Jawahir-ul-Quran - Al-Muminoon : 66
قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ
قَدْ كَانَتْ : البتہ تھیں اٰيٰتِيْ : میری آیتیں تُتْلٰى : پڑھی جاتی تھیں عَلَيْكُمْ : تم پر فَكُنْتُمْ : تو تم تھے عَلٰٓي اَعْقَابِكُمْ : اپنی ایڑیوں کے بل تَنْكِصُوْنَ : پھرجاتے
تم کو سنائی جاتی تھیں میری آیتیں57 تو تم ایڑیوں پر الٹے بھاگتے تھے اس سے تکبر کر کے
57:۔ ” قَدْکَانَتْ الخ “ یہ ماقبل کی علت ہے تنکصون ای ترجعون، مستکبرین، تنکصون کے فاعل سے حال ہے۔ بہ کی ضمیر قرآن مجید سے کنایہ ہے جو ” آیاتی “ سے مفہوم ہورہا ہے۔ ” سٰمرًا “ ، ” تَھجرون “ کا مفعول بہ مقدم ہے۔ ” سامر “ سے واعظ اور قاری قرآن مراد ہے جو قرآن پڑھ کر تمہیں سناتا اور توحید کی تبلیغ کرتا ہے یعنی آج تمہاری مدد نہیں کی جائے گی کیونکہ پہلے تمہارا یہ حال تھا کہ ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم استکبار کرتے تھے اور آیتیں سنانے والے کو چھوڑ کر اور پیٹھ پھیر کر چلے جاتے تھے۔
Top