Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Tafseer-e-Jalalain - Ash-Shura : 44
وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ
وَمَنْ يُّضْلِلِ
: اور جس کو بھٹکا دے۔ گمراہ کردے
اللّٰهُ
: اللہ
فَمَا لَهٗ
: تو نہیں اس کے لیے
مِنْ وَّلِيٍّ
: کوئی دوست
مِّنْۢ بَعْدِهٖ
: اس کے بعد
وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ
: اور تم دیکھو گے ظالموں کو
لَمَّا
: جب
رَاَوُا الْعَذَابَ
: وہ دیکھ لیں گے عذاب
يَقُوْلُوْنَ
: وہ کہیں گے
هَلْ
: کیا
اِلٰى مَرَدٍّ
: لوٹنے کی طرف۔ پلٹنے کی طرف
مِّنْ
: کوئی
سَبِيْلٍ
: راستہ ہے
اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی کوئی سبیل ہے ؟
آیت نمبر 44 تا 53 ترجمہ : اور اللہ جسے گمراہ کر دے اس کے بعد اس کا کوئی کارساز نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے اس کو گمراہ کرنے کے بعد اس کی ہدایت کا کوئی ولی نہیں، اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ ظالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا دنیا کی طرف لوٹنے کی کوئی صورت ہے اور (اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ وہ جہنم کے سامنے لا کھڑے کئے جائیں گے، خوف وذلت کے مارے جھکے جار ہے ہوں گے، اور کنکھیوں سے دزدیدہ نظروں سے اسے (جہنم کو) دیکھ رہے ہوں گے، مِنْ ابتدائیہ ہے یا بمعنی باء ہے مومنین کہیں گے کہ حقیقی زیاں کار وہ ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو دائمی عذاب میں مبتلا کر کے اور ان حوروں تک رسائی حاصل نہ کر کے جو ان کے لئے جنت میں تیار کی گئی ہیں، نقصان میں ڈالدیا، اگر وہ ایمان لاتے، اور موصول ان کی خبر ہے یاد رکھو کہ یقیناً ظالم کافر دائمی عذاب میں ہوں گے یہ اللہ تعالیٰ کا مقولہ ہے ان کا کوئی مددگار جو اللہ سے الگ ان کی مدد کرسکے یعنی اللہ کے سوا ان کا کوئی نہیں، جو ان کے عذاب کو دفع کرسکے، اور جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کے لئے نہ دنیا میں حق کی طرف کوئی راستہ ہے اور نہ آخرت میں جنت کی طرف، اپنے رب کا توحید و عبادت کا حکم مان لو قبل اس کے کہ وہ دن آپہنچے اور وہ قیامت کا دن ہے کہ جس کے لئے اللہ کی جانب سے ہٹنا نہ ہوگا یعنی جب اللہ اس دن کو لے آئے گا تو (پھر) اس کو نہ ٹالے گا تمہیں اس روز نہ تو کوئی پناہ گاہ ملے گی کہ جس میں تم پناہ لے سکو اور نہ تم کو تمہارے گناہوں سے انکار کی کوئی صورت، پس اگر وہ قبول کرنے سے اعراض کریں تو ہم نے آپ کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ ان اعمال کی نگرانی کریں، کہ ان کے اعمال ان اعمال کے موافق ہوں جو ان سے مطلوب ہیں آپ کے ذمہ تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے یہ حکم جہاد کے حکم سے پہلے کا ہے اور ہم جب کبھی انسان کو اپنی رحمت نعمت کا مثلاً غنا اور صحت کا مزا چکھا دیتے ہیں تو اس پر وہ اترانے لگتا ہے اور اگر انہیں ان کے اعمال کی بدولت کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو انسان اللہ کی نعمت کی ناشکری کرنے لگتا ہے (تُصِیْبُھمْ ) میں ضمیر جنس کے اعتبار سے انسان کی طرف راجع ہے قَدَّمَتْ اَیْدِیھم کا مطلب ہے قَدَّموہ اور ذات کو اَیْدی سے تعبیر اس لئے کیا ہے کہ اکثر اعمال ہاتھوں ہی کی شرکت سے وقوع