بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Jawahir-ul-Quran - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
آپہنچا2 حکم اللہ کا سو اس کی جلدی مت کرو وہ پاک3 ہے اور برتر ہے ان کے شریک بتلانے سے
2:۔ حصہ اول۔ نفی شرک فی التصرف۔ یہ مقصود سورت کا ذکر ہے۔ یعنی تم دعوت توحید کا انکار، پیغمبر خدا ﷺ کی تکذیب کرتے اور عذاب مانگتے ہو لو تیار ہوجاؤ عذاب الٰہی آنے کو ہے۔ ” اَمْرُ اللّٰهِ “ یعنی اللہ کا عذاب۔ وامر اللہ عقابہ لمن اقام علی الشرک و تکذیب رسولہ (قرطبی ج 10 ص 65) ۔ 3:۔ اللہ تعالیٰ شریکوں سے پاک ہے لہذا تم بھی اسے شریکوں سے پاک سمجھو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت بناؤ کیونکہ یہ شرک ہی عذاب کا سبب ہے۔ ” عَمَّا یُشْرِکُوْنَ “ میں مَا سے معبودانِ باطلہ مراد ہیں اور اس کے بعد ” فَلَا تُشْرِکُوْا بِهٖ اَحَدًا “ محذوف ہے یعنی اللہ تعالیٰ ہر شریک سے پاک ہے لہذا کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ۔
Top