Jawahir-ul-Quran - Al-Muminoon : 91
مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ
مَا اتَّخَذَ : نہیں بنایا اللّٰهُ : اللہ مِنْ وَّلَدٍ : کسی کو بیٹا وَّمَا كَانَ : اور نہیں ہے مَعَهٗ : اس کے ساتھ مِنْ اِلٰهٍ : کوئی اور معبود اِذًا : اس صورت میں لَّذَهَبَ : لے جاتا كُلُّ : ہر اِلٰهٍ : معبود بِمَا خَلَقَ : جو اس نے پیدا کیا وَلَعَلَا : اور چڑھائی کرتا بَعْضُهُمْ : ان کا ایک عَلٰي بَعْضٍ : دوسرے پر سُبْحٰنَ اللّٰهِ : پاک ہے اللہ عَمَّا : اس سے جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
70 اللہ نے کوئی بیٹا نہیں کیا اور نہ اس کے ساتھ کسی کا حکم چلے یوں ہوتا تو لے جاتا ہر حکم والا اپنی بنائی چیز کو اور چڑھائی کرتا ایک پر ایک اللہ نرالہ ہے71 ان کی بتلائی باتوں سے
70:۔ ” ماتخذ اللہ الخ “ مسئلہ توحید کو دلائل کے ساتھ ثات و مبرہن کرنے کے بعد دعوی کو صراحت سے ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کارساز اور عالم الغیب ہے اور اس کا کوئی نائب نہیں جس کو اس نے مافوق الاسباب تصرف کی اجازت دے رکھی ہو۔ ” و ما کان معہ الخ “ جس طرح اللہ تعالیٰ کا نائب کوئی نہیں اسی طرح الوہیت میں اس کا شریک وسہیم بھی کوئی نہیں کیونکہ اگر کوئی اسکا شریک ہوتا تو اپنی مخلوق میں اور اپنے ملک میں وہ خود مختار اور متصرف ہوتا۔ ” ولعلا بعضھم الخ “ اور ان کے درمیان اقتدار کی باقاعدہ جنگ ہوتی مگر تم دیکھ رہے ہو سارا عالم اللہ تعالیٰ ہی کے زیر تصرف ہے اور یہاں دوسرا کوئی متصرف نہیں تو معلوم ہوا کہ وہ وحدہ لا شریک ہے وہی قادر و متصرف اور مختار و کارساز ہے اور ہر چیز اسی کے اختیار و تصرف میں ہے۔ واذا کان کذالک فاعلموا انہ الہ واحد بیدہ ملکوت کل شیء ویقدر علی کل شیء (خازن ج 5 ص 43) ۔ 71:۔ ” سبحن اللہ الخ “ لہذا اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک ہے۔ ” عالم الغیب والشہادۃ الخ “ متصرف و مختار بھی وہی ہے اور عالم الغیب بھی وہی ہے لہذا وہ ہر شریک سے پاک اور ہر عیب سے منزہ ہے۔
Top