Jawahir-ul-Quran - Al-Muminoon : 116
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ
فَتَعٰلَى : پس بلند تر اللّٰهُ : اللہ الْمَلِكُ : بادشاہ الْحَقُّ : حقیقی لَآ : نہیں اِلٰهَ : کوئی معبود اِلَّا هُوَ : اس کے سوا رَبُّ : مالک الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ : عزت والا عرش
سو بہت اوپر ہے اللہ وہ بادشاہ85 سچا کوئی حاکم نہیں اس کے سوائے مالک اس عزت کے تخت کا
85:۔ ” فتعالی اللہ الخ “ یہ سورت کا خلاصہ ہے اور سورت میں بیان کردہ تمام دلائل عقلیہ ونقلیہ کا ثمرہ و نتیجہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ جو ساری کائنات کا مالک اور حقیقی بادشاہ ہے وہ تمام شریکوں سے پاک ہے، عیب سے منزہ اور عبث کام کرنے سے اس کی شان بلند ہے وہ سارے عالم کا کارساز اور سارے جہان میں متصرف و مختار ہے اس کے سوائے کوئی کارساز اور حاجت روا نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی دعا، پکار اور نذر و نیاز کا مستحق ہے۔ ای تنزہ و تقدس اللہ الملک الحق عن الاولاد والشرکاء والانداد الخ (قرطبی ج 12 ص 157) ۔ ” لا الہ الا ھو الخ “ اس کے سوا کوئی کارساز اور مشکل کشا نہیں اور وہ عزت والے عرش کا مالک ہے جو سارے جہان کو محیط ہے۔
Top