Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Tafseer-e-Jalalain - Al-Qasas : 76
اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰى فَبَغٰى عَلَیْهِمْ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِ١ۗ اِذْ قَالَ لَهٗ قَوْمُهٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ
اِنَّ
: بیشک
قَارُوْنَ
: قارون
كَانَ
: تھا
مِنْ
: سے
قَوْمِ مُوْسٰي
: موسیٰ کی قوم
فَبَغٰى
: سو اس نے زیادتی کی
عَلَيْهِمْ
: ان پر
وَاٰتَيْنٰهُ
: اور ہم نے دئیے تھے اس کو
مِنَ الْكُنُوْزِ
: خزانے
مَآ اِنَّ
: اتنے کہ
مَفَاتِحَهٗ
: اس کی کنجیاں
لَتَنُوْٓاُ
: بھاری ہوتیں
بِالْعُصْبَةِ
: ایک جماعت پر
اُولِي الْقُوَّةِ
: زور آور
اِذْ قَالَ
: جب کہا
لَهٗ
: اس کو
قَوْمُهٗ
: اس کی قوم
لَا تَفْرَحْ
: نہ خوش ہو (نہ اترا)
اِنَّ اللّٰهَ
: بیشک اللہ
لَا يُحِبُّ
: پسند نہیں کرتا
الْفَرِحِيْنَ
: خوش ہونے (اترانے) والے
قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدی کرتا تھا اور ہم نے اسکو اتنے خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے مت کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا
آیت نمبر 76 تا 82 ترجمہ : قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا (یعنی) چچا زاد اور خالی زاد بھائی تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا تھا، کبر و تعلّی اور کثرت مال کے ذریعہ لوگوں کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا تھا، اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں کئی کئی زور آور لوگوں کو گراں بار کردیتے تھیں یعنی ان کو بوجھل کردیتی تھیں باتعدیہ کے لئے ہے (اور اٹھانے والی جماعت کے افراد کی تعداد) کہا گیا ہے ستر تھی اور کہا گیا چالیس تھی اور کہا گیا کہ دس تھی، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، اس وقت کو یاد کرو جب اس کو قوم بنی اسرائیل کے مومن لوگوں نے اس سے کہا کثرت مال پر مت اتراو اقعی اللہ تعالیٰ مال پر اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا اور جو مال تجھ کو اللہ تعالیٰ نے دے رکھا ہے اس میں دار آخرت کی بھی جستجو رکھ اس طریقہ پر کہ اللہ کی اطاعت میں خرچ کر، اور دنیا سے اپنا حصہ فراموش نہ کر بایں طور کہ دنیا میں آخرت کے لئے عمل کرتا رہ، اور لوگوں کے ساتھ صدقہ کے ذریعہ حسن سلوک کر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ حسن سلوک کیا ہے اور عمل معصیت کے ذریعہ ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ فساد برپا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اس معنی کر کہ ان کو سزا دے گا قارون نے جواب دیا یہ سب کچھ مجھے میری ذاتی ہنر مندی سے ملا ہے یعنی میری ہنرمندی کی بدولت اور بنی اسرائیل میں موسیٰ اور ہارون کے بعد سب سے زیادہ تو رات کا عالم تھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا اسے اس بات کا علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بہت سی ایسی امتوں کو ہلاک