Tafseer-e-Jalalain - Al-Kahf : 20
حٰمٓۚ
حٰمٓ : حا۔ میم
حٰم۔
آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے حٰم۔ عسق اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے اسی طرح یعنی اس وحی بھیجنے کے مانند اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اپنے ملک میں حکمت والا ہے، اپنی صنعت میں تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے، اللہ ایحاء کا فاعل ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے ملکیت کے اعتبار سے، تخلیق کے اعتبار سے، اور مملوکیت کے اعتبار سے، اور وہ اپنی مخلوق پر برتر اور عظیم الشان ہے، قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں (تکاد) تاء اور یاء کے ساتھ ہے (یَنْفَطِرنَ ) نون کے ساتھ ہے، اور ایک قراءت میں (نون کے بجائے) تاء مع تشدید طاء ہے (ای تَتَفَطَّرْنَ ) یعنی ہر اوپر والا آسمان جس کے نیچے آسمان ہے اللہ کی عظمت کی وجہ سے پھٹ پڑے، اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی حمد کے ساتھ بیان کر رہے ہیں، (یعنی) تسبیح وتحمید، دونوں کو ملا کر (سبحان اللہ والحمد للہ) کہہ رہے ہیں اور زمین میں جو مومنین ہیں ان کے لئے استغفار کر رہے ہیں، خوب یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی اپنے اولیاء کو معاف کرنے والا ان پر رحم کرنے والا ہے اور جن لوگوں نے اس کے سوا بتوں کو کارساز بنا لیا ہے اللہ تعالیٰ ان پر نگران ہے یقیناً ان کو سزا دے گا اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں، کہ ان سے مطلوب کو حاصل کریں، آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے اور اس وحی کرنے کے مانند ہم نے آپ کی طرف عربی قرآن کی وحی کی ہے تاکہ آپ مکہ والوں اور اس کے آس پاس والوں کو آگاہ کریں، یعنی اہل مکہ اور (دیگر) تمام لوگوں کو اور آپ لوگوں کو جمع ہونے کے یعنی قیامت کے دن سے ڈرائیں، جس میں تمام مخلوق جمع کی جائے گی، جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ہے ان میں سے ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ان سب کو ایک امت یعنی ایک دین پر اور وہ اسلام ہے بنا دیتا لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے، اور ظالموں کافروں کا حامی اور مددگار کوئی نہیں، کہ ان سے عذاب کو دفع کرسکے، کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا بتوں کو کارساز بنا لیا ہے اَمْ منقطعہ بمعنی بل ہے، جو کہ انتقال کے لئے ہے اور ہمزہ انکار کے لئے ہے، یعنی جن کو کارساز بنایا ہے وہ کارساز نہیں ہیں (حقیقتاً تو) اللہ تعالیٰ ہی ولی ہے یعنی مومنین کا مددگار ہے اور فاء محض عطف کے لئے ہے، وہی مردوں کو زندہ کرے گا، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : حٰم، عسق بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ سورة شورٰی ہی کے دوسرے دو نام ہیں، اسی لئے ان کو الگ الگ دو آیتیں شمار کیا ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ دونوں مل کر ایک نام ہے مگر دیگر حوامیم کی موافقت ومماثلت کے لئے الگ الگ لکھا گیا ہے۔ قولہ : مثل ذٰلک الایحاء ای مثل ما فی ھٰذہ السورۃ من المعانی اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کذٰلک کا کاف مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے محل میں نصب کے ہے ای یوحی ایحاءً مثلَ ذٰلک الایحاء۔ یعنی اس سورت کے ایحاء کے مانند آپ کی طرف فی الوقت وحی بھیجتا ہے، اور آپ سے اگلوں کی طرف اسی طرح وحی بھیج چکا ہے۔ سوال : انبیاء سابقین کی طرف وحی بھیجنے کے لئے اوحٰی ماضی کا صیغہ استعمال ہونا چاہیے نہ کہ یوحی مضارع کا۔ جواب : مضارع کا صیغہ حکایت حال ماضیہ کے طور پر استمرار وحی پر دلالت کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے، اور مضارع بمعنی ماضی ہے جیسا کہ مفسر (رح) تعالیٰ نے اَوْحٰی محذوف مان کر اشارہ کردیا ہے۔ قولہ : فریق منھم، فریق ٌ مبتداء اور فی الجنۃ اس کی خبر ہے۔ سوال : فریق نکرہ ہے اس کا مبتداء بننا کیسے درست ہے ؟ جواب : مفسر علام نے مِنْھم محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ فریق موصوف ہے اور اس کی صفت محذوف ہے، تقدیر یہ ہے فریق کائنٌ منھم فی الجنۃ لہٰذا اب اس کا مبتداء بننا صحیح ہوگیا، یہی ترکیب فریقٌ فی السعیر میں ہے۔ تفسیر وتشریح کَذٰلِکَ یُوحِیْ اِلَیْکَ (الآیۃ) یعنی جس طرح یہ قرآن تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسی طرح تجھ سے پہلے بھی انبیاء پر صحیفے اور کتابیں نازل کی گئیں، وحی اللہ کا وہ کلام ہے جو فرشتے کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کے پاس بھیجتا رہا ہے، ایک صحابی نے آپ ﷺ سے وحی کی کیفیت معلوم کی تو آپ نے فرمایا : کبھی تو یہ میرے پاس گھنٹی کی آواز کے مثل آتی ہے اور یہ صورت مجھ پر سب سے گراں ہوتی ہے، جب یہ آواز ختم ہوتی ہے تو مجھے وہ وحی یاد ہوچکی ہوتی ہے، اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے، اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں اسے یاد کرلیتا ہوں، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں میں نے سخت سردی میں مشاہدہ کیا کہ جب وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ پسینے میں شرابور ہوتے اور آپ کی پیشانی سے قطرے ٹپک رہے ہوتی۔ (صحیح بخاری باب بدء الوحی) وَمَا اَتَتْ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ یعنی آپ اس بات کے مکلّف نہیں ہیں کہ ان کو ہدایت کے راستہ پر لگا دیں، یہ کام ہمارا ہے آپ کا کام صرف پہنچا دیتا ہے۔ جس طرح ہم نے ہر رسول پر اس کی اور اس کی قوم کی زبان میں وحی نازل کی، اسی طرح ہم نے آپ پر عربی زبان میں قرآن نازل کیا ہے، اس لئے کہ آپ کی قوم کی زبان عربی ہی ہے۔ “ ام القریٰ ” مکہ کا نام ہے، اسے بستیوں کی ماں، اس لئے کہتے ہیں کہ یہ عرب کی قدیم ترین بستی ہے گویا کہ یہ تمام بستیوں کی ماں ہے، اور مراد اہل مکہ ہیں اور مَنْ حولَھَا میں اس کے چاروں طرف کے علاقے شرقاً غرباً شمالاً جنوباً شامل ہیں۔ فَا للہ ھو الولی (الآیۃ) جب یہ بات ہے کہ اللہ ہی محی اور ممیت ہے اور ہر شئ پر قادر ہے تو پھر وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اسی کو ولی اور کارساز مانا جائے، نہ کہ ان کو جن کے پاس کوئی اختیار ہی نہیں ہے، اور جو نہ سننے کی اور نہ جواب دینے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ نفع نقصان پہنچانے کی صلاحیت۔
Top