Jawahir-ul-Quran - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ : فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اِمَّا تُرِيَنِّيْ : اگر تو مجھے دکھا دے مَا يُوْعَدُوْنَ : جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
تو کہہ اے رب72 اگر تو دکھانے لگے مجھ کو جو ان سے وعدہ ہوا ہے
72:۔ ” قل رب اما الخ “ تخویف دنیوی ہےحضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ اس طرح اللہ سے دعا مانگیں کہ اے اللہ جس عذاب کا تو نے ان منکرین سے وعدہ کیا ہے اگر وہ عذاب میری زندگی ہی میں ان پر نازل ہوجائے تو میرے پروردگار مجھے اس سے بچائیو یہ اس عذاب کی شدت و فظاعت کے اظہار کے لیے کہا گیا ورنہحضور ﷺ تو عذاب سے محفوظ تھے ہی تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ یہ عذاب اس قدر شدید اور دردناک ہوگا کہ ہر ایک کو اس سے پناہ مانگنی چاہیے (روح) ۔ ” وانا علی ان نریک الخ “ جس عذاب کی ہم ان کو دھمکی دے چکے ہیں وہ ہم آپ کی زندگی میں ان پر مسلط کرسکتے ہیں ہمیں اس کی قدرت و طاقت ہے لیکن ہم عذاب کو موخر کریں گے تاکہ کچھ لوگ ان میں سے ایمان لے آئیں۔
Top