پذیر ہوتے ہیں، آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اولاد میں سے بیٹی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹا دیتا ہے یا دونوں کو جمع کردیتا ہے یعنی ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے نہ بیوی جنتی ہے اور نہ شوہر کے لئے جنا جاتا ہے، اور وہ جو پیدا کرتا ہے اس کے بارے میں بڑا علم والا ہے، اور جو چاہے اس پر (کامل) قدرت والا ہے اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ کسی بندے سے کلام کرے مگر اس کی طرف وحی بھیج کر خواہ خواب میں یا الہام کے ذریعہ یا حجاب کے پیچھے سے بایں طور کہ بندہ کو اپنا کلام سنائے اور بندہ اس کو نہ دیکھے جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہوا، یا کسی قاصد یعنی فرشتے کو بھیجے جیسا کہ جبرائیل (علیہ السلام) کو کہ وہ فرستادہ اللہ کی اجازت سے مرسل الیہ کو وحی کرے بایں طور کہ جو چاہے اس سے کلام کرے بلاشبہ وہ محدثین کی صفات سے برتر ہے، اپنی صنعت میں حکمت والا ہے اور اسی طرح یعنی دوسرے رسولوں کے مانند اے محمد ﷺ آپ کی طرف اپنے حکم سے روح کو بھیجا (یعنی) اس حکم کو کہ جس کی ہم آپ کی طرف وحی بھیجتے ہیں، اور وہ قرآن ہے جس سے قلوب زندہ ہوتے ہیں اور آپ کی طرف وحی بھیجنے سے پہلے آپ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب قرآن کیا چیز ہے ؟ اور نہ ایمان کو جانتے تھے یعنی ایمان (اسلام) کے احکام وشرائع کو نہیں جانتے تھے، اور استفہام فعل کو عمل سے مانع ہے یا استفہام کا ما بعد دو مفعولوں کے قائم مقام ہے لیکن ہم نے اس کو یعنی روح کو یا کتاب کو نور بنادیا جس کے ذریعہ ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں اس کے ذریعہ ہدایت دیتے ہیں، بیشک آپ اپنی طرف بھیجی ہوئی وحی کے ذریعہ صراط مستقیم یعنی دین اسلام کی طرف رہنمائی کرتے ہیں اس اللہ کی راہ کی طرف کہ جس کی ملکیت میں آسمان اور زمین کی ہر چیز ہے ملک کے اعتبار سے اور تخلیق کے اعتبار اور مملوک ہونے کے اعتبار سے آگاہ رہو سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : اَحَدٌ یَلِیْ ، مِنْ وَلِیٍّ کی تفسیر ہے اَیْ لَیْسَ لَہٗ وَلِیٌّ یَلِیْ ھدایتَہٗ بَعْدَ اِضْلاَ لِہٖ اس صورت میں مِن بَعْدِہٖ کی ضمیر اِضْلال کی طرف راجع ہوگی، اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعدہٖ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہو اور بعد اللہ، سِوَی اللہ کے معنی میں ہو، اس صورت میں ترجمہ ہوگا، اللہ کے اس کا کوئی ولی نہ ہوگا۔ قولہ : وَتَرَی الظّٰلِمِیْنَ جملہ حالیہ ہے، اور رویت سے رویت بصر یہ مراد ہے، اور مخاطب ہر وہ شخص ہے جس میں رویت کی صلاحیت ہو۔ قولہ : مَرَدٍّ ، رَدٌّ سے ظرف زمان ومکان، لوٹانے کا وقت، لوٹانے کا مقام۔ قولہ : عَلَیْھَا یہ ایک سوال کا جواب۔ سوال : عَلَیْھَا میں ھاء ضمیر کا مرجع کیا ہے ؟ اگر ماقبل میں مذکور نہیں ہے تو اضمار قبل الذکر لازم آتا ہے، اور اگر ماقبل میں مذکور، العذاب کی طرف راجع ہے تو ضمیر و مرجع میں مطابقت نہیں ہے اس لئے کہ عذاب مذکر ہے اور ھاء ضمیر مؤنث ہے۔ جواب : ھاء ضمیر کا مرجع نار ہے جیسا کہ شارح نے اشارہ کردیا ہے جس پر العذاب دلالت کر رہا ہے، لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں ہے۔ (جمل) قولہ : تَرَاھم، تَرَیٰ سے روایت بصری مراد ہے، یُعْرَضونَ اور خَاشِعِیْنَ دونوں ھُمْ ضمیر سے جملہ ہو کر حال ہیں۔ قولہ : مِن الذُّلِّ ، خاشعین سے متعلق ہیں۔ قولہ : مِنَ الطرفِ طرف سے مراد آنکھ ہے، بعض حضرات نے مصدری معنی یعنی دیکھنا بھی مراد لیا ہے، شارح کی عبارت کے مناسب اول معنی ہیں طرفٌ خَفِیٌّ چشم نیم باز، شرمندہ نظر کو کہتے ہیں، چشم ضعیف وچشم نیم باز، وچشم بیمار، تقریباً ایک ہی مفہوم کو ادا کرتے ہیں : بمژگان سیاہ کردی ہزاراں رخنہ در دینم بیا کز “ چشم بیمارت ” ہزاراں درد برچینم (حافظ) شاعر شرمندہ نظر کو چشم بیمار سے تعبیر کر رہا ہے، قیامت کے روز جب مجرموں کو دوزخ کے روبرو پیش کیا جائے گا تو مارے شرم وذلت کے آنکھوں کو پوری طرح کھول بھی نہ سکیں گے بلکہ شہائے چشم کے ذریعہ دزدیدہ نظروں سے دیکھیں گے۔ قولہ : ینظرون اَلیْھا، اِلَیھَا کی ضمیر بھی، العذاب سے مفہوم، النار کی طرف راجع ہے مِن طرفٍ میں مِن ابتدائیہ ہے یا بمعنی باء ہے، دوسری صورت زیادہ واضح ہے۔ قولہ : اَلَّذِیّنَ خَسِرُوّا، اِنَّ کی خبر ہے، اور الخٰسِرِینَ اِنَّ کا اسم ہے۔ قولہ : یتَخْلِیدِھم فی النار وعدم وصولھم الی الحور اس میں لف ونشر مرتب ہے، بتخلید انفسھم کا تعلق اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنفُسَھم سے ہے اور عدم وصولھِمْ کا تعلق اَھْلِیھِمْ سے ہے، اور اہل کے بارے میں نقصان کا مطلب یہ ہے کہ جو حورغلمان ان کے لئے ایمان لانے کی صورت میں تیار کئے گئے تھے اب وہ ان سے محروم رہیں گے، اور بعض حضرات نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے اہل سے دنیا کے اہل مراد ہوں، ان کے بارے میں نقصان کی یہ صورت ہوگی کہ وہ جنت میں دوسروں کے حوالہ کر دئیے جائیں گے۔ (حاشیہ جلالین) مفسر علام نے ھُوَ مِن مقولِ اللہ تعالیٰ کہہ کر اشارہ کردیا کہ اَلاَ اِنّ الظّٰلِمِیْنَ فی عذابٍ مقیم اللہ تعالیٰ کا مقولہ ہے اور مومنین کے قول کی تصدیق ہے، اور بعض حضرات نے اس کلام کو مومنین کے کلام ہی کا تتمہ قرار دیا ہے۔ قولہ : لا یردہ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ من اللہ، مردٌ کے متعلق ہے، اس کا تعلق یَاْتِیْ سے بھی جائز ہے۔ قولہ : انکارٍ لِذ ُ نُوبِکُمْ اس عبارت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نَکِیْرٌ خلاف قیاس اَنْکَرَ کا مصدر ہے یعنی مجرمین کو اپنے گناہوں کا انکار ممکن نہ ہوگا اس لئے کہ صحیفہ اعمال میں ان کے اعمال محفوظ ہوں گے، اور مجرمین کے اعضاء وجوارح ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ (جمل) قولہ : فَمَا اَرْسَلنَاکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظاً یہ جملہ شرط کے جواب محذوف کی علت ہے یعنی اِنْ اَعْرضوا شرط ہے اور فَلاَ تَحْزَنْ جواب شرط محذوف ہے، لِاَننا ما اَرْسَلنَاکَ علَیھم حفیظاً یعنی مشرکین کے اعراض کرنے پر غمگین نہ ہوں، اس لئے کہ ہم نے آپ کو ان پر نگران بنا کر نہیں بھیجا، آپ کی ذمہ داری تبلیغ ہے اور بس، یعنی بلاوجہ اس فکر میں نہ پڑیں کہ ان کے اعمال ان سے مطلوب اعمال کے مطابق ہیں یا نہیں۔ قولہ : الضمیر للانسان باعتبار الجنس یہ ایک اعتراض کا جواب ہے۔ اعتراض : تُصِبْھُمْ کی ضمیر انسان کی طرف راجع ہے ضمیر و مرجع میں مطابقت نہیں ضمیر جمع ہے اور مرجع واحد ہے جواب : انسان لفظ کے اعتبار سے اگرچہ واحد ہے مگر جنس ہونے کے اعتبار سے جمع ہے لہٰذا جمع کی ضمیر لانا درست ہے، اور فَرِحَ کو مفرد لایا گیا ہے، انسان کے لفظ کا اعتبار کر کے۔ قولہ : فاِنّ الانسان کفُوْرٌ اسم ضمیر کی جگہ اسم ظاہر لایا گیا ہے، اصل میں فاِنّہٗ کفورٌ ہے، کرخی نے کہا ہے کہ یہ جملہ جواب شرط ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ جواب محذوف کی علت ہے، تقدیر عبارت یہ ہے وَاِن تُصِبْھُمْ سَیِّئَۃ ٌ نسِی النِّعْمَۃَ رآسًا فَاِنّ الْاِنْسَانَ کَفُوْرٌ نَسِیَ النِعْمَۃَ راساً جواب شرط محذوف ہے، فَاِنّ الانسانَ کَفُوْرٌ جواب شرط کی علت ہے۔ قولہ : فلا یَلِدُ وَلاَیُولَدُ لہ، فلا یَلِدُ کا تعلق امراۃ سے ہے یعنی اگر بانجھ عورت ہو لا یَلِدُ بولا جائے گا مگر اس صورت میں تلِدُ تاء کے ساتھ ہونا چاہیے، البتہ کہا جاسکتا ہے کہ مَنْ کے لفظ کی رعایت سے یلِدُ مذکر لانا درست ہے بعض نسخوں میں تلد بھی ہے جو کہ زیادہ مناسب ہے، اور وَلاَ یُولَدُ لہ کا تعلق اس صورت سے ہے کہ جب (عُقم) بانجھ پن مرد میں ہو اور مصباح میں ہے کہ لاَ یُولَدُ لَہٗ دونوں صورتوں میں بولا جاتا ہے، عقم خواہ مرد میں ہو یا عورت میں۔ (حاشیہ جلالین) قولہ : وَلاَ یَرَاہ اس عبارت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہاں حجاب کے لازم معنی یعنی عدم رویت مراد ہیں، اس لئے کہ اللہ کے لئے حجاب ممکن نہیں ہے، بلکہ حجاب بندے کی صفت ہے۔ قولہ : ما الکتابِ ، مَا استفہامیہ مبتداء ہے، الکتابُ اس کی خبر ہے، کلام حذف مضاف کے ساتھ ہے ای مَا کُنْتَ تدْرِیْ جواب مَا الکِتاَ بُ یعنی آپ اس سوال کا جواب بھی نہ جانتے تھے کتاب کیا ہے ؟ (جمل) قولہ : ای شرائعہ ومعالمہ اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب دینا ہے۔ سوال : آپ ﷺ تو نبوت سے قبل ہی توحید کے مقر تھے اور اللہ کی توحید سے بخوبی واقف تھے، غار حراء میں اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ کی بندگی کرتے تھے تو پھر آپ کے بارے میں کہ آپ ایمان سے واقف نہیں تھے، اس کا کیا مطلب ہے ؟ جواب : ایمان سے مراد احکام وشرائع اور اس کی تفاصیل ہیں جن سے آپ نزول وحی سے پہلے واقف نہیں تھے۔ تفسیر وتشریح وَتَرَاھُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا (الآیۃ) آخرت میں مومنین جب مشرکین وکافرین کی حالت زار کو دیکھیں گے تو کہیں گے، یہ کافر ہمیں دنیا میں بیوقوف اور دنیوی خسارے کا حامل سمجھتے تھے، جبکہ ہم دنیا میں صرف آخرت کو ترجیح دیتے تھے، اور دنیا کے خساروں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے، آج دیکھ لو حقیقی خسارے سے کون دو چار ہے ؟ آیا وہ جنہوں نے دنیا کے عارضی خسارے کو نظر انداز کئے رکھا اور آج وہ جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں، یا وہ جنہوں نے دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا تھا، اور آج ایسے عذاب میں گرفتار ہیں، جس سے اب چھٹکارا ممکن ہی نہیں۔ مَا لَکُمْ مِنْ مَلْجَأ ً یَوْمَئِذٍ وَمَا لَکُمْ مِن نکِیْرٍ نکیر کے معنی انکار کے ہیں، یعنی اے مشرکو ! تم روز قیامت اپنے گناہوں کا انکار نہ کرسکو گے، کیونکہ اول تو سب لکھے ہوئے ہوں گے، دوسرے خود ان کے اعضاء بھی گواہی دیں گے، اس آیت کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ تمہارے لئے کوئی ایسی جگہ نہیں ہوگی کہ جس میں تم چھپ کر انجان وبے نشان بن جاؤ اور پہچانے نہ جا سکو، یا نظر ہی نہ آسکو۔ فاِنْ اعرَضُوْا فما اَرْسَلنٰکَ علَیْھم حَفِیظاً یعنی اگر یہ لوگ آپ کی دعوت سے اعراض کریں تو آپ زیادہ فکر مند اور زیادہ رنجیدہ نہ ہوں، اس لئے کہ آپ کو ان پر نگہبان اور ان کے اعمال کا نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا، مطلب یہ ہے کہ آپ کی ذمہ داری صرف اور صرف اتنی ہے کہ آپ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچا دیں، مانیں نہ مانیں، آپ سے اس کی باز پرس نہیں ہوگی، اس لئے کہ ہدایت دینا آپ کے اختیار میں ہے ہی نہیں، یہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے، اسی مضمون کو دوسری آیتوں میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے لَیْسَ عَلَیکَ ھُداھُمْ ولکن اللہ یَھْدی مَنْ یَشَاءُ (البقرۃ) فاِنّما علَیکَ البَلاغُ وعَلَینَا الحِساب (الرعد) فَذَکِّرْ اِنّما اَنْتَ مُذَکِّرٌ لَّسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیطِرٍ (الغاشیۃ) ان تمام آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ آپ امت کو اپنا پیغام پہنچا دیں، اور بس۔ نکتہ : اِذَا اَذَقْنَا الانسَانَ مِنَّا رَحْمَۃ ً (الآیۃ) دنیوی نعمتیں اگرچہ کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہوں مگر سعادت اخروی کے مقابلہ میں ان کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسا کہ دریا کے مقابلہ میں ایک قطرہ، اور کھانے کے مقابلہ میں چکھنا، اسی وجہ سے مذکورہ آیت میں دنیوی نعمتوں کو چکھانے سے تعبیر فرمایا ہے۔ (جمل) نکتہ : دنیوی نعمتوں کے حصول کو اذا سے تعبیر فرمایا ہے جو کہ یقیناً حصول پر دلالت کرتا ہے اور اخروی بلاء و مصیبت کو اِنْ سے تعبیر کیا ہے جو یقینی حصول پر دلالت نہیں کرتا، دونوں کی تعبیر میں فرق اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت، صفت غضب سے بہت بڑھی ہوئی ہے، گویا کہ رحمت ذات خداوندی کا تقاضہ ہے، وہ دنیا میں بڑے سے بڑے ملحدو مشرک کو دنیوی نعمتوں سے محروم نہیں کرتا، اور کسی کا بھی اس کے جرم وخطاء کی وجہ سے رزق بند نہیں کرتا بلکہ زیادہ تر گناہوں سے درگذر فرماتا ہے، اس لئے ہر جرم وخطاء کی سزا یقینی نہیں، اور غیر یقینی چیز کے لئے اِنْ کا استعمال ہوتا ہے۔ لِلّٰہِ مُلک السمٰوات والارض (الآیۃ) یعنی کائنات میں صرف اسی کی مشیت اور تدبیر چلتی ہے، وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا، کوئی دوسرا اس میں دخل اندازی کرنے کی قدرت اور اختیار نہیں رکھتا، جب یہ بات معلوم ہے کہ کائنات میں تصرف صرف اسی کا حق ہے کسی کی اس میں دخل اندازی کی گنجائش نہیں تو وہ اپنی مشیت اور اختیار کے ماتحت، جس کو چاہتا ہے لڑکا دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے لڑکی اور جس کو چاہتا ہے دونوں دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے دونوں سے محروم کرد یتا ہے، یہ تقسیم اولاد کے اعتبار سے ہے یعنی فروع کے اعتبار سے، اصول کے اعتبار سے بھی انسانوں کی چار قسمیں ہیں (1) بغیر ماں باپ کے جیسے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا، نہ ان کی ماں ہے اور نہ باپ (2) بغیر ماں کے جیسے حضرت حوا