Jawahir-ul-Quran - Al-Muminoon : 3
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ جو هُمْ : وہ عَنِ اللَّغْوِ : لغو (بیہودی باتوں) سے مُعْرِضُوْنَ : منہ پھیرنے والے
اور جو نکمی بات پر دھیان نہیں کرتے4
4:۔ ” وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ الخ “ یہ امر دوم ہے یعنی وہ شرک نہیں کرتے لغو کو بعض مفسرین نے عام کیا ہے اور اس سے ہر باطل قول اور عمل مراد لیا ہے اقوال میں سب سے بڑا باطل شرک فی التصرف ہے اور اعمال میں سب سے بڑا باطل شرک فعلی ہے اس طرح یہ لفظ شرک اعتقادی اور شرک فعلی کو بطریق اولیٰ شامل ہے حضرت عبداللہ بن عباس اور امام ضحاک نے تو لغو سے مراد ہی شرک لیا اور بعض نے اس سے گانا بجانا مراد لیا ہے۔ قال ابن عباس عن الشرک (خازن و معالم ج 5 ص 32) ۔ وقال الضحاک ان اللغو ھنا الشرک و قال الحسن انہ المعاصی لھا فھذا قول جامع یدخل فیہ قول من قال ھو الشرک و قول من قال ھو الغناء (قرطبی ج 12 ص 105) ۔ حاصل یہ ہے کہ وہ تمام معاصی سے اور خصوصاً ہر قسم کے شرک سے اجتناب کرتے ہیں
Top