Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 14
وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ
وَمَا تَفَرَّقُوْٓا : اور نہیں اختلاف کیا اِلَّا : مگر مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے جو مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ : آگیا ان کے پاس علم بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ : سرکشی کی وجہ سے، ان کے اپنے درمیان وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةٌ : ایک بات سَبَقَتْ : جو پہلے گزرچکی مِنْ رَّبِّكَ : تیرے رب کی طرف سے اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّي : ایک وقت مقرر تک لَّقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الَّذِيْنَ : اور بیشک وہ لوگ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ : جو وارث بنائے گئے کتاب کے مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد لَفِيْ شَكٍّ : البتہ شک میں ہیں مِّنْهُ مُرِيْبٍ : اس کی طرف سے بےچین کردینے والے
اور جنہوں نے اختلاف ڈالا سو سمجھ آچکنے کے بعد13 آپس کی ضد سے اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو نکلی ہے تیرے رب سے ایک مقررہ وعدہ تک تو فیصلہ ہوجاتا ان میں اور جن کو ملی ہے کتاب ان کے پیچھے وہ البتہ اس کے دھوکے میں ہیں جو چین نہیں آنے دیتا
13:۔ ” وما تفرقوا “ یہ ایک شبہہ کا جواب ہے کہ جب تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین ایک ہی تھا اور مسئلہ توحید سب کا اجماعی دین تھا، تو جو کتابیں اور صحیفے ان پر نازل ہوئے، ان میں مسئلہ توحید کے خلاف مضامین کیوں پائے جاتے ہیں ؟ اس کا جواب دیا گیا کہ بیشک تمام انبیاء (علیہم السلام) مسئلہ توحید پر متفق تھے اور یہی مسئلہ توحید کے خلاف مضامین کیوں پائے جاتے ہیں ؟ اس کا جواب دیا گیا کہ بیشک تمام انبیاء (علیہم السلام) مسئلہ توحید پر متفق تھے اور یہی مسئلہ ان کی طرف وحی کیا گیا، لیکن بعد میں دنیا پرست، باغی اور گمراہ کن علماء اور پیشواؤں نے حق کو سمجھنے کے بعد جان بوجھ کر کتب سابقہ میں تحریف کر ڈالی اور ان میں توحید کے خلاف عبارتیں اپنی طرف درج کردیں اور یہ سب کچھ انہوں نے محض ضد وعناد کی وجہ سے کیا ہے۔ اس سے تین باتیں معلوم ہوئی۔ اول یہ کہ توحید میں اختلاف کس نے ڈالا ؟ مشرک پیشواؤں اور گمراہ کن زر پرست علماء نے۔ دوم، اختلاف کب ڈالا ؟ جب ان کے پاس علم آگیا اور ان کو حق معلوم ہوگیا، گویا یہ اختلاف انہوں نے جان بوجھ کر ڈالا ہے، کسی غلط فہمی کی بنا پر نہیں ڈالا۔ سوم، اختلاف کیوں ڈالا ؟ محض ضد وعناد اور سرکشی کی وجہ سے۔ ” ولولا کلمۃ سبقت “ یہ اس شبہہ کا جواب ہے کہ پھر ان معاندین پر فورًا عذاب کیوں نہ آیا ؟ فرمایا، عذاب کے لیے ایک وقت مقرر تھا (قیامت کا دن یا اواخرحیات) ۔ اگر وقت معین نہ ہوتا تو اسی وقت ہی ان کا قصہ تمام کردیا جاتا۔ اجل مسمی ھو یوم القیامۃ او اخر اعماھم المقدرۃ (بیضاوی) وان الذین اور ثوا الکتاب الخ “۔ ان محرف اور گمراہ کن پیشواؤں سے وہ کتابیں جب بعد میں آنے والے لوگوں کو ملیں، تو وہ بھی ان محرف اور تبدیل شدہ کتابوں کو پڑھ کر مسئلہ توحید کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہوگئے۔ آگے چار امور مذکور ہیں جو ماقبل پر متفرع ہیں۔
Top