Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 36
فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ
فَمَآ اُوْتِيْتُمْ : پس جو بھی دیے گئے تم مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : تو سامان ہے الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی کا وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ : اور جو اللہ کے پاس ہے خَيْرٌ : بہتر ہے وَّاَبْقٰى : اور زیادہ باقی رہنے والا ہے لِلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَلٰي رَبِّهِمْ : اور اپنے رب پر يَتَوَكَّلُوْنَ : وہ توکل کرتے ہیں
سو جو کچھ ملا ہے تم کو کوئی چیز ہو سو وہ برت لینا ہے دنیا کی زندگانی میں اور جو کچھ اللہ کے یہاں ہے بہتر ہے31 اور باقی رہنے والا واسطے ایمان والوں کے جو اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں
31:۔ ” وما عنداللہ “ یہ بشارت اخرویہ ہے اور یہاں ان تین امور کا بیان بھی ہے جو عذاب خداوندی سے بچاتے ہیں (1) شرک نہ کرو۔ (2) ظلم نہ کرو اور (3) اھسان کرو۔ اللہ کی توحید پر ایمان لانے والوں، شرک نہ کرنے والوں اور ہر معاملے میں اپنے خدا پر بھروسہ کرنے والوں کے لیے اللہ کے یہاں جو اجر وثواب اور انعام وعطاء محفوط ہے وہ دنیوی ساز و سامان سے کہیں بہتر اور پائیدار ہے۔ اس میں عذاب سے بچنے کیلئے امر اول کا بیان ہے۔ ” والذین یجتنبون الخ “ ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ کبائر و فواحش سے اجتناب کرتے ہیں۔ ظلم بھی کبیر گناہ ہے اور ان کی تیسری صفت یہ ہے کہ جب ان کو غصہ آجائے تو احسان کرتے اور درگذر کرتے ہیں۔
Top