بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-e-Jalalain - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے بڑی برکت والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، وہ بڑا عالی شان ہے محدثین (مخلوق) کی صفات سے پاک ہے، جس کے قبضہ تصرف میں بادشاہی اور قدرت ہے جس نے دنیا میں موت کو پیدا فرمایا اور حیات کو آخرت میں پیدا فرمایا، دونوں کو دنیا میں پیدا فرمایا چناچہ نطفہ میں حیات ڈالی جاتی ہے، اور حیات وہ ہے کہ جس سے احساس ہوتا ہے، اور موت اس کی ضد ہے یا عدم حیات کا نام موت ہے، یہ دونوں قول ہیں، اور ثانی صورت میں خلق بمعنی تقدیر ہوگا، تاکہ حیات میں تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے ؟ یعنی زیادہ فرمانبردار ہے، وہ اپنی نافرمانی کرنے والے سے انتقام لینے میں زبردست ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کو معاف کرنے والا ہے اس نے سات آسمان تہ بہ تہ پیدا کئے بعض بعض کے اوپر اتصال کے بغیر، تو خدا کی اس صنعت میں یا اس کے علاوہ (کسی اور صنعت) میں کوئی خلل مثلاً تباین اور عدم تناسب نہیں دیکھے گا پھر نظر آسمان کی طرف لوٹا کہیں تجھے کوئی خلل یعنی شگاف اور خستگی نظر آتی ہے ؟ پھر نظر مکرر بار بار ڈال نقص کا ادراک نہ کرنے کی وجہ سے ذلیل و درماندہ ہو کر تیری طرف لوٹے گی حال یہ کہ وہ نقص کے ادراک سے عاجز ہوگی بیشک ہم نے آسمان دنیا کو یعنی زمین سے قریبی آسمانوں کو چراغوں ستاروں سے آراستہ کیا ہے اور ہم نے انہیں شیاطین کو مارنے کا آلہ (ذریعہ) بنایا ہے جب کہ وہ چوری چھپے سننے کے لئے کان لگاتے ہیں اس طریقہ سے کہ ستارہ سے شعلہ جدا ہوتا ہے، جس طرح کہ چنگاری آگ سے جدا ہوتی ہے تو وہ جنی کو قتل کردیتا ہے، یا اس کو پاگل بنا دیتا ہے، نہ یہ کہ ستارہ اپنی جگہ سے ہٹ جاتا ہے اور ہم نے شیطانوں کے لئے دوزخ کا جلانے والا عذاب یعنی جلانے والی آگ تیار کر رکھا ہے اور اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے والوں کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور وہ کیا ہی بری جگہ ہے اور جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو وہ اس کی گدھے کی آواز کے مانند ناخوشگوار آواز سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی قریب ہے کہ کافروں پر غصہ کے مارے پھٹ جائے اور اصل کے مطابق تتمیز بھی پڑھا گیا ہے بمعنی تنقطع جب کبھی اس میں ان میں کی کوئی جماعت جہنم میں ڈالی جائے گی تو جہنم کے نگراں بطور توبیخ ان سے سوال کریں گے کیا تمہارے پاس ڈرانے والا رسول کہ جس نے تم کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا ہو نہیں آیا تھا ؟ تو وہ جواب دیں گے بیشک آیا تھا لیکن ہم نے اسے جھٹلادیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا تم بہت بڑی گمراہی میں ہو احتمال یہ ہے کہ یہ نبیوں کو کفار کا جواب ہو، اور وہ فرشتوں سے (یہ بھی) کہیں گے اگر ہم سمجھنے کے لئے سنتے یا غور کرنے کے لئے سمجھتے تو ہم جہنمیوں میں سے نہ ہوتے غرض وہ اپنے جرم کا اقرار کریں گے جب کہ ان کا اعتراف جرم ان کو کوئی فائدہ نہیں دے گا، اور وہ جرم رسولوں کی تکذیب ہے سو اہل دوزخ پر لعنت ہے یعنی ان کے لئے اللہ کی رحمت سے دوری ہے، (سحقا) حاء کے سکون اور ضمہ کے ساتھ بیشک وہ لوگ جو اپنے پروردگار سے غائبانہ ڈرتے ہیں (یعنی) جب کہ وہ لوگوں کی نظروں سے غائب ہوتے ہیں تو وہ چھپ کر اس کی اطاعت کرتے ہیں تو وہ ظاہر میں بطریق اولیٰ اطاعت کرنے والے ہوں گے، ان کے لئے مغفرت اور بڑا اجر ہے یعنی جنت، اور اے لوگو ! تم خواہ چھپ کر بات کرو یا ظاہر کر کے بیشک اللہ تعالیٰ سینوں کے رازوں کا جاننے والا ہے تو پھر جو تم بولتے ہو اس کا کیا حال ہوگا ؟ اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہوا کہ مشرکین نے آپس میں کہا کہ تم خفیہ طور پر باتیں کیا کرو، ایسا نہ ہو کہ محمد (ﷺ) کا خدا سن لے، کیا وہ نہ جانے گا جس نے اس چیز کو پیدا کیا جس کو تم چھپاتے ہو یعنی کیا اس کا علم اس سے منتفی ہوجائے گا ؟ نہیں، وہ اپنے علم کے اعتبار سے باریک بین اور اس سے باخبر ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : خلق الموت فی الدنیا، والحیاۃ فی الاخرۃ، اوھما فی الدنیا، موت اور حیات کے بارے میں اختلاف ہے ابن عباس ؓ کلبی اور مقاتل سے منقول ہے کہ موت اور حیات دونوں جسم ہیں، اس صورت میں موت اور حیات دونوں، وجودی ہوں گے اور خلق اپنے اصلی معنی میں ہوگا، دونوں کے درمیان تقابل تضاد ہوگا، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ موت عدم حیات کا نام ہے اس صورت میں حیات وجودی اور موت عدمی ہوگی، اس صورت میں تقابل عدم و الملکہ کا ہوگا، جیسا کہ عدم البصر میں، موت کی دوسری تفسیر کی صورت میں خلق بمعنی قدر ہوگا، اس لئے کہ تقدیر کا تعلق عدمی اور وجودی دونوں سے جائز ہے، بخلاف خلق کے کہ اس کا تعلق وجودی شئے سے تو درست ہے مگر عدمی سے درست نہیں ہے۔ حق بات : حق بات یہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک موت وجودی ہے مگر حیات کی ضد ہے جیسا کہ حرارت اور برودت، دونوں آپس میں متضاد ہونے کے باوجود وجودی ہیں پہلا قول اہل ست والجماعت اور دوسرا معتزلہ کا ہے۔ (حاشیہ جلالین ملخصًا) بہتر ہوتا کہ مفسر علام (بیدہٖ ) کی تفسیر بقدرتہ سے کرتے اس لئے کہ ” ملک “ استیلاء تصرف کو کہتے ہیں، لہٰذا مطلب ہوگا فی تصرفہ التصرف جس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ قولہ : والحیاۃ فی الآخرۃ یعنی موت دنیا میں پیدا کی اور حیات آخرت میں، مگر اس قول کی مساعدت اللہ تالیٰ کا قول لیبلوکم نہیں کرتا، اس لئے کہ امتحان اور آزمائش کا تعلق دنیوی حیات سے ہے نہ کہ اخروی حیات سے، معلوم ہوا موت وحیات کا تعلق دنیا سے ہے۔ (صاوی) قولہ : القربی یہ قریب کا اسم تفضیل ہے یعنی وہ آسمان جو زمین سے قریب تر ہے، دنیا کو دنیا اسی وجہ سے کہتے ہیں یہ آخرت کی بنسبت قریب ہے۔ قولہ : ینقلب جمہور کے نزدیک باء کے سکون کے ساتھ ہے جو اب امر ہونے کی وجہ سے اور بعض حضرات نے باء کے رفع کے ساتھ بھی پڑھا ہے یا تو جملہ مستانفہ ہونے کی وجہ سے یہ حال مقدرہ ہونے کی وجہ سے اور فاء کو حذف کردیا گیا ہے اصل میں فینقلب تھا۔ قولہ : رجوما، رجوم، رجم کی جمع ہے رجم مصدر ہے اس کا اطلاق مرجوم بہ پر کیا گیا ہے اسی لئے مفسر علام نے رجوم کی تفسیر مراجم سے کی ہے ای یرجم بہ۔ قولہ : بان ینفصل شھاب الخ اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نجوم کے ذریعہ آسمان دنیا کو زینت بخشی ہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ نجوم اپنی جگہ پر قائم رہیں اور وجعلنھا رجوما للشیطین کا مقتضی ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں دونوں باتوں میں تضاد و تعارض ہے ؟ جواب : کا خلاصہ یہ ہے کہ پورا نجم شیاطین کو مارنے کے لئے اپنی جگہ نہیں چھوڑتا بلکہ اس کا ٹکڑا شیاطین کو مارتا ہے، جیسا کہ آگ میں سے ایک چنگاری۔ قولہ : یخبلہ یہ خبل بہ سکون باء سے مشتق ہے جس کے معنی فساد فی العقل کے ہیں۔ قولہ : وللذین کفروا الخ، وللذین کفروا خبر مقدم ہے اور عذاب جھنم مبتداء مؤخر ہے۔ قولہ : وھو اللطیف الخبیر جملہ حالیہ ہے۔ قولہ : فیہ لا اس میں اشارہ ہے کہ استفہام انکاری ہے، لہٰذا نفی النفی ہو کر اثبات ہوگیا، مقصد اللہ تعالیٰ کے احاطہ علمی کا اثبات ہے۔ تفسیر و تشریح سورة ملک کے فضائل : اس سورت کی فضیلت میں متعدد روایات آئی ہیں، جن میں چند روایات صحیح یا حسن ہیں، ایک میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ کی کتاب میں ایک سورت ہے جس میں صرف 30 آیات ہیں یہ آدمی کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کو بخش دیا جائے گا “۔ (ترمذی، ابودائود، ابن ماجہ، مسند احمد) دوسری روایت میں ہے ” قرآن مجید میں ایک سورت ہے جو اپنے پڑھنے والے کی طرف سے لڑے گی حتیٰ کہ اسے جنت میں داخل کروائے گی “۔ (مجمع الزوائد) ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو سونے سے پہلے سورة الم السجدہ اور سورة ملک ضرور پڑھتے تھے۔ سورة ملک کے دیگر نام : اس سورت میں واقیہ اور منجیہ بھی فرمایا گیا ہے، ” واقیہ “ کے معنی ہیں بچانے والی اور ” منجیہ “ کے معنی ہیں نجات دینے والی۔ تبارک الذی بیدہ الملک و ھو علی کل شیء قدیر، تبارک، برکۃ سے مشتق ہے جس کے معنی بڑھنے اور زیادتی کے ہیں، جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی شان میں بولا جاتا ہے تو اس کے معنی ” سب سے بالاو برتر “ ہونے کے ہوتے ہیں، بیدہ الملک ملک اللہ کے ہاتھ میں ہے، ہاتھ سے مراد یہ معروف ہاتھ نہیں ہے بلکہ ہاتھ سے مراد قدرت اور اختیار ہے یعنی ہر شئے اس کے شاہانہ اختیار میں ہے ید وغیرہ جسے الفاظ کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے لئے متشابہات میں سے ہیں، جس کے حق ہونے پر ایمان لانا واجب ہے مگر اس کی کیفیت و حقیقت کسی کو معلوم نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جسم وجوارح سے بالاتر اور پاک ہے، تفسیر مظہری میں ہے کہ موت اگرچہ عدمی چیز ہے مگر عدم محض نہیں، بلکہ ایسی چیز کا عدم ہے جس کو وجود میں کسی وقت آنا ہے، اور ایسی تمام معدومات کی شکلیں عالم مثال میں ناسوتی وجود سے قبل موجود ہوتی ہیں جن کو اعیان ثابتہ کہا جاتا ہے ان اشکال کی وجہ سے ان کو قبل الوجود بھی ایک قسم کا وجود حاصل ہے اور عالم مثال کے موجود ہونے پر بہت سی روایات حدیث سے استدلال فرمایا ہے۔ موت وحیات کے درجات مختلفہ : اللہ جل شانہ نے اپنی قدرت اور حکمت بالغہ سے مخلوقات و ممکنات کی مختلف اقسام میں تقسیم فرما کر ہر ایک کو حیات کی ایک قسم عطا فرمائی ہے سب سے زیادہ کامل اور مکمل حیات انسان کو عطا فرمائی ہے، جس میں یہ صلاحیت بھی رکھ دی کہ وہ حق تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت ایک خاص حد تک حاصل کرسکے، اور یہ معرفت ہی احکام شرعیہ کی تکلیف کا مدار ہے اور وہ بار امانت ہے کہ جس کے اٹھانے سے آسمان اور زمین اور پہاڑ ڈر گئے تھے، اور انسان نے اسے اپنی اس خداداد صلاحیت کے سبب اٹھا لیا اس حیات کے مقابل وہ موت ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی آیت افمن کان میتا فاحییناہ میں ذکر فرمایا ہے کہ کافر کو مردہ اور مومن کو زندہ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ کافر نے اپنی اس معرفت کو ضائع کردیا جو انسان کی مخصوص حیات تھی اور مخلوقات کی بعض اصناف و اقسام حیات کا یہ درجہ تو نہیں رکھتیں مگر ان میں حس و حرکت موجود ہے اس کے مقابل وہ موت ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی آیت کنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم میں آیا ہے کہ اس جگہ حیات سے مراد حس و حرکت اور موت سے مراد اس کا ختم ہوجانا ہے اور ممکنات کی بعض اقسام میں یہ حس و حرکت بھی نہیں صرف نمو (بڑھنے کی صلاحیت) ہے جیسا کہ درخت اور عام نباتات میں اس کے بالمقابل وہ موت ہے جس کا ذکر قرآن کی آیت یحی الارض بعد موتھا میں آیا ہے، حیات کی یہ تین قسمیں انسان، حیوان، نبات، میں منحصر ہیں، ان کے علاوہ اور کسی میں یہ اقسام حیات نہیں ہیں اس لئے حق تعالیٰ نے پتھروں سے بنے بتوں کے لئے فرمایا ” اموات غیر احیاء “ لیکن اس کے باوجود بھی جمادات میں ایک قسم کی حیات موجود ہے جو وجود کے ساتھ لازم ہے، اسی حیات کا اثر ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں وان من شئی الا یسبح بحمدہ یعنی کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کی تسبیح نہ پڑھتی ہو، اور آیت میں موت کا ذکر مقدم کرنے کی وجہ بھی اس بیان سے واضح ہوگئی کہ اصل کے اعتبار سے موت ہی مقدم ہے ہر چیز وجود میں آنے سے پہلے موت کے عالم میں تھی، بعد میں اس کو حیات عطا ہوئی ہے۔
Top