Jawahir-ul-Quran - Al-Qasas : 81
فَخَسَفْنَا بِهٖ وَ بِدَارِهِ الْاَرْضَ١۫ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنْ فِئَةٍ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۗ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ
فَخَسَفْنَا : پھر ہم نے دھنسا دیا بِهٖ : اس کو وَبِدَارِهِ : اور اس کے گھر کو الْاَرْضَ : زمین فَمَا كَانَ : سو نہ ہوئی لَهٗ : اس کے لیے مِنْ فِئَةٍ : کوئی جماعت يَّنْصُرُوْنَهٗ : مدد کرتی اس کو مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے سوائے وَمَا كَانَ : اور نہ ہوا وہ مِنَ : سے الْمُنْتَصِرِيْنَ : بدلہ لینے والے
پھر دھنسا دیا ہم نے اس کو76 اور اس کے گھر کو زمین میں پھر نہ ہوئی اس کی کوئی جماعت جو مدد کرتی اس کی اللہ کے سوائے اور نہ وہ خود مدد لاسکا
76:۔ قارون کی سرکشی اور اس کے عناد و استکبار اور انکار و جحود کی وجہ سے ہم نے اس کو اور اس کے عالیشان محلات کو خزائن دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ فما کان لہ من فئۃ الخ، دنیا میں ہزاروں افراد اس کی خدمت اور امداد و اعانت کرنے والے موجود تھے مگر عذاب خداوندی سے اسے کوئی بھی نہ بچا سکا۔ قارون کے بارے میں کئی بےسرو پا قصے مشہور ہیں جن میں سے کوئی بھی صحیح نہیں۔ مثلاً خزانے اس قدر زیادہ تھے کہ ان کی چابیاں ساٹھ یا چالیس خچریں اٹھا سکتی تھیں جب کہ ایک چابی صرف انگلی کی مقدار لمبی تھی اور اتنی ہلکی کہ چمڑے سے بنائی گئی تھی۔ اسی طرح جب وہ شان و شوکت سے نکلا تو اس کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں ستر ہزار پیادوں، چار ہزار گھوڑ سواروں اور تین سو لونڈیوں کا جلوس تھا۔ علی ہذا قارون اس وقت سے لے کر اب تک زمین میں دھنس رہا ہے اور قیامت تک دھنستا رہے گا وغیرہ وغیرہ یہ سب بےسند اور جھوٹے قصے ہیں۔ علامہ آلوسی لکھتے ہیں کہ فلکیات کے ماہرین کے مطابق زمین کے قطر کی مقدار معین ہے اس لیے یہ دھنسنے کا واقعہ اشکال سے خالی نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بصحۃ ذلک بل ھو مشکل ان صح ما قالہ الفلالسفۃ فی مقدار قطر الارض (روح ج 20 ص 123) ۔
Top