کہ ان کو صرف مرد (آدم) سے پیدا کیا (3) بغیر باپ کے جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) کو صرف عورت سے پیدا کیا ان کے باپ نہیں (4) ماں باپ سے جیسے تمام انسان، مرد اور عورت سے، فسبحان اللہ العلیم القدیر (ابن کثیر) ان آیات میں بچوں کی اقسام بیان کرنے میں حق تعالیٰ نے پہلے لڑکیوں کا ذکر فرمایا ہے، لڑکوں کا ذکر بعد میں کیا ہے، اسی آیت کے اشارہ سے حضرت واثلہ بن اسقع نے فرمایا کہ جس عورت کے بطن سے پہلے لڑکی پیدا ہو وہ مبارک ہوتی ہے۔ (قرطبی، معارف) شانِ نزول : وَمَا کَانَ لِبَشَرِ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللہ اِلاَّ وَحْیاً یہ آیت یہود کے ایک معاندانہ مطالبہ کے جواب میں نازل ہوئی ہے، ایک روز یہود نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ ہم آپ پر کیسے ایمان لے آئیں، جبکہ آپ نہ خدا کو دیکھتے ہیں اور نہ بالمشافہ اس سے کلام کرتے ہیں، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کلام کرتے تھے، اور اللہ کو دیکھتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حق تعالیٰ کو دیکھا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (قرطبی، معارف) آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی انسان کے لئے حق تعالیٰ سے بالمشافہ کلام کرنا اس دنیا میں ممکن نہیں، خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی بالمشافہ کلام نہیں سنا، بلکہ پس پردہ صرف آواز سنی۔ نزول وحی کی تین صورتیں : اس آیت میں نزول وحی الٰہی کی تین صورتیں بیان فرمائی گئی ہیں (1) دل میں کسی بات کا ڈالدینا یا خواب میں بتلا دینا اس یقین کے ساتھ کہ یہ اللہ ہی کی طرف سے ہے (2) پردے کے پیچھے سے کلام کرنا، جیسے موسیٰ (علیہ السلام) سے کوہ طور پر کیا گیا (3) فرشتے کے ذریعہ اپنی وحی بھیجنا جیسا کہ جبرئیل (علیہ السلام) پیغام لے کر آتے تھے اور پیغمبروں کو سناتے تھے، مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان سے رودررو کلام نہیں کرتا۔ شبہ : حدیث شریف میں وارد ہے آپ ﷺ نے حضرت جابر بن عبد اللہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بدون حجاب کے کسی بشر سے کلام نہیں کرتا، مگر تمہارے والد عبد اللہ سے رودررو کلام فرمایا (یہ احد میں شہید ہوگئے تھے) لہٰذا آیت اور حدیث میں تعارض معلوم ہوتا ہے۔ دفع : یہ حدیث آیت مذکورہ کے مفہوم کے خلاف نہیں ہے اس لئے کہ نفی عالم دنیا سے متعلق ہے اور یہ رو در رو گفتگو عالم برزخ میں ہوئی۔ (خلاصۃ التفاسیر) وَکذٰلک اَوْحَینَا الَیْکَ رُوْحاً مِنْ امْرِنَا الخ “ روح ” سے مراد قرآن ہے یعنی جس طرح آپ سے پہلے ہم سابق انبیاء پر وحی کرتے رہے ہیں اسی طرح ہم نے آپ پر وحی کی ہے، قرآن کو روح سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ قرآن سے دلوں کو زندگی حاصل ہوتی ہے، جس طرح کہ روح میں انسانی زندگی کا راز مضمر ہے۔ کتاب اور ایمان کو نہ جاننے کا مطلب ہے ان کی تفصیلات سے واقف نہ ہونا، ورنہ نفس ایمان اور لازمی متعلقات سے ہر نبی مبعوث ہونے سے پہلے ہی واقف ہوتا ہے، آپ ﷺ کے بارے میں وارد ہوا ہے کہ آدم (علیہ السلام) آب وگل میں تھے اور آپ ﷺ نبی مرسل، اس حدیث شریف میں سبقت آفرینش اور اعطائے صلاحیتِ نبوت کا ذکر ہے، نہ کہ تفصیلات شرائع نبوت کا۔
Top