Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 28
وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يُنَزِّلُ : جو اتارتا ہے الْغَيْثَ : بارش کو مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ قَنَطُوْا : وہ مایوس ہوگئے وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ : اور پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت کو وَهُوَ : اور وہ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ : کارساز ہے۔ دوست ہے، تعریف والا ہے
اور وہی ہے جو اتارتا ہے مینہ28 بعد اس کے کہ آس توڑ چکے اور پھیلاتا ہے اپنی رحمت اور وہی ہے کام بنانے والا سب تعریفوں کے لائق
28:۔ ” وھو الذی ینزل “ یہ آیت پہلے دعوے سے متعلق ہے اور توحید پر پہلی عقلی دلیل ہے جب لوگ بارش سے نامید ہوجاتے ہیں اور انہیں خشک سالی کا اندیشہ لاحق ہوجاتا ہے، اس وقت اللہ تعالیٰ ہی باران رحمت نازل فرما کر اپنی رحمت کو عام کردیتا ہے۔ وہی تمام صفات الوہیت کا مالک اور وہی سب کا کارساز ہے۔ ” ومن ایاتہ الخ “ اس کی وحدانیت اور قدرت کاملہ کے دلائل میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اور زمین دی اور جب چاہے سب کو اکٹھا بھی کرسکتا ہے اور جس طرح اس نے سب کو پہلی بار پیدا کرلیا اسی طرح وہ موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ ” فیھما “ ان دونوں میں حالانکہ جس جاندار مخلوق پر لفظ دابہ صادق آتا ہے وہ صرف زمین پر ہے۔ جو چیز دونوں میں سے ایک پر ہو اس پر یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ چیز ان میں سے ایک پر ہو اس پر یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ چیز ان میں ہے جیسا کہ فرمایا یخرج منہما اللؤلؤ والمرجان، حالانکہ موتی اور مونگا دونوں سے نہیں نکلتے بلکہ صرف سمندر شور سے نکلتا ہے۔ اور اس کی تائید سورة بقرہ (رکوع 20) کی آیت سے ہوتی ہے اس میں ہے وبث فیہا من کل دابۃ وما فی احد الشیئین یصدق انہ فیہما فی الجملۃ، فالایۃ علی اسلوب (یخرج منہما اللؤلؤ والمرجان) وذلک لقولہ تعالیٰ فی البقرۃ (وبث فیہا من کل دابۃ) (روح ج 25 ص 39) ۔
Top