Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 21
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اَمْ لَهُمْ : یا ان کے لیے شُرَكٰٓؤُا : کچھ شریک ہیں شَرَعُوْا : جنہوں نے مقرر کر رکھے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا لَمْ : جس کی نہیں يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ : اجازت دی ساتھ اس کے اللہ نے وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةُ : بات الْفَصْلِ : فیصلے کی لَقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ : اور بیشک ظالم لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب ہے دردناک
کیا ان کے20 لیے اور شریک ہیں کہ راہ ڈالی ہے انہوں نے ان کے واسطے دین کی کہ جس کا حکم نہیں دیا اللہ نے اور اگر نہ مقرر ہوچکی ہوتی ایک بات فیصلہ کی تو فیصلہ ہوجاتا ان میں اور بیشک جو گناہگار ہیں ان کو عذاب ہے دردناک
20:۔ ” ام لہم شرکاء “ یہ دوسرے دعوے م سے متعلق ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی شریعت تو یہی تھی کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور صرف اسی کو پکارو، تو کیا ان کے گمراہ پیشواؤں نے اللہ کی شریعت کے خلاف کوئی ایسی شریعت کے ان کے لیے بنا دی ہے اور ان کو غیر اللہ کو پکارنے کی اجازت دی ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی ؟ حاصل یہ ہے کہ شریعت حقہ وہی ہے جو اللہ نے تمام رسولوں کے پاس بھیجی اس کے خلاف کسی کو اپنی طرف سے اختراع و ایجاد کی اجازت نہیں۔ ” ولولا کلمۃ الفصل “ تا ” وھو واقع بہم “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” کلمۃ الفصل “ یعنی عذاب کے لیے اجل معین اگر ان کے عذاب کے لیے وقت معین نہ ہوتا، تو کبھی کا ان کا قصہ پاک کیا جاچکا ہوتا۔ ایسے ظالموں کیلئے جو خدا کی شریعت کے مقابلے میں احکام وضع کرتے ہیں اور جو ان پر عمل کرتے ہیں، نہایت ہی دردناک عذاب تیار ہے۔ قیامت کے دن تو ان مشرکین کو دیکھے گا کہ وہ اپنے کرتوتوں کی سزا سے خائف اور لرزاں ہوں گے، لیکن اس سے کچھ فائدہ نہ ہوگا اور ان کے اعمال کی سزا ان کو مل کر رہے گی۔
Top