کردیا کہ جو اس سے قوۃ میں بھی زیادہ تھیں اور مال کی جمع پونجی کے اعتبار سے بھی زیادہ تھیں یعنی اس کو اس بات کا علم ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کر دے گا، اور اللہ تعالیٰ ان کے ذنوب کا علم رکھنے کی وجہ سے ان کے ذنوب کے بارے میں سوال نہ کرے گا اور بغیر حساب (کتاب) کے دوزخ میں داخل کرے گا پس قاروں پوری آرائش (شان) کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے (ایک روز) اپنے بہت سے متبعین کے ہمراہ جو کہ زری اور ریشم کا لباس زیب تن کئے ہوئے تھے، زیورات سے لدے ہوئے خچروں اور گھوڑو پر سوار تھے نکلا، تو دنیوی زندگی کے متوالے کہنے لگے یا تنبیہ کے لئے ہے کاش ہمیں بھی کسی طرح وہ مل جاتا جو قارون کو دنیا میں دیا گیا ہے یہ تو بڑا نصیب دار ہے یعنی دنیا سے وافی حصہ پانے والا ہے (فیہا کے بجائے منہا انسب ہے) اور وہ لوگ جن کو ان چیزوں کا علم دیا گیا جن کا اللہ تعالیٰ نے آخرت میں وعدہ فرمایا ہے ان سے (بطور نصیحت) کہنے لگے ارے تمہارا ناس ہو (ویل) کلمہ توبیخ ہے آخرت میں اللہ کا ثواب (یعنی) جنت (ہزار درجہ) بہتر ہے اس سے جو قارون کو دنیا میں دیا گیا ہے جو ایسے شخص کو ملے گا جو ایمان لایا ہوگا اور نیک عمل کئے ہوں گے اور جنت جو بطور ثواب ملے گی ان ہی کو دیجائے گی جو طاعت و معصیت پر صبر کرنے والے ہیں آخر کار قارون کو معہ اس کے محل کے زمین میں دھنسا دیا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت نہ ہوئی کہ اس کی مدد کرتی (یعنی) ہلاکت سے اس کو بچا لیتی اور نہ وہ خود کو عذاب سے بچانے والوں میں ہوا، اور جو لوگ کل زمانہ قریب میں اس کے جیسا ہونے کی تمنا کر رہے تھے کہنے لگے بس جی یوں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے روزی میں وسعت کرتا اور جس کی چاہے تنگ کردیتا ہے اور وَیْ اسم فعل اِعجِبُ انا کے معنی میں ہے اور کاف بمعنی لام ہے اور اگر ہم پر اللہ کی مہربانی نہ ہوتی تو ہم کو دھنسا دیتا خَسَفَ معروف اور مجہول دونوں ہیں بس جی معلوم ہوگیا قارون کے مانند اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرنے والوں کو کامیابی نہیں ہوتی۔ تحقیق، ترکیب و تفسیری فوائد ان قارونَ قارون عجمی (عبرانی) لفظ ہے، عجمہ اور علمیت کی وجہ سے غیر منصرف ہے، قارون کے متعلق اتنی بات طے شدہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی برداری کافرد تھا، باقی رہی یہ بات کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے اس کا کیا رشتہ تھا، اس میں مختلف اقوال ہیں، اول چچازاد بھائی تھا، دوسرا خالی زاد بھائی تھا یہ دونوں رشتے جمع بھی ہوسکتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی خالہ موسیٰ (علیہ السلام) کے چچا کے نکاح میں ہو، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، نسب اس طرح ہے قارون بن یَصْھَر بن قاھث، اور موسیٰ بن عمران بن قاہث تَنُوْءُ واحد مؤنث ناء یَنُوْء نوءً (ن) جھکنا، گراں بار ہونا۔ قولہ : اِنّ مفَاتِحَہٗ لَتَنُوْءَ بِالعصبۃِ لَتَنُوْءَ بِالعُصْبَۃِ میں دو صورتیں ہیں (اول) یہ باء تعدیہ کے لئے ہو اس صورت میں معنی یہ ہوں گے لَتَنُوْءَ المَفَاتِحُ العُصبۃ الاَقوِیَاء یعنی کنجیاں اس قدر زیادہ تھیں کہ طاقتور لوگوں کی ایک جماعت کو بھی گراں بار کردیتی تھیں، اس صورت میں قلب نہیں ہے (دوسری) لَتَنُوْءَ بِالعُصبَۃِ میں قلب مانا جائے اور معنی یہ ہوں لَتَنُوْءَ المفاتحُ العُصبَۃ وی کنجیاں ایک قوی جماعت کو گراں بار کردیتی تھی، اس لئے کہ اگر قلب نہ مانا جائے تو ترجمہ یہ ہوگا کہ اقویاء کی جماعت کنجیوں کو گراں بار کردیتی تھی، ظاہر ہے کہ یہ خلاف عقل ہے۔ قولہ : وَلاَ یُسْئلُ عن ذُنوبِھِمْ المجرمون سوال : ایک آیت میں ہے فَوَ رَبِّکَ لَنَسْاَلَنَّھُمْ اَجمعینَ عَمَّا کانُوْا یَعملونَ پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مجرمین سے ان کے جرائم کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا اور بغیر حساب و کتاب جہنم میں داخل کردیا جائے گا، اور دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام مجرمین سے ان کے جرائم کے بارے میں سوال کیا جائے گا، دونوں میں تطبیق کی کیا صورت ہے ؟ جواب : سوال کی دو قسمیں ہیں سوال استعتاب کہ سوال کرنے کے بعد معاف کردیا جاتا ہے جیسا کہ بعض عصاۃ مومنین کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے گا۔ دوسرا سوال : تقریح جس کے بعد جہنم میں داخل کردیا جائے گا، یہاں اول قسم کے سوال کی نفی مراد ہے، لہٰذا کوئی تعارض نہیں ہے۔ قولہ : فَخَرَجَ اس کا عطف قال انما اوتیتہٗ پر ہے درمیان میں جملہ معترضہ ہے۔ قولہ مِن فِیَۃٍ یَنْصُرُوْنَہٗ فئۃٌ کان کا اسم بھی ہوسکتا ہے اگر کان ناقصہ ہو تو لَہٗ اس کی خبر، اور اگر کان تامہ ہو تو فِئۃ اس کا فاعل ہوگا اور ینصرونہ فِئۃ کی صفت فِئۃ لفظاً مجرور ہوگا اور معناً مرفوع اس لئے کہ من زائدہ۔ قولہ : مِن دون اللہ فئۃ سے حال ہے۔ قولہ : بِالاَمسِ سے اس کے حقیقی معنی کل گزشتہ مراد نہیں ہیں، بلکہ زمانہ قریب مراد ہے زمانہ قریب کو مجازاً اَمْسِ سے تعبیر کردیتے ہیں۔ قولہ : وَیٌکَأَنَّ یہ کلمہ تعجب اور زجر ہے وَیْ کَ سے مرکب ہے کاف ضمیر خطاب ہے اور اَنّ حرف مشبہ بالفعل ہے، بعض حضرات نے کہا ہے کہ وَا اسم ہے جو تعجب پر دلالت کرتا ہے، اس وا کے بعد کبھی کبھی ھا بڑھا دیتے ہیں معنی تعجب ہی کے رہتے ہیں، اور کبھی وَا کو وَیْ پڑھتے ہیں اور اس کے بعد کأنّ لگا دیتے ہیں وَیْکَاَنَّ مَنْ یکن لہ نَشَبٌ یُحْبَبْ ومن یفتقر یعیش عیش ضر ” ارے جس کے پاس زر کثیر ہوتا ہے اس سے محبت کی جاتی ہے اور جو محتاج ہوتا ہے وہ دکھ کی زندگی گزارتا ہے “۔ (لغات القرآن) تفسیر و تشریح سورة قصص میں بیان کردہ واقعات میں سے یہ دوسرا واقعہ ہے پہلا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا تھا، یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور انکی برادری بنی اسرائیل کے ایک شخص قارون کے ساتھ ہے۔ ربط : دونوں واقعات میں مناسبت یہ ہے کہ پچھلی آیت میں یہ اشارہ ہوا تھا کہ دنیا کی مال و دولت جو تم کو دی جاتی ہے وہ چند روزہ متاع ہے اس کی محبت میں لگ جانا اور اس پر فریفتہ ہو کر آخرت کو فراموش کردینا دانشمندی نہیں ہے وَمَا اُوْتِیْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَمَتَاعُ الحَیٰوۃِ الدُّنیَا الآیۃ قارون کے قصہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس نے مال و دولت حاصل ہونے کے بعد اس نصیحت کو بھلا دیا اور دنیا کی مال و دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگا اور اس کے ذمہ جو مالی حقوق واجبہ تھے ان کی ادائیگی سے منکر بھی ہوگیا۔ جس کے نتیجہ میں وہ اپنے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ قارون عجمی لفظ ہے غالباً عبرانی ہے قارون کے متعلق اتنی بات تو قرآن ہی سے معلوم ہوتی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی برادری بنی اسرائیل کا شخص تھا، مگر اس بات میں کافی اختلاف ہے کہ اس کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا رشتہ تھا ؟ بعض نے چچا زاد بھائی اور بعض نے خالہ زاد بھائی بتایا ہے اور بعض نے دونوں کہا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ وابن جریج و قتادہ و ابراہیم سے مروی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا، نسب اس طرح ہے موسیٰ بن عمران بن قاہث بن لاوی بن یعقوب (علیہ السلام) اور قارون کا نسب اس طرح ہے، قارون بن یصہر بن قاہث اور مجمع البیان میں عطاء عن ابن عباس انہ ابن خالۃ موسیٰ (علیہ السلام) اور محمد بن اسحٰق سے مروی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا تھا، نسب اس طرح بیان کرتے ہیں موسیٰ بن عمران بن یصہر بن قاہث، قارون بن یصہر بن قاہث۔ (روح المعانی قارون تورات کا حافظ تھا نیز موسیٰ و ہارون کے بعد تیسرے درجہ کا عالم بھی مگر سامری کے مانند منافق تھا قیادت وسیادت چونکہ حضرت موسیٰ و ہارون کے پاس تھی جس کی وجہ سے قارون کو حسد تھا ایک مرتبہ قارون نے اپنے حسد کا اظہار بھی کردیا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ سب اللہ کے اختیار کی بات ہے ہمارا اس میں کوئی دخل نہیں ہے چناچہ قارون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا۔ (روح المعانی) اور اپنے مال و دولت کے نشہ میں دوسروں پر ظلم کرنا شروع کردیا، یحییٰ بن سلام اور سعید بن مسیب نے فرمایا کہ قارون سرمایہ دار آدمی تھا فرعون کی جانب سے بنی اسرائیل کی نگرانی پر مامور تھا، اس امارت کے زمانہ میں اس نے بنی اسرائیل کو بہت ستایا بغٰی کے ایک معنی تکبر کے بھی آتے ہیں بہت سے مفسرین نے اس جگہ یہی معنی مراد لئے ہیں یعنی مال و دولت کے نسہ میں بنی اسرائیل پر تکبر کرنے لگا اور ان کو حقیر و ذلیل سمجھنے لگا۔ واتیناہ من الکنوز، کنوز کنز کی جمع ہے مدفون خزانہ کو کہتے ہیں، اور اصطلاح شرح میں کنز اس مال کو کہا جاتا ہے جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی ہو، حضرت عطاء سے روایت ہے کہ اس کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ایک عظیم الشان مدفون خزانہ مل گیا تھا۔ (روح ملخصاً ) ۔ لنتوء بالعصبۃ ناء ینوء نوءُ بوجھ سے جھک جانا، عصبہ کے معنی جماعت، مطلب یہ ہے کہ اس کے سونے اور چاندی سے بھرے ہوئے صندوق اس قدر تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو جھکا دیتی تھیں خدا کی نعمت پر خوشی کا اظہار اگرچہ مذموم نہیں ہے مگر اس قدر خوشی کرنا کہ اترانے اور تکبر کی حد تک پہنچ جانے اور دوسروں کو ذلیل و حقیر سمجھنے لگے جائز نہیں، قرآن کریم نے فرح کو متعدد آیات میں مذموم قرار دیا ہے۔ وابتغ فیما آتاک اللہ (الآیۃ) مسلمانوں نے قارون کو یہ نصیحت کہ کہ اللہ تعالیٰ نے جو مال و دولت تجھے عطا فرمائی ہے اس کے ذریعہ آخرت کا سامان فراہم کر اور دنیا میں جو تیرا حصہ ہے اسے فراموش نہ کر اور یہ کہ دنیا میں آخرت کے لئے عمل کرتا رہ، حدیث شریف میں وارد ہے اغتنم خمساً قبل خمسٍ سبابکَ قبل ھرمک وصحتکَ قبل سقمک وغناء کَ قبل فقرک وفراغَک قبل شغلک وحیاتک قبل موتِکَ (حدیث مرسل) جمل۔ انما اوتیتہٗ قارون نے یہ جملہ مومنین ناصیحین کے جواب میں کہا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میرے مال و دولت کے حصول میں فضل خداوندی کا کوئی دخل نہیں ہے، یہ مال و دولت تو مجھے میرے ذاتی کمال عمل کی وجہ سے ملا ہے اس کا خود حقدار ہوں اس میں مجھ پر کسی کا احسان نہیں ہے، ظاہر یہ ہے کہ آیت میں علم سے مراد معاشی تدابیر کا علم ہے، مثلاً تجارت صنعت وغیرہ اور بعض مفسرین نے علم سے تورات کا علم مراد لیا ہے، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ قارون تورات کا حافظ اور عالم تھا، اور اس ستر اصحاب میں سے تھا جن کو موسیٰ (علیہ السلام) نے میقات کے لئے منتخب فرمایا تھا مگر اس کو اپنے عمم پر ناز اور غرور پیدا ہوگیا، اس کو اپنا ذاتی کمال سمجھ بیٹھا۔ انما اوتیتہ علیٰ علم عندی کے ایک معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ اللہ کے علم میں یہ بات ہے کہ میں اس کا مستحق تھا اسی لئے مجھے یہ نعمتیں ملی ہیں، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ علم کیمیا (سونا بنانے کا علم) آتا تھا، مگر امام ابن کثیر نے اس کو محض فریب اور دھوکا قرار دیا ہے، مال و دولت کی فراوانی یہ کوئی فضیلت کا باعث نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو پچھلی قومیں تباہ و برباد نہ ہوتیں اس لئے قارون کا اپنی دولت پر گھمنڈ کرنا اور اسے باعث فضیلت سمجھنا کوئی معقول بات نہیں ہے۔ فخرج علیٰ قومہٖ فی قینتہٖ ایک روز قارون اپنے ہزار ہا مصاحبین اور خدم و حشم کی معیت میں بڑی شان و شوکت اور زیب وزینت کے ساتھ نکلا، جب کچھ دنیا دار مسلمانوں نے یا کافروں اور منافقوں نے قارون کی زیب وزینت اور کروفر اور دنیوی چمک دمک کو دیکھا تو اس کے جیسا ہونے کی تمنا کی اور قارون کے بارے میں کہنے لگے قارون بڑا ہی نصیب دار، اور اقبال مند ہے۔ وقال الذین اوتوا العلم دنیا دار لوگوں کے برخلاف اہل علم کہ جن کو دنیا و آخرت ثواب و عقاب اور امم سابقہ کی ہلاکت و بربادی اور اللہ کے وعدوں کا علم دیا گیا تھا نے کہا ارے کمبحثو ! دنیا کی یہ زیب وزینت جس کی تم تمنا کر رہے ہو چند روز ہے، ہمیشہ باقی رہنے والا تو آخرت کا اجروثواب ہے لہٰذا تم اس چند روزہ زینت پر فریفتہ مت ہو اس کی حقیقت (حضراء دمن) کوڑی کے سبزے سے زیادہ نہیں، آخرت کا اجر وثواب ایمان والوں نیکوکاروں ہی کو ملتا ہے، اس آیت میں علماء کا مقابلہ الذین یریدون الحیوۃ الدنیا سے کہا گیا ہے جس میں واضح اشارہ اس طرف ہے کہ متاع دنیا کو مقصود بنانا اہل علم کا کام نہیں۔ قارون کے زمین میں دھنسنے کا قصہ تاریخی روایات کی روشنی میں : ارباب تاریخ لکھتے ہیں کہ جب سیادت و قیادت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) پر مقرر ہوگئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو (بیت القربان) یعنی قربانیوں کا نگراں مقرر فرما دیا، یعنی جو نذر آئے، وہ ہارون کی معرفت ان کی نگرانی میں قربان گاہ میں رکھی جائے اور آسمانی آگ آکر اس کو جلا دے، گویا کہ یہ قربانی کے مقبول ہونے کی علامت تھی، قارون کو اس بات پر حسد ہوا اور کہا آپ پیغمبر بھی ہیں، اور رئیس قوم بھی، اور ہارون قربان گاہ کے نگراں اور میں تورات کا بھی حافظ ہوں مجھے کیونکر صبر آئے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ امر منجانب اللہ ہے اس میں میرا کوئی دخل نہیں ہے، قارون کہنے لگا میں کیسے یقین کروں کہ یہ امر منجانب اللہ ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کے سرداروں کو جمع ہونے کا حکم دیا جب سب جمع ہوگئے تو آپ نے حکم دیا کہ تم سب اپنی اپنی لاٹھیاں لاؤ جس کی لاٹھی سرسبز ہوجائے وہ قربانگاہ کی نگرانی کا مستحق ہوگا سب لاٹھیوں کو جمع کرکے ایک مکان میں بند کردیا گیا جب صبح کو دیکھا تو حضرت ہارون کا عصا سرسبز ہوگیا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا دیکھا یہ فعل میرا نہیں تھا، قارون نے کہا یہ تو جادوگروں کا کرشمہ ہے قارون نے کھلا پلا کر بنی اسرائیل کے بہت سے سرداروں کو اپنی طرف کرلیا، جب اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ واجب فرمائی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قارون کے پاس آئے اور فی ہزار ایک دینار دینا طے ہوا مگر جب قارون نے حساب لگایا تو کثیر مال ہوا تو گھبرایا اور بنی اسرائیل کو جمع کرکے کہنے لگا موسیٰ (علیہ السلام) نے اب تک جو کچھ کہا تم نے مانا، مگر ان کو کفایت نہ ہوئی اب تمہارا مال لینے کی فکر میں ہے، قوم نے کہا تم ہمارے بڑے اور عقل مند ہو، جو تم کہو گے ہم تسلیم کریں گے، قارون نے کہا فلاں زن فاحشہ کو لاؤا سے کچھ دیکر آمادہ کریں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تہمت لگائے جب قوم یہ بات سنے گی تو موسیٰ (علیہ السلام) سے باغی ہوجائے گی اور ہم سب کو اس غلامی سے نجات مل جائے گی، غرضیکہ وہ عورت آئی اور اسے بہت کچھ دے دلا کر تہمت لگانے پر راضی کرلیا قارون اور اس کے ساتھ بنی اسرائیل کو جمع کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس لے گئے اور عرض کیا یہ لوگ حاضر ہیں آپ ان کو وعظ فرمائیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) باہر تشریف لائے اور وعظ فرمانے لگے اور منجملہ تمام احکامات کے