Jawahir-ul-Quran - Al-Muminoon : 19
فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ
فَاَنْشَاْنَا : پس ہم نے پیدا کیے لَكُمْ : تمہارے لیے بِهٖ : اس سے جَنّٰتٍ : باغات مِّنْ : سے۔ کے نَّخِيْلٍ : کھجور (جمع) وَّاَعْنَابٍ : اور انگور (جمع) لَكُمْ : تمہارے لیے فِيْهَا : اس میں فَوَاكِهُ : میوے كَثِيْرَةٌ : بہت وَّمِنْهَا : اور اس سے تَاْكُلُوْنَ : تم کھاتے ہو
پھر اگا دیے تمہارے واسطے18 اس سے باغ کھجور اور انگور کے تمہارے واسطے ان میں میوے ہیں بہت اور انہی میں سے کھاتے ہو
18:۔ ” فَاَنْشَانَا لَکُمْ الخ “ یہ دوسری عقلی دلیل کا تیسرا حصہ ہے یہ کھجور اور انگور کے باغات ہم ہی نے پیدا کیے اس کے علاوہ اور بہت سے میوے پیدا کیے۔ ” وَ مِنْھَا تَاکُلُوْنَ “ من تبعیضیہ ہے ای بعضھا یعنی ان پھلوں اور میووں کی تجارت سے بھی فائدہ اٹھاتے ہو اور ان میں سے کچھ خود کھاتے بھی ہو یا من ابتدائیہ ہے اور اَکَلَ سے مجازا روزی کمانا مراد ہے یعنی ان پھلوں اور میووں کی تجارت سے تم روزی کماتے ہو۔ ومن ابتدائیۃ وقیل انھا تبعیضیۃ ومضمونھا مفعول (تاکلون) والمراد بالاکل معناہ الحقیقی (روح ج 18 ص 21) ۔ ومنھا تاکلون من قولھم فلان یا کل من حرفۃ یحترفھا و من صنعۃ یعلھا و من تجارۃ یتربح بھا یعنون انھا طعمتہ و جھتہ التی منہا یحصل رزقہ الخ (بحر ج 6 ص 400) ۔
Top