Tafseer-e-Jalalain - Al-Mulk : 16
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم اس جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دہنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے
امنتم من فی السماء ان یخسف بکم الارض فاذاھی تمور اس آیت میں مشرکوں، کافروں اور نافرمانوں کو ڈرایا گیا ہے کہ وہ ذات جو عرش پر جلوہ گر ہے جب چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے یعنی وہی زمین جو تمہاری قرار گاہ اور آرام گاہ ہے اور تمہاری روزی کا مخزن و منبع ہے، اللہ تعالیٰ اسی زمین کو جو نہایت ہی پرسکون ہے حرکت و جنبش میں لا کر تمہاری ہلاکت کا باعث بنا سکتا ہے۔ جس طرح وہ زمین کو جنبش اور حرکت دیکر تم کو ہلاک کرسکتا ہے اسی طرح وہ آسمان سے کنکر اور پتھر برسا کر بھی تم کو نیست و نابود کرسکتا ہے جیسا کہ وہ اس سے پہلے قوم لوط اور اصحاب فیل کے ساتھ کرچکا ہے، لیکن اس وقت سمجھ میں آنا بےسود ہوگا۔ اگلی آیت میں عبرت و نصیحت کے لئے ان قوموں کی طرف اشارہ ہے جو اپنے زمانہ میں اللہ کے نبیوں کو جھٹلا کر مبتلائے عذاب ہوچکی تھیں، اس کے بعد چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے نمونوں کو بیان فرمایا ہے جو اسی کی اور صرف اسی کی قدرت و حکمت سے ممکن ہے، وہی ہر چیز کا نگہبان اور ہر شئی اسی کی زیر قدرت ہے اگر وہ تمہاری روزی اور اس کے اسباب کو روک لے تو تمہارے پاس کونسا لشکر ہے جو رحمان کے مقابلہ میں مدد کر کے تمہارے رزق کو جاری کرا سکے، حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ سرکشی پر اڑے ہوئے ہیں، اور جانوروں کی طرح منہ نیچا کئے ہوئے اسی جگہ پر چلے جا رہے ہیں جس پر انہیں کسی نے ڈال دیا ہے۔ قل ارایتم ان اصبح ماء کم غورا (الآیۃ) یعنی آپ ﷺ ان لوگوں کو بتلا دیجئے کہ اس بات پر غور کریں کہ اگر اللہ تعالیٰ پانی کو خشک فرما دیں کہ اس کا وجود ہی ختم ہوجائے یا اتنی گہرائی میں کردیں کہ ساری مشینیں پانی نکالنے میں ناکام ہوجائیں تو بتلائو ! پھر کون ہے جو تمہیں پانی مہیا کر دے ؟ یہ اللہ کی مہربانی ہی ہے کہ تمہاری معصیتوں کے باوجود تمہیں پانی سے بھی محروم نہیں فرمایا۔ بحمدتم اللہ
Top