا ما تشکرون ما اس قلت کی تاکید کے لئے ہے جو قلیلاً کی تنوین تنکیر سے مستفاد ہے اور قلیلاً مفعول مطلق کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اس کی تقدیر عبارت یہ ہے ای تشکرون شکراً قلیلاً اور یہ عدم شکر سے کنایہ ہے اس لئے کہ قلت عدم کے معنی میں بھی مستعمل ہے اور یہی معنی حال کفار کے زیادہ نامناسب ہیں۔ قولہ : اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ہمزہ، محذوف پر داخل ہے فا عاطفہ ہے ای اَغَفَلْتُمْ فَلاَ تَعْقِلُوْنَ انَّ القَادِرَ انشاء الخلق قادرٌ علیٰ اِعَادَتِھِمْ بَعْدَ المَوْتِ ۔ قولہ : بَلْ قَالُوْا ای کفار مکۃَ یہ محذوف سے اضراب انتقالی ہے تقدیر عبارت یہ ہے فَلَمْ یَعْتَبِرُوْا بَل قَالُوْا ابوسعود نھے کہا بَلْ قَالُوْا کا عطف مقدر ہے ای فَلَمْ یَعقِلُوْا۔ قولہ : لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَآبَاؤبَا، آبَاؤنَا کا عطف وُعِدْنَا کی ضمیر متصل پر ہے جب کہ قاعدہ یہ ہے کہ اگر ضمیر مرفوع متصل پر عطف کرنا ہو تو ضمیر منفصل کے ذریعہ تاکید ضروری ہوتی ہے مگر یہاں چونکہ نحن کا فصل آگیا ہے جو کہ قائم مقام ہے ضمیر منفصل کے لہٰذا عطف درست ہوگیا ھٰذا، وُعِدْنَا کا مفعول ثانی ہے اور نا ضمیر اس کا نائب فاعل ہے تقدیر عبارت یہ ہے کہ وَعَدَنَا الآنَ محمد ﷺ بالبعثِ وَعَدَ غیرہ آبَائَنَا مِنْ قبلِنا بہ۔ قولہ : لا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ءَاِذَا مِتْنَا میں ہمزہ استفہام انکاری ہے۔ قولہ : اِنْ کنتم تعلمون شرط ہے اس کا جواب محذوف ہے ای اِنْ کنتُمْ تعلمونَ فاخبرُونی بخالقِھا۔ قولہ : مَلَکُوتُ اس میں واؤ اور تا مبالغہ کیلئے زائد ہیں جیسا کہ رحموت میں۔ قولہ : ولا یجارُ علَیہ علیٰ کے ساتھ تعدیہ نصرت کے معنی کو متضمن ہونے کی وجہ سے ہے۔ قولہ : نظرًا الیٰ أن المعنیٰ مَنْ لہ لفظ اللہ اوپر تین جگہ واقع ہوا ہے پہلی جگہ لام جر کے ساتھ متعین ہے اس لئے کہ سوال میں لام ظاہر ہے یعنی قل لِمَنْ الارض ومَنْ فیھا لہٰذا جواب یعنی سیقولون للہ میں بھی لام کو ظاہر کرنا متعین ہے، دوسرے مقام پر معنی کی رعایت کی وجہ سے لام کو ظاہر کرتے ہیں اور لفظ کی رعایت کی وجہ سے لام کو حذف کرتے ہیں اس لئے کہ سوال کے الفاظ یہ ہیں قل مَن رب السمٰوات (الآیہ) تو اس وقت جواب ہوگا اللہ، اور معنی کی رعایت کریں تو مَن رب السمٰوات معنی میں لِمَن السمٰوات تو اس وقت جواب میں للہ واقع ہوگا، اسی طرح تیسرے مقام قل مَنْ بیدہڈ ملکوتُ کُلَّ شئ اگر سوال کے لفظ کی رعایت کی جائے تو لام حذف ہوگا اور اگر سوال کے معنی کی رعایت کی جائے تو لام ظاہر ہوگا، اس لئے کہ معنی یہ ہیں لِمَن ملکوتُ کُلُّ شئ خلاصہ یہ ہے کہ ان تین مقاموں میں سے پہلے مقام میں اظہار لام جر متعین ہے اور بعد کے دونوں مقاموں میں سوال کے لفظ کی رعایت سے حذف لام ہوگا اور معنی کی رعایت سے اظہار لام ہوگا یعنی اظہار اور حذف دونوں جائز ہیں، قولہ : تُخْدَعُوْنَ تُسْحَرُوْنَ کی تفسیر تُخْدَعُوْنَ سے کرکے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ تُسْحَرُوْنَ مجازاً تخدعُوْن کے معنی میں ہے۔ قولہ : وتُصْرَفُوْنَ عن الحقِّ عِبَادۃِ اللہِ ، عِبَادَۃِ اللہِ حق سے بدل ہے اسی وجہ سے عبادۃ اللہ مجرور ہے۔ قولہ : کَیْفَ یُخَیَّلُ لکُمْ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اَنّٰی کَیْفَ کے معنی میں ہے اور تُسْحَرُوْنَ تُخَیَّلُ کے معنی میں ہے۔ قولہ : مِنْ وَلَدٍ من مفعول پر زائدہ ہے اور مِن الٰہٍ میں مِنْ کان کے اسم پر زائد ہے۔ قولہ : اِذًا ای لو کان معہ الٰہ لَذَھَبَ (الآیہ) اِذًا کے بعد لو کان معہٗ کا اضافہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ اذا ایسے کلام پر داخل ہوتا ہے کہ جو شرط و جزاء پر مشتمل ہو اور یہاں لَذَھَبَ صرف جزا ہے جواب یہ ہے کہ شرط محذوف ہے جس کی طرف شارح نے لو کان معہٗ الٰہٌ محذوف مان کر اشارہ کردیا ہے، اِذًا بمعنی لو امتناعیہ ہے، قولہ : ما ذُکِرَ ای مِن الاولاد والانداد۔ قولہ : عالم الغیبِ جر کے ساتھ ہے لفظ اللہ سے بدل یا صفت واقع ہونے کی وجہ سے اور عالِمُ الغیب کو رفع کے ساتھ پڑھا جائے تو ھُوَ مبتدا محذوف کی خبر ہوگی، قولہ : فتعالیٰ اس کا عطف ما قبل کے معنی پر ہے، ای عَلِمَ الغَیبَ فتعالیٰ عما یشرکون۔ تفسیر و تشریح ھو الذی انشالکم (الآیہ) یعنی عقل و فہم اور سننے سمجھنے کی یہ صلاحیتیں عطا کیں تاکہ ان کے ذریعہ وہ حق پہچانیں، سنیں اور اسے قبول کریں یہی ان نعمتوں کا شکریہ ہے مگر یہ شکر کرنے والے یعنی حق کو قبول کرنے والے کم ہی ہیں۔ اَسَاطِیْرُ ، اُسطُورۃ کی جمع ہے یعنی مُسَطَّرَۃ مکتوبۃ لکھی ہوئی کہانیاں یعنی دوبارہ زندہ ہونے کا وعدہ کب سے ہوتا آرہا ہے، ہمارے آباواجداد سے مگر ابھی تک روبعمل تو نہیں ہوا جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ کہانیاں ہیں جو پہلے لوگوں نے کتابوں میں لکھ دی ہیں جو نقل در نقل ہوتی چلی آرہی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں، بھلا کہیں یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں ملنے کے بعد زندہ کئے جائیں گے ایسی باتیں اور ایسے وعدہ تو ہم اپنے باپ دادوں سے سنتے چلے آرہے ہیں لیکن ہم نے آج تک خاک کے ذروں اور ہڈیوں کے ریزوں کو آدمی بنتے ہیں دیکھا۔ وھو۔۔۔ علیہ (الآیہ) یعنی اللہ تعالیٰ جس کو چاہے عذاب اور مصیبت سے پناہ دیدے اور یہ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے مقابلہ پر کسی کے مقابلہ پر کسی کو پناہ دیکر اس کے عذاب و تکلیف سے بچائے یہ بات دنیا کے اعتبار سے بھی صحیح ہے اور آخرت کے اعتبار سے بھی (قرطبی) ۔ قل لمن۔۔۔۔ تعلمون یعنی جب تمہیں یہ تسلیم ہے کہ زمین کا اور اس میں موجود تمام اشیاء کا خالق اور مالک تنہا وہی ایک اللہ ہے اور آسمان اور عرش عظیم کا مالک بھی وہی ہے تو پھر تمہیں یہ تسلیم کرنے میں تامل کیوں ہے کہ عبادت کے لائق بھی صرف وہی ایک اللہ ہے پھر تم اس کی وحدانیت کو تسلیم کرکے اس کے عذاب سے بچنے کا اہتمام کیوں نہیں کرتے، تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اس اعتراف اور علم کے باوجود تم دوسروں کو اس کی عبادت میں شریک کرتے ہو ؟ قرآن کریم کی اس صراحت سے واضح ہے کہ مشرکین مکہ اللہ کی ربوبیت اور اس کی خالقیت و مالکیت اور رزاقیت کے منکر نہیں تھے بلکہ یہ سب باتیں تسلیم کرتے تھے انہیں صرف توحید الوہیت سے انکار تھا اور یہ سب کچھ صرف اور صرف اس مغالطہ کی بنا پر تھا کہ یہ بھی اللہ کے نیک بندے تھے ان کو اللہ نے کچھ اختیارات دے رکھے ہیں اور ہم ان کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہیں یہی مغالطہ آج کل کے مردہ پرستوں اور اہل بدعت کو ہے جس کی بنیاد پر وہ فوت شدگان کو مدد کیلئے پکارتے ہیں ان کے نام کی نذر و نیاز دیتے ہیں حالانکہ اللہ اور اس کے رسول نے کہیں نہیں فرمایا کہ تم غیر اللہ کو امداد اور حاجت روائی کیلئے پکارا کرو، اللہ اور اس کے رسول نے تو اچھی طرف واضح کردیا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور جو لوگ اللہ کے ساتھ غیر کو عبادت میں شریک کرتے ہیں اس لئے نہیں کہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے بلکہ محض ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اور آباء پرستی کی وجہ سے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی ساجھی، اگر ایسا ہوتا تو ہر شریک اپنے حصہ کی مخلوق لیکر الگ ہوجاتا اور خود اپنی مرضی سے اس کا انتظام کرتا اور ہر شریک دوسرے شریک پر غالب آنے کی کوشش کرتا جیسا کہ دنیوی بادشاہوں کی عادت ہوتی ہے، اور جب ایسا نہیں ہے اور نظام عالم میں ایسی کوئی کشاکش نہیں ہے تو یقیناً اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں سے پاک اور برتر ہے جو مشرکین اس کی بابت باور کرتے ہیں۔
Top