Jawahir-ul-Quran - Al-Muminoon : 44
ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ
ثُمَّ : پھر اَرْسَلْنَا : ہم نے بھیجے رُسُلَنَا : رسول (جمع) تَتْرَا : پے در پے كُلَّمَا : جب بھی جَآءَ : آیا اُمَّةً : کسی امت میں رَّسُوْلُهَا : اس کا رسول كَذَّبُوْهُ : انہوں نے اسے جھٹلایا فَاَتْبَعْنَا : تو ہم پیچھے لائے بَعْضَهُمْ : ان میں سے ایک بَعْضًا : دوسرے وَّجَعَلْنٰهُمْ : اور انہیں بنادیا ہم نے اَحَادِيْثَ : افسانے فَبُعْدًا : سو دوری (مار) لِّقَوْمٍ : لوگوں کے لیے لَّا يُؤْمِنُوْنَ : جو ایمان نہیں لائے
پھر بھیجتے رہے38 ہم اپنے رسول لگاتار جہاں پہنچا کسی امت کے پاس ان کا رسول اس کو جھٹلا دیا پھر چلاتے گئے ہم ایک کے پیچھے دوسرے اور کر ڈالا ان کو کہانیاں   سو دور ہوجائیں جو لوگ نہیں مانتے
38:۔ ” ثُمَّ اَرْسَلْنَا الخ “ یہ توحید پر تیسری نقلی دلیل ہے یہاں اجمالاً ذکر فرمایا کہ پھر ہود (علیہ السلام) کے بعد ہم نے مسلسل اپنے پیغمبر بھیجے جو اپنی امتوں کو دعوت توحید دیتے رہے جب ایک قوم نے ہمارے رسول کی تکذیب کی اور دعوت توحید کو نہ مانا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کی جگہ اوروں کو پیدا کیا۔ ” تَتْرٰي “ اصل میں ” وَ تَرٰي “ تھا واؤ کو تا سے بدل دیا گیا اور یہ ” اَرْسَلْنَا “ سے حال واقع ہے ای ارسلنا رسلنا متواترین (بحر، روح) ۔ ” وَ جَعَلْنٰھُمْ اَحَادِیْثَ الخ “ یعنی دعوت توحید کو رد کرنے والوں اور انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کرنے والوں کو ہم نے نیست و نابود کردیا اور دنیا سے ان کا نام و نشان ہی مٹا ڈالا البتہ ان کی باتیں باقی رہ گئیں لوگ تعجب اور عبرت کے طور پر ان کی کہانیاں بیان کرنے لگے۔ اخبارا یسمع بھا یتعجب منھا (مدارک ج 3 ص 93) ۔
Top