Jawahir-ul-Quran - Al-Muminoon : 20
وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ
وَشَجَرَةً : اور درخت تَخْرُجُ : نکلتا ہے مِنْ : سے طُوْرِ سَيْنَآءَ : طور سینا تَنْۢبُتُ : گتا ہے بِالدُّهْنِ : تیل کے ساتھ لیے وَصِبْغٍ : اور سالن لِّلْاٰكِلِيْنَ : کھانے والوں کے لیے
اور وہ درخت جو نکلتا ہے سینا پہاڑ سے19 لے اگتا ہے تیل اور روٹی20 ڈبونا کھانے والوں کے واسطے
19:۔ ” وَ شَجَرَةً الخ “ یہ ” جَنّٰتٍ “ پر معطوف ہے اور اس درخت سے زیتون کا درخت مراد ہے طور سیناء وہی پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوتے تھے طور بمعنی پہاڑ۔ اور سیناء اس پہاڑ کا نام ہے یہ پہاڑ ملک شام میں واقع ہے اس پر زیتون بکثرت پیدا ہوتا ہے۔ ” تَنْبُتُ بِالدُّھْنِ الخ “ جملہ ” شَجَرَةً “ کی صفت ہے اور ” با “ ملابست و مصاحبت کے لیے ہے جس کا متعلق محذوف ہے اور وہ ” تَنْبُتُ “ کے فاعل سے حال واقع ہے ای تنبت متلبسۃ بالدُّھنِ (روح) ۔ یعنی وہ درخت پیدا ہوتا ہے تو روغن بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے یا ” با “ بمعین مع ہے اور یہ حال ہے۔ قال الزجاج الباء للحال ای تنبت و معھا الدہن (مدارک ج 3 ص 90) ۔ روغن سے روغن زیتون مراد ہے۔ 20:۔ ” وَ صِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیْنَ “ یہ ” اَلدُّھْن “ پر معطوف ہے اور ” صِبغ “ کے لغوی معنی رنگ کے ہیں لیکن اس سے مراد سالن ہے یعنی جس چیز کے ہمراہ روٹی کھائی جائے تاکہ وہ خوشگوار ہوجائے۔ ” صبغ “ سے مراد روغن زیتون ہی ہے کیونکہ عرب کے لوگوں میں یہ ایک عمدہ سالن شمار ہوتا تھا یا اس سے زیتون کا پھل مراد ہے جو بطور سالن استعمال ہوتا تھا۔ جعل اللہ فی ھذہ الشجرۃ المبارکۃ ادعا وھو الزیتون و دھنا وھو الزیت (خازن و معالم ج 5 ص 35) ۔ اب غور کرو کہ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں اور یہ سارے انعامات اسی نے عطاء فرمائے ہیں اس لیے اسی کو کارساز سمجھو حاجات میں غائبانہ اسی کو پکارو۔ اور اس کے پیدا کیے ہوئے غلوں اور پھلوں سے اسی کے نام کی نذریں دو ۔
Top