Jawahir-ul-Quran - Al-Muminoon : 70
اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ
اَمْ : یا يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں بِهٖ : اس کو جِنَّةٌ : دیوانگی بَلْ : بلکہ جَآءَهُمْ : وہ آیا ان کے پاس بِالْحَقِّ : ساتح حق بات وَاَكْثَرُهُمْ : اور ان میں سے اکثر لِلْحَقِّ : حق سے كٰرِهُوْنَ : نفر رکھنے والے
یا کہتے ہیں اس کو سودا ہے کوئی نہیں وہ تو لایا ہے59 ان کے پاس سچی بات اور ان بہتوں کو سچی بات بری لگتی ہے
59:۔ ” بَلْ جَاءَھُمْ الخ “ یہ ماقبل سے اضراب ہے یعنی ہمارا پیغمبر ﷺ ایسا پیغام لے کر ان کے پاس آیا ہے جو سراپا حق ہے اور ایسا ثابت وعیاں ہے کہ ہر شخص اس کو سمجھ سکتا ہے اور یہ وہی پیغام حق ہے جو پہلے تمام انبیاء (علیہم السلام) اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کو پہنچا چکے ہیں اور نبوت سے سرفراز ہو کر پیغام توحید لے کر قوم کے پاس جانا ہی ہمارے پیغمبر (علیہ السلام) کے صدق وامانت کی واضح دلیل ہے اور پھر جو شخص ایسا پیغام حق پیش کرے جس کی تائید دلائل عقلیہ و نقلیہ سے ہوتی ہو اس کو دیوانہ اور مجنون کہنا سراسر باطل ہے اس لیے انکار حق کی وجوہات یہ نہیں ہیں۔ ” وَ اَکْثَرُھُمْ لِلْحَقِّ کٰرِھُوْنَ “ انکار حق کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان مشرکین کی اکثریت کو حق (مسئلہ توحید) سے چر اور حق بیان کرنے والے حضرت محمد ﷺ ضد ہے اس لیے وہ محض حسد و ضد کی وجہ سے اور اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید کی بناء پر انکار کرتے ہیں۔ ” جاءھم بالحق “ یعنی القران و التوحید الحق والدین الحق ” واکثرھم للحق کارھون “ حسدا وبغیا و تقلیدا (قرطبی ) ۔
Top