Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور جو پڑے تم پر29 کوئی سختی سو وہ بدلہ ہے اس کا جو کمایا تمہارے ہاتھوں نے اور معاف کرتا ہے بہت سے گناہ
29:۔ ” وما اصابکم “ تا ” فمتاع الحیوۃ الدنیا “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ مصیبت سے مراد مشرکین کے لیے عذاب دنیوی ہے جو ان کے عناد و تعنت اور مشرکانہ اعمال کی سزا ہے اور مؤمن کے لیے وہ تکلیفیں مراد ہیں جو بطور امتحان و ابتلاء یا بطور کفارہ گناہ اس پر آتی ہیں۔ یہ مضمون قرآن مجید کی متعدد آیتوں میں مذکور ہے۔ (1) ظہر الفساد فی البرو البحر بما کسبت ایدی الناس لیذیقہم بعض الذی عملوا لعلہم یرجعون (روم رکوع 5) ۔ (2) ما اصاب من مصیبۃ الا باذن اللہ (تغابن رکوع 2) ۔ (3) وما اصاب من مصیبۃ قد اصبتم مثلیھا (آل عمران رکوع 17) ۔ (5) ۔ وما اصابکم یوم التقی الجمعان فباذن اللہ۔ ان تمام آیتوں سے مراد یا مشرکین کے لیے عذاب دنیوی ہے یا مومنوں کے لیے تکالیف مراد ہیں جو بطور امتحان و ابتلاء ان پر آتی ہیں۔ لیکن وہ گناہ جن سے اللہ تعالیٰ درگذر فرماتا اور ان کی سزا دنیا میں نہیں دیتا وہ ان گناہوں سے کہیں زیادہ ہیں جن کی سزا دنیا میں مل گئی۔ ” وما انتم بمعجزین “ اور تم اللہ تعالیٰ کو مصائب وآفات سے عاجز و درماندہ نہیں کرسکتے اور جب اس کی طرف سے مصائب آجائیں، تو اس کے سوا کوئی تمہارا حمایتی اور مددگار نہیں جو تمہیں ان مصائب سے نجات دلا سکے۔
Top