Jawahir-ul-Quran - Aal-i-Imraan : 198
لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ
لٰكِنِ : لیکن الَّذِيْنَ : جو لوگ اتَّقَوْا : ڈرتے رہے رَبَّھُمْ : اپنا رب لَھُمْ : ان کے لیے جَنّٰتٌ : باغات تَجْرِيْ : بہتی ہیں مِنْ : سے تَحْتِھَا : ان کے نیچے الْاَنْھٰرُ : نہریں خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہیں گے فِيْھَا : اس میں نُزُلًا : مہمانی مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ : سے اللہ کے پاس وَمَا : اور جو عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس خَيْرٌ : بہتر لِّلْاَبْرَارِ : نیک لوگوں کے لیے
لیکن جو لوگ ڈرتے رہے اپنے رب سے ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں297 ہمیشہ رہیں گے ان میں مہمانی ہے اللہ کے ہاں سے اور جو اللہ کے ہاں ہے سو بہتر ہے نیک بختوں کے واسطے
297 یہ بشارتِ اخروی ہے ماقبل سے یہ وہم پیدا ہوسکتا تھا کہ تجارت ہر حال میں بری چیز ہے اس لیے اس وہم کا ازالہ کردیا گیا کہ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور اپنے ہر کام مثلاً تجارت، زراعت، معیشت، معاشرت وغیرہ میں اللہ کی رضامندی اور اس کے احکام کی پابندی کو مد نظر رکھیں تو ان کے لیے آخرت میں خدا کے یہاں شاندار مہمانی ہے۔ اور آخرت میں ان کے لیے جو ثواب مقدر ہے وہ دنیا کی نعمتوں سے بدرجہا بہتر ہے۔ وَ مَا عِنْدَ اللہِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ ۔ مشرکوں کا مال ترویج شرک کے لیے اور مومنین کا مال اشاعت توحید کے لیے خرچ ہوتا ہے اس لیے توحید کی خاطر خرچ کرنے والوں کے لیے اللہ کے یہاں بہت بڑا اجر ہے۔ اس طرح اس آیت سے ترغیب الی الانفاق کی طرف اشارہ ہے۔
Top