چور کا ہاتھ کاٹنے اور تہمت کی سزا اسی کوڑے اور اگر زانی غیر محصن ہو تو سو کوڑے اور اگر محصن ہو تو سنگسار کرنے کا حکم بیان فرمایا، قارون بولا اگر یہ حرکت آپ نے فلاں عورت سے فعل بد کیا ہے، آپ نے فرمایا اس عورت کو بلاؤ، اگر وہ عورت گواہی دے تو سچ ہے وہ عورت بلائی گئی، جب عورت حاضر ہوگئی تو حضرت موسیٰ نے فرمایا اے عورت کیا میں نے تیرے ساتھ وہ فعل کیا جو یہ لوگ کہتے ہیں اور میں تجھے اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے بنی اسرائیل کے لئے دریا میں شگاف کردیا اور توریت نازل فرمائی تو سچ سچ بتا وہ عورت سکھائے ہوئے کید شیطانی کو بھول گئی اور کہنے لگے یہ لوگ جھوٹے ہیں مجھے قارون نے اس قدر مال دیکر راضی کیا تھا کہ میں اپنے ساتھ آپ کو مہتم کروں، قارون یہ بات سن کر گھبرا گیا اور سرجھکا لیا اور سردار خاموش ہوگئے اور عذاب الٰہی سے خوف زدہ ہوگئے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سجدہ میں گرپڑے اور رورو کر عرض کیا اے میرے رب تیرے اس دشمن نے مجھے ایذا دی اور مجھے رسوا کرنا چاہا اگر میں تیرا رسول ہوں تو تو مجھے اس پر مسلط کر دے، خدا تعالیٰ کی جانب سے وحی آئی فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) سر اٹھاؤ اور زمین کو حکم دو جو کہو گے وہ بجا لائے گی چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے زمین کو حکم دیا کہ قارون کو نگل لے، چناچہ زمین نے بتدریج نگلنا شروع کیا، ادھر قارون یا موسیٰ یا موسیٰ چلاتا رہا گڑ گڑاتا رہا یہاں تک کہ ستر مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا مگر کچھ فائدہ نہ ہوا اور زمین میں غائب ہوگیا۔ (مظہری) پھر بنی اسرائیل کہنے لگے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس لئے قارون کو دھنسا دیا کہ اس کے مال پر قبضہ کرلے، پھر آپ نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا کہ اس خزانہ کو بھی زمین میں دھنسا دے چناچہ اس کا خزانہ بھی دھنس گیا اور برابر دھنستا ہی چلا جا رہا ہے۔ (خلاصۃ التفاسیر تائب لکھنوی) واصبح الذین تمنوا مکانہ بالامس یعنی جو لوگ قارون کی تروی اور خوشحالی دیکھ کر کل یہ آرزو کر رہے تھے کہ کاش ہم کو بھی ایسا ہی عروج حاصل ہوتا، آج اس کا یہ برا انجام دیکھ کر کانوں پر ہاتھ دھرنے لگے، اب ان کو ہوش آیا کہ ایسی دولت حقیقت میں ایک خوبصورت سانپ ہے جس کے اندر مہلک زہر بھرا ہوا ہے کسی شخص کی دنیوی ترقی اور عروج کو دیکھ کر ہم کو ہرگز یہ فیصلہ نہیں کرلینا چاہیے کہ اللہ کے یہاں وہ کچھ عزت اور وجاہت رکھتا ہے، دنیا کی ترقی اور وجاہت کسی کے مقبول یا مردود ہونے کا معیار نہیں بن سکتی، اللہ تعالیٰ جس کے لئے مناسب سمجھے روزی کے دروازے کشادہ کردے اور جس پر چاہے تنگ کر دے، مال و دولت کی فراخی و فراوانی مقبولیت اور محبوبیت کی دلیل نہیں بلکہ بسا اوقات اس کا نتیجہ تباہی اور ابدی ہلاکت کی صورت میں نمودار ہوتا ہے کما عاقلٍ عاقلٍ اعیت مذاھبہ کم جاھلٍ جاھلٍ تلقاہ مرزوقا ھٰذا الذی ترک الاوھام حائرۃ وصیّرَ العالِمَ النحریر زندیقًا
Top